| 86493 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد صاحب نے ہم چھ بھائیوں کی دو دو کی جوڑی بنا کر الگ الگ کاروبار دلوایا ، یعنی کل تین کاروبار ہوے۔کچھ عرصے بعد والد صاحب نے ہم میں سے ہر ایک بھائی سے اپنا حصہ طلب کیا ، والد صاحب نے اس رقم سے ہر بیٹی کو بطور میراث پندرہ لاکھ روپے دیے،کچھ رقم والد صاحب کے پاس بقایا تھی جس سے والد صاحب نے اپنے لئے الگ کاروبار شروع کیا۔اس کے علاوہ والد صاحب کے پاس کچھ پراپرٹی تھی ،جس کو والد صاحب نے اپنی اولاد میں تقسیم کر دیا تھا ،تاہم تین مکان والد صاحب نے اپنی ملکیت میں رکھے تھے ، جن میں سے ایک مکان اپنی حیات میں ہی مسجد و مدرسہ کے لئے وقف کر دیا تھا ، دوسرے مکان میں نیچے کی منزل کو اپنی زندگی میں دعوت و تبلیغ کے کام کے لئے منتخب کیا تھا،جس کی بالائی منزل کو کرایہ پر دیا ہوا تھا(اس کا کرایہ وہ اپنی زندگی میں مسلسل مسجد و مدرسہ کو دیا کرتے تھے)،اسی طرح تیسرے مکان میں والد صاحب کی رہائش ، دکان اور آفس تھا ۔
انتقال سے قبل والد صاحب نے یہ وصیت کی تھی کہ مذکورہ بالا تینوں مکان دین کے کام کے لئے وقف ہو ں گے،اس میں بچوں کا کوئی حصہ نہیں ہو گا، بلکہ مسجد و مدرسہ میں اس کی آمدنی لگے گی۔ شریعت کے مطابق مذکورہ بالا جائیداد، مکانات اور سامان تجارت کا کیا حکم ہے؟ کیا میراث تقسیم ہو چکی ہے اور مذکورہ جائیداد وقف کہلائے گی یا میراث کو از سرِ نو تقسیم کرنا ضروری ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حالت صحت میں کسی شخص کا اپنی مکمل یابعض جائیداد وقف کرنا درست ہے،راجح قول کے مطابق وقف کرنے والے شخص کی جانب سے زبانی طور پر وقف کرنے سے بھی وقف پورا ہو جاتا ہے ، تاہم ایسی جائیداد جس کو فوت ہونے والا اپنی زندگی میں وقف نہ کرے، بلکہ اپنی زندگی میں اس کے وقف کی وصیت کرے ،تو واقف کی وفات کے بعد کل جائیداد کے ایک تہائی حصے میں اس کی وصیت نافذ ہو تی ہے ۔
صورت مسئولہ میں سائل کے والد نے اپنی زندگی میں بیٹوں کوجس کاروبار اور جائیداد کا مالک بنا یا ،اسی طرح بیٹیوں کو جو رقم بطور ملکیت دی ، ہر ایک کو جو جائیداد وغیرہ دی گئی وہ اس کا مالک ہے،اس مال یا جائیداد کو بطور ترکہ دوبارہ تقسیم نہیں کیا جائے گا۔
جہاں تک تین گھروں کی بات ہے، تو سائل کے والد نے اپنی زندگی میں جو مکا ن مسجد و مدرسہ کو دیا تھا اس میں میراث جاری نہیں ہو گی ، بلکہ وہ واقف کی حیات میں ہی وقف ہو چکا تھا۔ تاہم دوسرا مکان جس کو اپنی زندگی میں دعوت و تبلیغ کے لئے منتخب کیا تھا اور اس کی بالائی منزل کا کرایہ مسجد و مدرسہ کو دیتے تھے ،اسی طرح تیسرا مکان جس میں ان کی ذاتی رہائش وغیرہ تھی ،ان دونوں مکانات میں وقف کی وصیت کی ہے ، لہذا ان میں وصیت کے احکام جاری ہوں گے۔ چنانچہ دوسرے اور تیسرے مکان میں وصیت کا اعتبار کرتے ہوے، متوفی(سائل کے والد) نے جو مال (بشمول یہ دومکان)بطور میراث چھوڑا، اس کی مالیت کا حساب لگایا جائے گا۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔اگر ان دو مکانات کی مالیت کل ترکہ کے ایک تہائی کے برابر یا کم ہو، تو یہ گھر بھی مکمل طور پر وقف ہو ں گے اور ان کو واقف کی ہدایات کے مطابق وقف کے مصارف میں استعمال کیا جائے گا۔
