03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آزاد کے لفظ سے طلاق کا حکم
86402طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہماری شادی کو پندرہ سال ہو گئے ہیں، الحمدللہ، اور ہم قطر میں مقیم ہیں۔ ہم بہت خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے شوہر بہت اچھے ہیں، ماشاءاللہ، اور انہوں نے مجھے ہر طرح سے آرام اور سکون فراہم کیا ہوا ہے۔ وہ مجھے اور میرے بچوں کو دین کے راستے پر لے کر چل رہے ہیں۔ ماشاءاللہ، وہ ہمیں تین بار عمرہ پر بھی لے کر گئے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔

ایک دن صبح میں نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ کیا آپ بڑی بیٹی کو یہاں قطر میں صرف میٹرک تک تعلیم دلائیں گے یا ایف ایس سی بھی کروائیں گے؟ تو وہ کہنے لگے کہ ایف ایس سی بھی یہاں ہی کروائیں گے۔ میں نے کہا کہ ایف ایس سی پاکستان سے کروا لیں تاکہ وہ وہاں کے کالج میں داخلہ لے سکے۔ اس پر میرے شوہر نے کہا کہ میں اپنے بچوں کے فیصلے خود کروں گا اور آرمی میڈیکل کالج بھی دیکھوں گا، اور اگر اس دوران کوئی مناسب رشتہ آیا تو دے دوں گا۔ مجھے یہ بات بہت عجیب لگی کہ میں ماں ہوں، مگر مجھ سے کوئی مشورہ نہیں لیا جا رہا۔اس دوران میں نے اپنے شوہر سے شکوے کرنے شروع کیے تو وہ کہنے لگے کہ مشورہ ضرور لوں گا، لیکن فیصلہ میرا ہوگا۔ ہماری گفتگو بہت نارمل انداز میں ہوئی، یعنی آواز دھیمی رہی۔ اس دوران کوئی لڑائی یا جھگڑا نہیں ہوا۔میں نے ناشتہ بنایا اور سب نے مل کر ناشتہ کیا۔ ناشتے پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔ اس کے بعد میرے شوہر ہال میں بیٹھ گئے اور کام میں مصروف ہو گئے۔ میں ان کے کپڑے استری کرنے لگی اور باقی گھر کے کام کاج میں لگ گئی۔اسی دوران بیٹی کومیرے پاس بھیجاکہ ماماسے کہانے کاپوچھو،بیٹی آئی اور پوچھاتومیں نے کہا کہ ابھی پیٹ بھرا ہوا ہے، شام کا کھانا جلدی کھا لیں گے، کیونکہ جمعے والے دن ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی میرے شوہر نے کہا کہ کچھ کھانے کے لیے بنا لو۔ میں نے رات کی دال گرم کی، روٹیاں بنائیں اور ساتھ کباب اور سلاد بھی تیار کیا۔ جب کھانا لگ گیا تو سب کھانے کے لیے آ گئے۔میں آخری روٹی پکا رہی تھی، اور سوچا کہ برتن دھو لوں گی اور پھر کھانے بیٹھوں گی۔ اسی دوران میرے شوہر واش روم سے نکل کر کچن میں آئے اور پوچھنے لگے کہ تم نے کھانا کیوں نہیں بنایا؟ انہیں ایسا لگا کہ شاید میں ناراض ہوں اور کھانے پر نہیں آ رہی۔ وہ کہنے لگے کہ تم یہ سب کیوں کرتی ہو؟ اس طرح کرنے سے تم خود ہی دور ہو رہی ہو۔ تم میرے لیے صرف بچوں کی ماں ہو۔ یہ باتیں انہوں نے شکوے کے انداز میں کہیں، لیکن ان کا لہجہ سخت نہیں تھا۔پھر اچانک کسی بات پر غصہ آ گیا، اور وہ کہنے لگے کہ تم آزاد ہو پھرچپ ہوگئے، پھر "تم آزاد ہو"۔ یہ بات انہوں نےتین یا چار مرتبہ کہی اور پھر کہنےلگے کہ دفع ہو جا، اپنے گھر والوں کو بتا دو ، تم آزاد ہو،لیکن اپنے فیصلوں میں، میرے بچوں کے معاملے میں نہیں۔

میرے شوہر کی یہ عادت ہے کہ جب بھی ہماری ہلکی سی لڑائی ہوتی ہے، وہ میرے گھر والوں کو بتانے کی دھمکی ضرور دیتے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ میں اس بات سے ڈرتی ہوں کہ میرے والدین کو نہ بتایا جائے، کیونکہ وہ پریشان ہو جائیں گے۔اگر لڑائی زیادہ ہو جائے تو وہ میری امی یا بھائی کو کال کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ کبھی تو نمبر ملا کر بھی رکھ دیتے ہیں تاکہ مجھے ڈرایا جا سکے۔ تاہم، ایسا کم ہوتا ہے کہ وہ واقعی میرے گھر والوں کو شامل کریں۔ ان کا مقصد مجھے ڈرانا ہوتا ہے۔

اس واقعے کے بعد مجھے لگا کہ کہیں انہوں نے کچھ غلط تو نہیں بول دیا۔ میں نے موبائل پر سرچ کیا، اور پھر شوہر سے پوچھا کہ آپ نے جو کہا، اس کی نیت کیا تھی؟ وہ کہنے لگے کہ اس میں میری نیت ہرگز طلاق کی نہیں تھی۔ میرا مقصد صرف تمہیں Irritate کرنا تھا۔اس دوران میں خاموش رہی۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا، اور نہ ہی طلاق کا تذکرہ چل رہا تھا۔لڑائی بچوں کے مستقبل کے معاملے پر شروع ہوئی اور انہی کے مستقبل پر ختم ہوئی۔

واضح رہے کہ اس دوران میرےشوہرنے درج ذیل جملوں میں سے کوئی جملہ نہیں بولا:

تم میرے نکاح سے آزاد ہو (X)تم میری بیوی ہونے سے آزاد ہو (X)آج سے تم آزاد ہو (X)ہم دونوں ایک دوسرے سے بالکل آزاد ہیں (X)تم میری ذات سے الگ ہو (X)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال کے مطابق شوہر نے بیوی سے غصے کی حالت میں "تم آزاد ہو" کے الفاظ کہے، اگرچہ ان الفاظ کے ذریعے شوہر کی طلاق کی نیت نہیں تھی، لیکن شریعت میں یہ ایسےالفاظ کنایات میں شمار ہوتے ہیں، جن سے غصے کی حالت میں بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے،کیونکہ غصہ طلاق کاقرینہ ہے، لہٰذا جب شوہر نے پہلی مرتبہ بیوی کو یہ کہا کہ "تم آزاد ہو"، تو اس سے شرعاً ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی، جس کے نتیجے میں نکاح ختم ہو گیا تھا اور رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔ بعد میں شوہر نے جتنی بار بھی کہا کہ "تم آزاد ہو"، تو ان الفاظ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

طلاق مذکور کے بعد اگر میاں بیوی ساتھ رہے، تو یہ ساتھ رہنا شرعی طور پر ناجائز تھا،دونوں پر لازم ہے کہ صدق دل سے توبہ و استغفار کریں اور دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ تجدید نکاح کریں۔ تجدید نکاح کے بعد شوہر کو آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔

اور اگر دوبارہ نکاح کرنے پر فریقین میں سے کوئی فریق راضی نہ ہو تو سائلہ اپنے شوہر سے جدائی کے وقت سے عدت (تین حیض، اگر حمل نہ ہو، اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک) پوری کرے، اور اس کے بعد وہ دوسری جگہ اگر نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 101)

إذا قال لامرأته: كوني حرة أو عتقى ولو قال: يا مطلقة وقع عليها الطلاق؛ لأنه وصفها بكونها مطلقة ولا تكون مطلقة إلا بالتطليق، فإن قال: أردت به الشتم لا يصدق في القضاء؛ لأنه خلاف الظاهر.

رد المحتار :باب صریح الطلاق(3/ 252،ط: ايچ، ايم سعید):

"ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف، (قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية."

وفیه ایضا:

"وكونه التحق بالصريح للعرف لاينافي وقوع البائن به، فإن الصريح قد يقع به البائن كتطليقة شديدة ونحوه: كما أن بعض الكنايات قد يقع به الرجعي، مثل اعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة.والحاصل أنه لما تعورف به الطلاق صار معناه تحريم الزوجة، وتحريمها لا يكون إلا بالبائن، هذا غاية ما ظهر لي في هذا المقام، وعليه فلا حاجة إلى ما أجاب به في البزازية من أن المتعارف به إيقاع البائن، لما علمت مما يرد عليه، والله سبحانه وتعالى أعلم".(3 /300، باب الکنایات، ط؛ سعید)

رد المحتار :باب صریح الطلاق(3/ 308،ط: ايچ، ايم سعید)

"(قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح، وقيد بقوله الذي لا يلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال"

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 185دار الكتاب الإسلامي:

 وظاهر كلامهم أن المتاركة لا تكون من المرأة أصلا كما قيده الزيلعي بالزوج لكن في القنية أن لكل واحد منهما أن يستبد بفسخه قبل الدخول بالإجماع وبعد الدخول مختلف فيه وفي الذخيرة ولكل واحد من الزوجين فسخ هذا النكاح بغير محضر من صاحبه عند بعض المشايخ وعند بعضهم إن لم يدخل بها فكذلك وإن دخل بها فليس لواحد منهما حق الفسخ إلا بمحضر من صاحبه اهـوهكذا في الخلاصة، وهذا يدل على أن للمرأة فسخه بمحضر الزوج اتفاقا ولا شك أن الفسخ متاركة إلا أن يفرق بينهما وهو بعيد والله سبحانه وتعالى أعلم

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 276) دار احياء التراث العربي – بيروت:

" والمعتدة عن وفاة إذا وطئت بشبهة تعتد بالشهور وتحتسب بما تراه من الحيض فيها " تحقيقا للتداخل بقدر الإمكان " وإبتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها " لأن سبب وجوب العدة الطلاق أو الوفاة فيعتبر ابتداؤها من وقت وجود السبب ومشايخنا رحمهم الله يفتون في الطلاق أن ابتداءها من وقت الإقرار نفيا لتهمة المواضعة " والعدة في النكاح الفاسد عقيب التفريق أو عزم الواطئ على ترك وطئها " وقال زفر رحمه الله من آخر الوطآت لأن الوطء هو السبب الموجب ولنا أن كل وطء وجد في العقد الفاسد يجري مجرى الوطأة الواحدة لاستناد الكل إلى حكم عقد واحد ولهذا يكتفى في الكل بمهر واحد فقبل المتاركة أو العزم لا تثبت العدة مع جواز وجود غيره ولأن التمكن على وجه الشبهة أقيم مقام حقيقة الوطء لخفائه ومساس الحاجة إلى معرفة الحكم في حق غيره.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

15/7/1446ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / شہبازعلی صاحب