| 86485 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
اجمل خان کے نام پر 48 کنال زمین ہے اور اجمل خان معذور ہے، اجمل خان کے بھتیجے اس کو تنگ کرتے ہیں کہ زمین ہمارے نام پر کر دو، اجمل خان کے تین بھائی تھے جو کہ وفات ہوچکے ہیں اور پانچ بہنیں ہیں، جن میں سے ایک زندہ ہے اور چار بہنیں وفات پا چکی ہیں، اجمل خان کی اولاد نہیں ہے، اس کی بیوی زندہ ہے، بیوی کے تین بھائی اور چار بہنیں ہیں، جس میں سے ایک بھائی سگا اور تین بہنیں سگی ہیں، جبکہ دو بھائی سگے نہیں اور ایک بہن سگی نہیں اور یہ لوگ زندہ ہیں ۔اب اگر اجمل خان بیوی سے پہلے وفات پاجاتے ہیں تو اس کی یہ زمین کن لوگوں میں تقسیم ہو گی؟ اس بارے میں مفتی صاحب رہنمائی فرمائیں!
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر اجمل خان اپنی بیوی کی زندگی میں وفات پا جاتے ہیں تو ان کے ترکہ سے ان کے تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے، واجب الاداء قرض ادا کرنے اور ان کی طرف سے کی گئی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد بقیہ مکمل ترکہ ان کی بیوی، بہن اور بھتیجوں میں تقسیم ہو گا، جس میں سے آدھا حصہ بہن کو، چوتھائی حصہ بیوی کو اور بقیہ ترکہ بھتیجوں میں برابر تقسیم ہو گا، ان كے علاوه ان کی بھتیجیاں اوربھانجے بھانجیاں اس کے ترکہ میں سے کسی حصہ کی حق دار نہیں ہوں گی، آسانی کے لیے تقسیمِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوی |
3 |
25% |
|
2 |
بہن |
6 |
50% |
|
3 |
بھتیجے |
3 |
25% |
حوالہ جات
السراجية في الميراث (1/ 20) مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:
أما للزوجات فحالتان: الربع للواحدة فصاعدة عند عدم الولد وولد الابن وإن سفل، والثمن مع الولد أو ولد الابن وإن سفل.
السراجية في الميراث (1/ 24) مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:
وأما للأخوات لأب وأم فأحوال خمس: النصف للواحدة، والثلثان للاثنتين فصاعدة، ومع الأخ لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين يصرن به عصبة لاستوائهم في القرابة إلى الميت.
السراجية في الميراث (1/ 11) مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:
قال علماؤنا رحمهم الله تعالى تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولا تقتير، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة، فيبدأ بأصحاب الفرائض وهم الذين لهم سهام مقدرة في كتاب الله تعالى، ثم بالعصبات من جهة النسب، والعصبة كل من يأخذ ما أبقته أصحاب الفرائض وعند الانفراد يحرز جميع المال.
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
17/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


