03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اکٹھے رہنے والے بھائیوں کے درمیان کاروبار میں شرکت کا حکم
86447شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

میرے والد اورچچا کل چار بھائی ہیں، کھانا پینا مشترک تھا، کبھی دو بھائی کام کرتے، کبھی تین بھائی کام کرتے، ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے، ایک بھائی گھر میں رہا،کبھی کوئی کام کیا توٹھیک، ورنہ اکثر گھر میں ہی رہا۔ بعد میں ایک بھائی کا کاروبار اس کے بڑے بیٹے نے سنبھالااور اپنے والد کے کاروبار کو بڑھا یا، یہاں تک کہ وہ  کروڑ پتی بن  گیا، اب ہم تین بھائی اپنے بھائی یا اس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک ساتھ تھے، اب تک علیحدہ نہیں ہوئے۔ ہم تینوں بھی اپنا سر مایہ لاتے ہیں۔ آپ بڑے بھائی بھی اپنا سرمایہ لے کر آجائیں، تاکہ ان کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے، بڑا بھائی کہتا ہے۔ میرے پاس صرف ساٹھ (60) لاکھ روپے ہے اور کچھ نہیں اور ان کا بڑا بیٹا کہتا ہے کہ یہ  کروڑوں روپیہ میں نے خود کمایا ہے، میرے والد کا نہیں، والد نے مجھے صرف ایک لاکھ روپے دیا تھا۔ ایک کروڑ میں نے لوگوں سے ادھار لیکر کاروبار کیا تھا۔  والد کا کچھ بھی نہیں تھا، میں نے لوگوں سے ادھار لیکر کاروبار کیا ہے۔ میں تنہا اس کا مالک ہوں۔ حالانکہ ہمیں پتہ ہے کہ یہ سب کچھ ابتداء والدیعنی ہمارے بڑے بھائی کا تھا، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ہم شریعت کی رو سے اپنے بھائی سے کھانا پینا اکٹھا ہونے کی بنیاد پر دعوی کر سکتے ہیں یا نہیں اور ہم تین بھائی اب بھی ایک ساتھ ہیں،  کام اورسرمایہ وغیرہ ہر کسی کا الگ ہے، کوئی گاڑیوں کا، کوئی حوالہ کا کاروبار کرتا ہے اگر ہم علیحدہ ہونا چاہیں تو گھر اور سرمایہ برابر تقسیم ہو گا یا ہر کوئی اپنے سرمایہ کا مالک شمارہوگا؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ  کافی عرصہ پہلے ایک بھائی گھر سے علیحدہ ہو گیا تھا اور علیحدہ ہوتے وقت اس نے باقی بھائیوں سے کہا تھا کہ اب میں اپنے بچوں کو خود سنبھالوں گا، یعنی خرچہ خود برداشت کروں گا، اس کے بعد اس کا بیٹا اس کے ساتھ کاروبار میں شریک ہوا تو اس نے کاروبار کو بڑھایا۔ باقی تین بھائی اب بھی گھر میں مشترکہ ہیں، البتہ ان تینوں بھائیوں کا کاروبار  بھی علیحدہ علیحدہ ہے اور تینوں بھائی اپنی آمدن بھی علیحدہ علیحدہ ہی رکھتے ہیں، اسی لیے انہوں نے اپنی آمدن سے مشترکہ طور پر کوئی پراپرٹی وغیرہ بھی نہیں خریدی، باقی ایک دوسرے تھوڑا بہت تعاون وہ ہمدردی کے طور پر کرتے ہیں، نہ کہ شرکت کے طور پر، اسی لیے اگر کسی کو رقم کی ضرورت ہو تو وہ دوسرے بھائی سے لے لیتا ہے اور پھر اس کو واپس ادا کر دیتا ہے، نیز ان کے درمیان شرکت کا کوئی معاہدہ بھی نہیں ہوا، اب پوچھنے کا مقصد بھی شک کو دور کرنا ہے کہ آیا ہم سب شریک ہیں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ بھائی (جس کے بیٹے نے اپنے باپ کے کاروبار کو کروڑوں تک پہنچایا) نے گھر سے علیحدگی اختیار کرتے وقت یہ کہا کہ آئندہ میں اپنے بیوی بچوں کو خود سنبھالوں گا اور اس کا کاروبار بھی علیحدہ تھا تو اسی وقت سے اس کی دیگر تینوں بھائیوں سے شرکت ختم ہو گئی، لہذا اب اس بھائی سے یہ مطالبہ کرنا کہ آپ بھی اپنا سرمایہ لے کر آؤ اور ہم بھی اپنا سرمایہ لاتے ہیں اور اس کو برابر تقسیم کرتے ہیں درست نہیں۔

اسی طرح دیگر تینوں بھائی بھی اگرچہ گھر میں اکٹھے رہتےتھے، مگر چونکہ ان سب کا کاروبار علیحدہ علیحدہ تھا، کاروبار کی نوعیت بھی ہر ایک کی مختلف تھی اور ہر کوئی اپنی آمدن بھی علیحدہ ہی رکھتا تھا، اس لیے یہ تینوں  بھائی بھی ایک دوسرے کےکاروبار میں شریک شمار نہیں ہوں گے، بلکہ  ہر بھائی اپنی آمدن کا خود مالک ہو گا، کسی دوسرے کو اس میں کسی قسم حصہ کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہو گا، البتہ وہ رقم جو گھر میں مشترکہ اخرجات کے لیے کسی نے دی تو وہ سب کی مشترکہ شمار ہو گی اور اس کے استعمال میں سب برابر سمجھے جائیں گے۔  

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (341/3) الناشر: دار الجيل:

الشركة تنعقد بالإيجاب والقبول لأن شركة العقد هي أحد العقود الشرعية ويجب أن يكون لها ركن كالعقود الشرعية الأخرى " الدرر وتعبير " لفظا أو معنى " الواردة هنا يعود على الإيجاب والقبول معا (الطحطاوي) فلذلك يتصور أربع صور في ركن الشركة:

1 - إيجاب لفظا وقبول لفظا. 2 - إيجاب معنى وقبول معنى.

3 - إيجاب لفظا وقبول معنى. 4 - إيجاب معنى وقبول لفظا .

وتنعقد الشركة في الصورتين الأولى والثالثة من هذه الصور الأربع كما هو مبين في المثالين الآتيي الذكر وهذان الإيجاب والقبول يكونان بالألفاظ الدالة على الشركة. ولا يشترط استعمال لفظ الشركة (البحر) . انظر المادة الثالثة. مثلا إذا أوجب أحد بقوله لآخر شاركتك بكذا درهما رأس مال للأخذ والإعطاء في نوع تجارة خاصة كبيع الغلال أو في عموم التجارة وقبل الآخر بقوله قبلت، فبما أنهما إيجاب وقبول لفظا فتنعقد الشركة. وفي هذا المثال قد ذكر لفظ الشركة وحذف المجلة المشتركة فيه هو بقصد التعميم والتعميم كما ذكر شرحا إما أن يكون المشترك فيه نوعا من أنواع التجارة أو يكون في عموم التجارة.

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

15/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب