| 86411 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
میرا ابھی نکاح نہیں ہوا، میں موبائل چلا رہا تھا۔ میرے سامنے ایک ویڈیو آئی ،جس میں طلاق قبل از نکاح کے بارے بتایا گیا تھا، اس ویڈیو کےدیکھنے کے بعد میرے ذہن میں خیال آیا کہ میری ہونے والی بیوی کو طلاق ہے، اب یہ یاد نہیں ہےکہ کھسر پھسر کے برابر آ واز نکلی یا آواز نہیں نکلی۔ میں جیسے جیسے اس بارے میں مطالعہ کرتا رہا تو میرے وسوسے بڑھتے گئے ۔کچھ دن بعد مجھے خیال ہوا کہ جس عورت کے ساتھ میں نے نکاح کیا اس کو طلاق یا جس بھی عورت کے ساتھ میں نے نکاح کیا اس کو طلاق ۔اس میں ایک کی آواز کھسر پھسر کے برابر تھی ، شاید میں نے یہ کہاکہ جو بھی عورت میرے نکاح میں آئےاس کو طلاق، آ واز منہ سے نہ نکلی ۔ اب یہ یاد نہیں ہےکہ کھسر پھسر کے برابر آ واز نکلی یا آواز نہیں نکلی۔ رات کو میں خوش ہو کر سو گیا کہ میں نے واحد کا صیغہ استعمال کیا ہے، یہ صرف پہلی بیوی کے لیے ہوگا باقیوں کے لیے نہیں ہوگا۔ صبح ہوئی تو میرے ذہن میں اور خیالات آئے کہ میں جن عورتوں سے نکاح کروں ان کو طلاق، اب یہ یاد نہیں ہےکہ کھسر پھسر کے برابر آ واز نکلی یا آواز نہیں نکلی۔ یہ بات واضح رہے کہ میں نے ابھی تک نکاح نہیں کیا ہے تو میں طلاق کا کیسے سو چ سکتا ہوں۔یہ صرف میرے اس بارے میں پڑھنے سوچنے اور سننے کی وجہ سے ہو رہا ہے، میری طلاق کی کوئی نیت نہیں ہے ۔اب مجھےطلاق با ئن کا علم ہو چکا تھا، میں نے سوچا کیوں نہ یہ دے دوں جس سے نکاح بچ جائے گا۔لہذا میں نے یہ کہناچاہا کہ اگر میں زنا کروں تو میری ہونے والی بیوی کو طلاق ،میں اپنے آپ کو سمجھا رہا تھا کہ اگر میں ہونے والی بیوی کے لفظ استعمال نہ کرتا تو کچھ بھی نہ ہوتا ،لیکن میرے منہ سے نکل گیا اگر میں نکاح کروں تو طلاق۔زنا کی بجائے غلطی سے نکاح کا لفظ آگیا اور میرا گمان غالب یہ کہتا ہے کہ آواز کھسر پھسر کے برابر سنی ہے ۔ اب میری نکاح کی کیا صورت ہے ؟ اور مجھے ان وساوس سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق کے واقع ہونے کے لیےعورت کانکاح میں ہونایا طلاق کی نسبت نکاح کی طرف ہونا ضروری ہے،اسی طرح بیوی پر طلاق واقع ہونے کے لیے طلاق کے الفاظ کا ہونا ضروری ہے اور ان الفاظ کی نسبت بیوی کی طرف ہونا بھی ضروری ہے ۔ اس لیے اگر زبان سے طلاق کے الفاظ نہ کہے جائیں محض دل میں خیال و وسوسہ آجائے تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی اسی طرح غیر ارادی طور پر یا مشکوک طورپر اگر زبان سے طلاق کے الفاظ سرزد ہو جائیں تو بھی طلاق واقع نہ ہوگی۔
صورت مسئولہ میں سائل کو نکاح سے پہلے وسوسہ میں مبتلا ہو کر طلاق کا محض خیال آتا رہا رہے،اور خیال کبھی اس کی زبان پر بھی آگیا ، لیکن اس کی آواز اتنی اونچی نہ تھی جس کو سنا جا سکے ،چونکہ ایسے میں شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی ، اس لئے اگر سائل نکاح کرےگا تو اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ۔ وہم اور وساوس کا سب سے مفید علاج یہی ہے کہ ان کی طرف بالکل توجہ نہ دی جائے۔
حوالہ جات
السنن لابن ماجہ (حدیث نمبر 2048):
حدثنا أحمد بن سعيد الدارمي، حدثنا علي بن الحسين بن واقد، قال: حدثنا هشام بن سعد، عن الزهري، عن عروةعن المسور بن مخرمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا طلاق قبل نكاح، ولا عتق قبل ملك .
رد المحتار على الدر المختار (ج:4، ص:224):
(قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله۔
وفیہ ایضاً (ج:2، ص:492): علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا.
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


