| 86497 | علم کا بیان | علم کے متفرق مسائل کابیان |
سوال
اگر کوئی استاذ اپنے شاگرد کوتجوید و قراءت کی سند یوں یاد کروائے کہ میں نے تجوید اور قراءت فلاں استاذ سے پڑھی، انہوں نے فلاں سے اور انہوں نے فلاں سے، یہاں تک کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متصل استاذ اور شیخ تک سند پہنچادے اور کہے کہ انہوں نے تجوید و قراءت حضرت عثمان، حضرت زید وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پڑھی، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام سے پڑھی اور حضرت جبریل علیہ السلام نےتجوید اللہ تعالی سے پڑھی تو سوال یہ ہے کہ:
(1)۔۔۔ کیا یہ درست ہے؟ جبکہ قرانِ کریم کی نصوص سےمعلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام (علیہم السلام) مخلوق میں کسی کےشاگرد نہیں ہوتے، بلکہ اللہ تعالی خود انبیاء کرام (علیہم السلام) کےمعلم ہیں۔ کیا اس انداز سےحضرت جبریل علیہ السلام کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پرفضیلت ثابت نہیں ہوتی؟
(2)۔۔۔ اگر ایسی مجلس میں موجود علمائے کرام اور طلبا وعوام اس طرح سند کا سلسلہ بیان کرنے پرنعرہ بازی کےذریعہ داد دیں توان کاکیاحکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(1)۔۔۔ انبیائے کرام علیہم الصلاة والسلام مخلوقات میں کسی کے شاگرد نہیں ہوتے، یعنی وہ ان سے اس طرح علم حاصل نہیں کرتےجس طرح ایک شاگرد اپنے استاذ سے علم حاصل کرتا ہے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبریل علیہ السلام کے شاگرد نہیں ہیں۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی لانے کا مبارک عمل حضرت جبریل علیہ السلام نے سر انجام دیا ہے اور قرآنِ کریم نے اس کو سورة النجم میں تعلیم کے الفاظ سے ذکر فرمایا ہے، ارشادِ ربانی ہے:- {إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (4) عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى (5) ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى (6) }.
ترجمہ: یہ (قرآنِ کریم) تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے، (4) انہیں ایک ایسے مضبوط قوت والے فرشتے نے تعلیم دی ہے، (5) جو قوت کا حامل ہے، چنانچہ وہ سامنے آگیا (6)۔ (آسان ترجمۂ قرآن، صفحہ:1111)
لہٰذا اس بات کو بیان کرنے کے لیےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قرآنِ کریم حضرت جبریل علیہ السلام کے واسطے سے آیا ہے، سوال میں ذکر کردہ تعبیر اختیار کرنا فی نفسہ درست ہے، لیکن تعبیر کی نفسِ صحت کے ساتھ زبان و بیان اور سامعین کی ذہنی سطح کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، اس لیے ایسے بے غبار الفاظ کا انتخاب کرنا چاہیے جن سے لوگ کسی غلط فہمی کا شکار یا شکوک و شبہات میں مبتلا نہ ہوں۔
(2)۔۔۔ سند سنانے والے کی حوصلہ افزائی اور تحسین کی گنجائش ہے، البتہ اس میں اعتدال اور وقار کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
(1) القرآن الکریم، سورة النجم:
{وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى (1) مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى (2) وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى (3) إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (4) عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى (5) ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى (6) وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى (7) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى (8) فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى (9) فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى (10)} .
(2) الجامع لأحكام القرآن (17/ 86):
قوله تعالى : {عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى} يعني جبريل عليه السلام في قول سائر المفسرين ؛ سوى الحسن فإنه قال : هو الله عز وجل ، ويكون قوله تعالى : {ذُو مِرَّةٍ} على قول الحسن تمام الكلام ، ومعناه ذو قوة والقوة من صفات الله تعالى.
(3) التبيان في أيمان القرآن للعلامة ابن القیم (1/ 191):
فصل:ثُمَّ ذكر -سبحانه- المقسَم عليه وهو "القرآن"، وأخبر أنَّه قولُ رسولٍ كريمٍ، وهو -هاهنا-: جبريل- قطعًا-؛ لأنَّه ذكَرَ صفتَهُ بعد ذلك بما يُعيِّنُه به…….. وَوَصَفَ رسولَهُ المَلَكيَّ في هذه السورة بأنَّه: كريمٌ، قويٌّ، مكينٌ عند الرَّبِّ تعالى، مطاعٌ في السماوات، أمينٌ. فهذه خمسُ صفاتٍ تتضمَّن تزكية سَنَدِ القرآن، وأنَّه سماعُ محمدٍ من جبريلَ، وسماعُ جبريلَ من ربِّ العالمين. فَنَاهِيك بهذا السَّنَدِ عُلُوًّا وجلالةً؛ تولَّى اللهُ -سبحانه- بنفسه تزكيتَهُ:…. الوصف الثاني: أنَّه "ذُو قوَّةٍ"، كما قال في موضعٍ آخر: {عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى (5)} [النجم: 5].
(4) التبيان في أيمان القرآن (1/ 199):
ويرجحه -أيضا- أنه -سبحانه- نفى أقسام الكذب كلها عما جاء به من الغيب، فإن ذلك لو كان كذبا: فإما أن يكون منه، أو ممن علمه.وإن كان منه: فإما أن يكون تعمده، أو لم يتعمده.فإن كان من معلمه فليس هو بشيطان رجيم، وإن كان منه مع التعمد فهو المتهم -ضد الأمين-، وإن كان عن غير تعمد فهو المجنون. فنفى -سبحانه- عن رسوله ذلك كله، وزكى سند القرآن أعظم التزكية، فلهذا قال سبحانه: {وما هو بقول شيطان رجيم (25)} أي: ليس بتعليم الشيطان، ولا يقدر عليه، ولا يحسن منه، كما قال تعالى: {وما تنزلت به الشياطين (210) وما ينبغي لهم وما يستطيعون (211)} [الشعراء: 210 - 211]، فنفى فعلهم، وانبغاءه منهم، وقدرتهم عليه.
(5) التبيان في أيمان القرآن (1/ 371):
فصل: ثم أخبر -تعالى- عن وصف من علمه الوحي والقرآن، بما يعلم أنه مضاد لأوصاف الشيطان معلم الضلال والغواية، فقال: {علمه شديد القوى (5)}، وهذا نظير قوله تعالى: {ذي قوة عند ذي العرش مكين } [التكوير: 20]، وذكرنا هناك السر في وصفه بالقوة ……….وهذا تعديل لسند الوحي والنبوة، وتزكية له كما تقدم نظيره في "سورة التكوير".
(6) تفسير الفخر الرازى (ص: 980):
فإن قيل : إنه تعالى خص آدم بالعلم ، فقال : {وعلم آدم الأسمآء كلها} (البقرة : 31)، وأما محمد عليه السلام فقال في حقه : {ما كنت تدرى ما الكتـاب ولا الايمـان} (الشورى : 52) وقال : {ووجدك ضآلا فهدى } (الضحى : 7) وأيضا فمعلم آدم هو الله تعالى ، قال : {وعلم آدم الأسمآء} ومعلم محمد عليه السلام جبريل عليه السلام لقوله : {علمه شديد القوى } (النجم : 5).
والجواب : أنه تعالى قال في علم محمد صلى الله عليه وسلم : {وعلمك ما لم تكن تعلم وكان فضل الله عليك عظيما} (النساء : 113)، وقال عليه السلام : "أدبني ربي فأحسن تأديبي"، وقال تعالى : {الرحمـان ٭ علم القرآن} (الرحمن : 2)، وكان عليه السلام يقول : (أرنا الأشياء كما هي)، وقال تعالى لمحمد عليه السلام : {وقل رب زدنى علما} (طه : 114).
وأما الجمع بينه وبين قوله تعالى : {علمه شديد القوى } فذاك بحسب التلقين، وأما التعليم فمن الله تعالى ، كما أنه تعالى قال : {قل يتوفـاكم ملك الموت} (السجدة : 11)، ثم قال تعالى : {الله يتوفى الانفس حين موتها} (الزمر : 42).
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
17/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


