| 86491 | جائز و ناجائزامور کا بیان | علاج کابیان |
سوال
میری کزن سعودیہ میں ہوتی ہے،اس کے دونوں گردے خراب ہیں،تیرہ سال سے وہ ڈائیلائسز کروارہی ہے،اب ڈاکٹروں نے اسے لاعلاج قرار دے دیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ گردہ لے کر آئیں تو ڈال دیں گے،وہ اپنا گردہ خود ڈائیلائسز کرتی تھی،لیکن اب پانچ دن سے ہسپتال میں داخل ہے،اب آپ سے راہنمائی درکار ہے کہ ایسی صورت میں گردہ دینا جائز ہے،یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اعضاء انسانی کی پیوندکاری کے بارے میں علمائے کرام اور اہل فتویٰ حضرات کا اختلاف ہے،ہندوپاک کے بیشتر علماءِکرام نےاس کو ناجائز قرار دیا ہے، جبکہ ہندوستان اور عرب ممالک کےکئی علماء نےاس کی مشروط اجازت دی ہے۔
جن حضرات نے مشروط اجازت دی ہے ان کے ہاں دو قسم کی شرائط ہیں:
پہلی قسم کی شرائط کا تعلق زندہ انسان سے دوسرے انسان کی طرف عضو منتقل کرنے سے ہے،جبکہ دوسری قسم کا تعلق میت سے زندہ انسان کی طرف عضو کے منتقل کرنےسے ہے۔
پہلی قسم کی شرائط:
1۔ماہراور دیندار ڈاکٹر مرض کے بارے میں یہ کہے کہ اس مرض کا علاج عضو منتقلی کے علاوہ ممکن نہیں ہے اور علاج نہ ہونے کی صورت میں مریض کی جان جانے کا اندیشہ ہو۔
2۔جس سے عضو منتقل کیا جانا ہے ماہراور دیندار ڈاکٹرکی رائے کے مطابق اس عمل کی وجہ سے اس کو کوئی ایسا ضرر لاحق نہ ہو کہ اس کی وجہ سے فی الحال معمولات زندگی میں مشکل کا سامنا کرنا پڑے ،یا آئندہ کے لئے اس کا یقین یا غالب اندیشہ ہو۔
3۔عضو منتقلی کی کوئی قیمت وصول نہ کی جائے،تاہم اگر تبرعا کوئی دینے پر آمادہ نہ ہو تو شدید مجبوری کی صورت مریض کی جان بچانے کی خاطر گردہ لینے والے کے لئے تو عوض دینے کی گنجائش ہوگی،لیکن دینے والے(Donor) کے لئے اس عوض کا لینا جائز نہیں ہوگا۔
4۔عضو کا منتقل کرنا نسب میں خلل کا باعث نہ ہوجیسے اعضاء تناسل کے انتقال میں ہوتا ہے۔
5۔کم از کم تین ماہر ڈاکٹر وں کی کمیٹی تشکیل دی جائے جن کا اس عمل سے کوئی مفاد وابستہ نہ ہو،وہ پہلے رپورٹ تیار کریں اور پھر یہ رپورٹ طرفین کو پیش کریں اور ان سے اجازت حاصل کریں۔
دوسری قسم کی شرائط:
1۔ضرورتِ شدیدہ ہو،یعنی ماہر ڈاکٹروں کے مطابق مریض کاعلاج پیوندکاری کے بغیر کسی اور ذریعے سے ممکن نہ ہو اور علاج نہ ہونے کی صورت میں مریض کی جان جانے،یا اپنے کسی عضو کی بنیادی منفعت سے محرومی کا اندیشہ ہو،یا غیر معمولی تکلیف اور حرج شدیدمیں مبتلا ہو۔
2۔جس سے عضو لیا جانا ہے اس کی موت یقینی طور پر ہوچکی ہواور تین عادل اور ماہر ڈاکٹر اس کی تصدیق کردیں۔
3۔جس میت سے عضو منتقل کیا جانا ہواس نے خود زندگی میں ہوش وحواس کی حالت میں بغیر کسی جبر واکراہ کے اس کی وصیت کی ہو اورعضو کا انتقال اس طریقے سے کیا جائے کہ اس میں میت کی توہین نہ ہو اور اگر میت نے وصیت نہ کی ہو تو مجمع الفقہ الاسلامی جدہ کے فیصلے کے مطابق ورثا کی اجازت بھی کافی ہے۔
4۔عضو کی منتقلی نسب میں خلل کا باعث نہ ہو۔
5۔مردہ جسم سے مطلوبہ عضو کو تدفین سے پہلے نکال لیا جائے۔
6۔پیوندکاری کا یہ عمل کسی ہسپتال میں ماہر ِفن اور حکومت کی طرف سے مجاز ڈاکٹروں کی نگرانی میں بغیر کسی عوض کے انجام پائے،یعنی گردے کا کوئی عوض وصول نہ کیا جائے۔
لہذا مذکورہ صورت میں اگر آپ کی کزن کا علاج صرف ٹرانسپلانٹیشن ہی کے ذریعے ممکن ہے تو جواز والے قول پر تمام شرائط کی رعایت رکھتے ہوئےعمل کی گنجائش ہے،البتہ بعد میں احتیاطاًاستغفار اور کچھ صدقہ وخیرات بھی کرلیں،کیونکہ اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہے۔
