03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق کے بعد دوسرے شخص سے حلالہ کروانے کا حکم
86470طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم !سوال یہ ہے کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہوں اور اب وہ کسی شخص سے کہے کہ تم میری بیوی سے شادی کرو اور کمرے میں داخل ہوتے ہی طلاق دے دینا ، پھر میں دوبارہ اپنی بیوی سے شادی کر لوں گا، تو کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی عورت کو تین طلاق ہو جائے تو اس کا نکاح سابقہ شوہر سے صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب کہ یہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرنے کے بعد وہ فوت ہو جائے یا طلاق دے دے تو اب  عدت گزار کر یہ عورت سابقہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔ اگر کوئی دوسرا شخص پہلے سے شرط لگا کر نکاح کرےگا تو اس پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے اور اگر اس کام پر اجرت بھی مقرر کر لی جائے توحدیث میں ایسے شخص کو کرائے کا سانڈ قرار دیا گیا  ہے۔ اگرچہ اس طرح کرنے سے تحلیل ہو جائے گی لیکن یہ کام انتہائی قبیح ہے۔

سوال میں جو ذکر ہے کہ کمرے میں داخل ہوتے ہی طلاق دے دینا، اس سے وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال نہ ہو گی۔

حوالہ جات

في الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.أما الإنزال فليس بشرط للإحلال. (الفتاوى الهندية :1/ 473)

قال داماد أفندي رحمہ اللہ تعالی :(والشرط) في الحل للزوج الأول (الإيلاج) أي إدخال ‌الثاني حشفته (دون الإنزال) ؛ لأنه كمال الجماع خلافا للحسن البصري. (مجمع الأنهر 1:/ 439)

قال ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی:(قوله وكره بشرط التحليل للأول) أي ‌كره ‌التزوج للثاني بشرط أن يحلها للأول بأن قال تزوجتك على أن أحللك له أو قالت المرأة ذلك أما لو نويا كان مأجورا لأن مجرد النية في المعاملات غير معتبر، وقيل المحلل مأجور، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر كذا في البزازية، والمراد بالكراهة كراهة التحريم فينتهض سببا للعقاب لما روى النسائي، والترمذي، وصححه مرفوعا «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحلل، والمحلل له ». (البحر الرائق: 4/ 63)

محمد اسماعیل بن نجیب الرحمان

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۱۷ رجب ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل ولد نجیب الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب