| 86611 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
ایک روایت میں آتا ہے کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام میری قبر پر آئیں گے اور مجھے سلام پیش کریں گے تو میں ان کے سلام کا جواب دوں گا۔ سند کے اعتبار سے اس روایت کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی حدیث کو امام ابویعلی موصلی رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں اور امام حاکم رحمہ اللہ نے المستدرک میں مختلف اسانید کے ساتھ ذکر کیا ہے، ان دونوں میں مدارِ سند سعید بن ابو سعید مقبری ہیں، وہ اس روایت کو حضرت عطاء سے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، امام ابویعلیٰ رحمہ اللہ کی ذکر کردہ روایت کا ترجمہ یہ ہے:
"حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور بالضرور عیسی ابن مریم انصاف کرنے والے امام اور عدل کرنے والے حاکم بن کر نازل ہوں گے، وہ ضرور صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، لوگوں کے درمیان صلح کروائیں گے، بغض وعداوت کو ختم کریں گے، (لوگوں پر) مال کو پیش کریں گے، جس کو وہ قبول نہیں کریں گے، پھر اگر وہ میری قبر پر کھڑے ہوں گے اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر (مجھے) پکاریں گے تو میں ان کی پکار کا جواب دوں گا۔"
امام حاکم رحمہ اللہ کی ذکرکردہ روایت کے الفاظ کچھ مختلف ہیں، اس میں یوں ذکر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ضرور بالضرور میری قبر پر آئیں گے اور سلام پیش کریں گے اور میں ضرور بالضرور ان کے سلام کا جواب دوں گا۔ اس روایت پر امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح الاسناد کا حکم لگایا ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی مستدرکِ حاکم کی تلخیص میں اس پر صحیح کا حکم لگایا ہے، اس کے علاوہ علامہ نور الدین ہیثمی رحمہ اللہ نے مجمع الزوائد میں یہ روایت ذکر کر کے اس کے رواة کو صحیح کے رواة کی طرح قرار دیا ہے۔[1]
[1] نیز مسند ابویعلیٰ کے معاصرمحقق شیخ حسین سلیم اسد درانی نے بھی اس روایت پر صحیح کا حکم لگایا ہے۔
حوالہ جات
مسند أبي يعلى الموصلي (11/ 462، رقم الحديث: 6584) دار المأمون للتراث – دمشق:
حدثنا أحمد بن عيسى، حدثنا ابن وهب، عن أبي صخر، أن سعيدا المقبري، أخبره، أنه سمع أبا هريرة يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " والذي نفس أبي القاسم بيده لينزلن عيسى ابن مريم إماما مقسطا وحكما عدلا، فليكسرن الصليب، وليقتلن الخنزير، وليصلحن ذات البين، وليذهبن الشحناء، وليعرضن عليه المال فلا يقبله، ثم لئن قام على قبري فقال: يا محمد لأجيبنه "[1]
المستدرك على الصحيحين للحاكم (2/ 651، رقم الحدیث: 4162) دار الكتب العلمية – بيروت:
أخبرني أبو الطيب محمد بن أحمد الحيري، ثنا محمد بن عبد الوهاب، ثنا يعلى بن عبيد، ثنا محمد بن إسحاق، عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن عطاء، مولى أم حبيبة قال: سمعت أبا هريرة، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليهبطنّ عيسى ابن مريم حكما عدلا، وإماما مقسطا وليسلكنّ فجّا حاجا، أو معتمرا أو بنيتهما وليأتينّ قبري حتى يسلّم ولأردنّ عليه» يقول أبو هريرة: " أي بني أخي إن رأيتموه فقولوا: أبو هريرة يقرئك السلام «هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه بهذه السياقة»
[التعليق - من تلخيص الذهبي] 4162 – صحيح.[2]
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (8/ 211، رقم الحديث: 13813) الناشر: مكتبة القدسي، القاهرة:
وعن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: «والذي نفس أبي القاسم بيده، لينزلن عيسى بن مريم إماما مقسطا وحكما عدلا، فليكسرن الصليب، ويقتلن الخنزير، وليصلحنّ ذات البين، وليذهبن الشحناء، وليعرضن المال فلا يقبله أحد، ثم لئن قام على قبري فقال: يا محمد، لأجيبنه». قلت: هو في الصحيح باختصار. رواه أبو يعلى، ورجاله رجال الصحيح.
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية (18/ 401، رقم الحدیث: 4505) دار الغيث – السعودية:
حدثنا أحمد بن عيسى، ثنا ابن وهب، عن أبي صخر قال: إن سعيد المقبري أخبره أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: والذي نفس أبي القاسم صلى الله عليه وسلم بيده لينزلن عيسى بن مريم عليه الصلاة والسلام .
وفيه: " وليصلحن ذات البين وليذهبن الشحناء، وليقرضن المال. ثم لئن قام على قبري فقال: يا محمد! لأجيبنه ".
المقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي (3/ 132، رقم الحديث: 1240) دار الكتب العلمية، بيروت:
حدثنا أحمد بن عيسى، حدثنا ابن وهب، عن أبي صخر أن سعيدا المقبري أخبره: أنه سمع أبا هريرة يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " والذي نفس أبي القاسم بيده لينزلن عيسى ابن مريم إماما مقسطا وحكما عدلا فليكسرن الصليب، وليقتلن الخنزير، وليصلحن ذات البين، وليذهبن الشحناء، وليعرضن عليه المال فلا يقبله أحد، ثم لئن قام على قبري فقال يا محمد: لأجيبنه ".
[1] [حكم حسين سليم أسد] : إسناده صحيح.
[2] حافظ ذہبی رحمہ اللہ کی تلخیص علی المستدرک کے مطبوعہ نسخے میں بھی صحیح لکھا ہے۔
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
18/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