حوالہ جات
قَالَ اللهُ تعالیٰ:{وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا } [الإسراء: 70]
"التفسير المنير للزحيلي" (15/ 124):
"ولقد كرمنا بني آدم، أي جعلنا لهم كرما أي شرفا وفضلا، بخلقهم على أحسن صورة وهيئة، ومنحناهم السمع والبصر والفؤاد للفقه والفهم، وجملناهم وميزناهم بالعقل الذي يدركون به حقائق الأشياء، ويهتدون به إلى الصناعات والزراعات والتجارات، ومعرفة اللغات، ويفكرون في اكتشاف خيرات الأرض، والإفادة من الطاقات، وتسخير ما في العالم العلوي والسفلي، وما في الكون من وسائل النقل وأسباب الحياة والمعيشة، والتمييز بين الأشياء وخواصها ومضارها في الأمور الدينية والدنيوية".
"الفتاوى الهندية "(5/ 354):
"الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز ،قيل :للنجاسة وقيل: للكرامة، هو الصحيح .كذا في جواهر الأخلاطي".
"فتح القدير " (6/ 425):
"(قوله :ولا يجوز بيع شعر الإنسان) مع قولنا بطهارته (والانتفاع به؛ لأن الآدمي مكرم غير مبتذل فلا يجوزأن يكون شيء من أجزائه مهانا ومبتذلا) وفي بيعه إهانة".
"رد المحتار" (5/ 228):
"مطلب في التداوي بالمحرم :
(قوله: ورده في البدائع إلخ) قدمنا في البيع الفاسد عند قوله :"ولبن امرأة "أن صاحب الخانية والنهاية اختارا جوازه إن علم أن فيه شفاء ولم يجد دواء غيره.
قال في النهاية: وفي التهذيب: يجوز للعليل شرب البول والدم والميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاءه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه، وإن قال الطبيب يتعجل شفاؤك به ،فيه وجهان، وهل يجوز شرب العليل من الخمر للتداوي ؟فيه وجهان، وكذا ذكره الإمام التمرتاشي وكذا في الذخيرة .
وما قيل: إن الاستشفاء بالحرام حرام غير مجرى على إطلاقه وأن الاستشفاء بالحرام إنما لا يجوز إذا لم يعلم أن فيه شفاء ،أما إن علم وليس له دواء غيره ،يجوز ومعنى قول ابن مسعود رضي الله عنه :"لم يجعل شفاؤكم فيما حرم عليكم "يحتمل أن يكون قال ذلك في داء ،عرف له دواء غير المحرم؛ لأنه حينئذ يستغني بالحلال عن الحرام ويجوز أن يقال :تنكشف الحرمة عند الحاجة فلا يكون الشفاء بالحرام وإنما يكون بالحلال. اهـ نور العين من آخر الفصل التاسع والأربعين".
"الفتاوى الهندية "(5/ 355):
"يجوز للعليل شرب الدم والبول وأكل الميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه".
"الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي "(4/ 2609):
" يجوز عند الجمهور نقل بعض أعضاء الإنسان لآخر كالقلب والعين والكُلْية إذا تأكد الطبيب المسلم الثقة العدل موت المنقول عنه؛ لأن الحي أفضل من الميت، وتوفير البصر أو الحياة لإنسان نعمة عظمى ،مطلوبة شرعاًوإنقاذ الحياة من مرض عضال أو نقص خطير أمر جائز للضرورة، والضرورات تبيح المحظورات، ولكن لا يقبل بيع هذه الأعضاء بحال، كما لا يجوز بيع الدم، وإنما يجوز التبرع بدفع عوض مالي على سبيل الهبة أو المكافأة عند نقل العضو أو التبرع بالدم في حالة التعرض لهلاك أو ضرر بالغ، فإن تحتم دفع العوض ولا يوجد متبرع من الأقارب أو غيرهم، جاز للدافع الدفع للضرورة".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
18/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


