03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نالے پر لینٹر ڈال کر مسجد بنانے کا حکم
86464وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

سوال: ہمارے گاؤں میں ایک نالہ ہے جس میں بارش کا پانی بہتا ہے اور کچھ گھروں کی نکاسی بھی اسی نالے میں ہوتی ہے۔ بعض لوگوں نے اپنے گٹر کا پانی بھی اس نالے میں چھوڑا ہوا ہے۔  اس سے متعلق درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

  1. کیا ہم اس نالے پر لینٹر ڈال کر مسجد بنا سکتے ہیں؟
  2. کیا یہ شرعی مسجد کہلائے گی؟
  3. کیا اس مسجد میں اعتکاف کرنا جائز ہوگا؟
  4. اس مسجد میں نماز پڑھنے پر مسجد کا ثواب ملے گا؟
  5. اگر مسجد کے نیچے کا حصہ بھی مسجد کے حکم میں ہو، تو کیا اس نالے میں بہنے والے گندے پانی کا کوئی گناہ ہوگا؟
  6. مالک کی دوسری زمینیں جو نالے کے اس طرف واقع ہیں، ان کی طرف کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔کیا ایسی صورت میں کبھی کبھار ضرورتاً مسجد کے نیچے سے ٹریکٹر ٹرالی گزارنا جائز ہوگا؟ واضح رہے کہ ہم نے دوسری جگہ مسجد بنانے کی بہت کوشش کی لیکن جگہ نہیں ملی۔ لہٰذا مجبوری کے تحت نالے کے مالک جس کی زمین میں یہ نالہ واقع ہے،اس  سے اجازت لے کر مسجد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت  میں واقعی اگر   گاؤں میں دوسری کوئی زمین مسجد کے لیے میسر نہیں ہے اور نالہ جس زمین پر ہے وہ کسی  کی ملکیت ہےاور مالک وہ جگہ مسجد کے لیے وقف کردے تو مذکورہ نالے پر لینٹر ڈال کر مسجد بنانے سے وہ جگہ مسجد شرعی بن جائے گی۔تب اس میں اعتکاف کرنا بھی درست ہے اور اس  میں نماز پڑھنے سے مسجد  کا ثواب بھی ملے گا۔

نالہ اگرچہ خاص مسجد کے مصالح میں شامل نہیں، لیکن رفاہ عامہ کے لیے ہے اور کسی بندے کے خاص استعمال میں نہیں،اس لیے مسجد بنانے سے پہلے اس کا استثناء بھی درست ہوگا۔اور جب استثناء درست ہوا تو نیچے بہنے والے گندے  پانی اور ٹریکٹر ٹرالی کے گزارنے کی بھی گنجائش ہوگی۔

حوالہ جات

      قال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:قوله:(وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد.(رد المحتار:340/4)

      وقال العلامۃ برهان الدین رحمہ اللہ تعالی:وفي "الأجناس" في "نوادر هشام": قال: سألت محمد بن الحسن عن نهر قرية كثير أهلها لا يحصى عددهم ‌وهو ‌نهر ‌قناة أو نهر وادي لهم خاصة أراد قوم أن يعمروا بعض هذا النهر ويبنوا عليه مسجداً ولا يضر ذلك بالنهر ولا يعرض لهم أحد من أهل النهر.( المحيط البرهاني:6/207)

       وفي حاشية الشلبی:أورد أبو الليث هنا سؤالا وجوابا فقال: فإن قيل أليس مسجد بيت المقدس تحته ‌مجتمع ‌الماء ‌والناس ينتفعون به قيل:  إذا كان تحته شيء ينتفع به عامة المسلمين يجوز؛ لأنه إذا انتفع به عامة المسلمين صار ذلك لله تعالى أيضا.(حاشية الشلبی على  تبيين الحقائق :3/ 330)

         وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی:قوله:(إلى عنان السماء) بفتح العين، وكذا إلى تحت الثرى كما في البيري عن الإسبيجابي. بقي لو جعل الواقف تحته بيتا للخلاء هل يجوز كما في مسجد محلة الشحم في دمشق؟ ‌لم ‌أره ‌صريحا، نعم سيأتي متنا في كتاب الوقف أنه لو جعل تحته سردابا بالمصالحة جاز، تأمل.

        وقال العلامۃ الرافعی رحمہ اللہ تعالی تحتہ:الظاهر عدم الجواز وما یأتی متناً لا یفید الجواز لأن بیت الخلاء لیس من مصالحہ علی أن الظاهرعدم صحۃ جعلہ مسجداً بجعل بیت الخلاء تحتہ،کما یأتی أنہ لو جعل السقایۃ أسفلہ لا یکون مسجداً،فکذا بیت الخلاء؛لانهما لیسا من المصالح، تأمل. ثم رأیت فی "غایۃ البیان" ما یفید الجوازکما یأتی نقل عبارتہا فی کتاب الوقف من أحکام المسجد. (تقریرات الرافعی:116/1)

         وقال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ :قوله:(سن لبث في مسجد بصوم ونية) أي ونية اللبث الذي هو الاعتكاف وقد أشار المصنف إلى صفته وركنه وشرائطه...وأشار باللبث إلى ركنه وبالمسجد والصوم والنية إلى شرائطه.(البحر الرائق322/2:)

         وقال أصحاب الفتاوی الھندیۃ:وإن صلى ‌بجماعة ‌في ‌البيت اختلف فيه المشايخ،والصحيح أن للجماعة في البيت فضيلة وللجماعة في المسجد فضيلة أخرى ،فإذا صلى في البيت بجماعة فقد حاز فضيلة أدائها بالجماعة وترك الفضيلة الأخرى، هكذا قاله القاضي الإمام أبو علي النسفي،والصحيح أن أداءها بالجماعة في المسجد أفضل.(الفتاوی الھندیۃ:116/6)

جنید صلاح الدین

دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

18/رجب المرجب6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب