| 86450 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ہماراگھرمیں کھانا پینا مشترک ہے، میں اپنے والد کا بڑا بیٹا ہوں، میرے تین چچا ہیں۔ بڑے بیٹے بھی اپنے اپنے کام کرتے ہیں۔ ایک چچا گھر میں بیمار ہتا ہے۔ میرا والد بھی کافی عرصہ سے گھر میں ہے، چچاکے گھر کا خرچہ بھی کافی وقت سے میں نے چلایا۔ کیونکہ کھانا پینا ایک ساتھ تھا۔ ہم نے دو پلاٹ خریدے، ایک پلاٹ کی رقم میرے ایک چچا نے دی۔ ایک پلاٹ کی رقم میں نے دی، تعمیرات دونوں پلاٹوں کی میں نے کروائی، تعمیر میں ساراروپیہ میرا لگا۔ اب اگر ہم علیحدہ ہونا چاہیں توکیا میں اور میرا چچا اپنے اپنے پلاٹوں کے مالک ہیں یا مشترک شمار ہو ں گے۔نیزکیا میں اپنے پلاٹ کی تعمیرات کے ساتھ اپنے چچا والے پلاٹ کی تعمیرات کا ان سے کا مطالبہ کر سکتاہو یا نہیں؟
وضاحت: سائل نے بتایا کہ ہر کوئی اپنی آمدن علیحدہ علیحدہ رکھتا ہے،پہلے یہ لوگ کرایہ کے گھر میں ہرتے تھے، اس لیے دو پلاٹ خریدے گئے اور دونوں علیحدہ علیحدہ نام کروائے گئے اور خاندان میں بھی سب کو علم ہے کہ یہ پلاٹ فلاں کا ہے اور یہ پلاٹ فلاں کا ہے، بھتیجے نے دونوں پلاٹ تعمیر کروا ئے تھے، تاکہ رہائش میں سہولت ہو، کیونکہ گھر میں سب اکٹھے رہتے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں بھتیجے نے چچا کے پلاٹ پر جو تعمیر کروائی ہے وہ حقیقت میں اس نے چچا کے خاندان کی رہائش کے لیے تعمیر کروائی تھی اس لیے یہ تعمیر چچا کی شمار ہو گی، البتہ اس تعمیر پر جتنا خرچہ ہوا بھتیجا وہ تمام خرچ چچا سے وصول کرنے کا حق رکھتا ہے، کیونکہ یہ رقم گویاچچا کے ذمہ بطور دین (قرض) واجب ہے، جس کی ادائیگی اس کے ذمہ لازم ہے۔
حوالہ جات
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488) دار إحياء التراث العربي:
ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له أي للزوج عليها أي على الزوجة لأنه غير متطوع فيرجع عليها لصحة الأمر فصار كالمأمور بقضاء الدين.
وإن عمّرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق فلا يكون له الرجوع عليها به وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه فيكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين لكن بقي صورة وهي أن يعمر لنفسه بإذنها ففي الفرائد ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته انتهى.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 141) دار المعرفة، بيروت:
المستأجر إذا عمر في الدار المستأجرة عمارات بإذن الآجر يرجع بما أنفق وإن لم يشترط الرجوع صريحا.
مجلة الأحكام العدلية (1 /100) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
التعميرات التي أنشأها المستأجر بإذن الآجر إن كانت عائدة لإصلاح المأجور وصيانته عن تطرق الخلل كتنظيم الكرميد (أي القرميد وهو نوع من الآجر يوضع على السطوح لحفظه من المطر) فالمستأجر يأخذ مصروفات هذه التعميرات من الآجر وإن لم يجر بينهما شرط على أخذه وإن كانت عائدةً لمنافع المستأجر فقط كتعمير المطابخ فليس للمستأجر أخذ مصروفاتها ما لم يذكر شرط أخذها بينهما.
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
15/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