2۔ اگر ان دو مکانات کی مالیت ترکہ کے ایک تہائی سے زیادہ ہو ،تو ایک تہائی حصے تک وصیت نافذ ہوگی۔
مثال کے طور پر ، سائل کے والد نے دو مکان( جن کی مالیت ایک کروڑر وپےہے)اور سامانِ تجارت (جس کی مالیت دو کروڑ روپے ہے ) ترکہ میں چھوڑا، یعنی کل ترکہ کی مالیت تین کروڑ روپے ہوئی ،اس صورت میں دونوں مکانات کی قیمت ایک کروڑ روپے ،کل ترکہ کے ایک تہائی کے برابر ہے، لہذا دونوں مکانوں میں وصیت نافذ ہو گی اور سائل کے والد کی ہدایات کے مطابق مذکورہ دونوں مکانات کو وقف کے مصارف میں استعمال کیا جائے گا،باقی دوکروڑ روپے ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گے ۔
اس کے برعکس اگر سائل کے والد نے صرف یہی دو مکان ( جن میں ہر ایک کی انفرادی مالیت پچاس لاکھ روپے ہے) ترکہ میں چھوڑے ، تو ان دونوں مکانوں میں ہر ایک مکان کے ایک تہائی حصے میں وصیت نافذ ہو گی اور دو تہائی حصے کےورثاء مالک ہو ں گے لیکن یہ بات بھی واضح رہے کہ یہ مکانات ورثاء اور موقوفہ مصارف کے درمیان اپنے حصص کے تناسب سے مشترک رہیں گے ،ورثاء مکان کو اپنے درمیان تقسیم نہیں کرسکتے ، بلکہ ان گھروں کو کرایہ پر دیا جائے گا،پھر اس سے جوآمدنی وصول ہو گی اس میں سے ایک تہائی وقف ہو گی اور دوتہائی ورثاء اپنے مابین شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کریں گے ۔
یاد رہےکہ وقف شدہ اموال میں واقف کی جانب سے جائز شرائط شرعاً معتبر ہیں، چنانچہ واقف نے جو مکان برائےراست مسجد و مدرسہ کی تعمیر کے لیے وقف کیا اس کو مسجد و مدرسہ کے طور پر ہی استعمال کیا جائے گا، اسی طرح جن گھروں کے وقف کے ساتھ اس بات کی شرط ہے کہ ان کی آمدنی مسجد ومدرسہ کو دی جائے گی ،ان کو کرایہ پر دیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی مسجد ومدرسہ کے لئے ہی ہو گی۔ (کرایہ داری کاطریقہ کار اورآمدنی کی تقسیم کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔)مزید یہ کہ ان گھروں کی دیکھ بھال کے زیادہ اہل بطورمتولی ورثاء ہی ہیں۔
حوالہ جات
الفتاوی التاتارخانیہ (ج8ص4)
وفی الخانیۃ: ولو قال: صدقة مؤبدة موقوفة، جاز عند عامة العلماء، إلا عند محمد رحمه الله تعالى يحتاج إلى التسليم ۔۔۔وفى النوازل أو قال: أرضى هذه وقف، أو قال: جعلت أرضى وقفا،أو قال: جعلتها موقوفة م: فعلى قول أبي يوسف تكون وقفا، وقال محمد وهلال :لا تكون وقفا، وكذا على قول الخصاف وأهل البصرة لا تكون وقفا، وكان مشايخ بلخ يفتون بقول أبي يوسف، وقال الصدر الشهيد فى واقعاته ونحن نفتي به أيضا۔
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (2/ 351):
وإذا كان الملك يزول عندهما يزول بالقول عند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - وهو قول الأئمة الثلاثة وهو قول أكثر أهل العلم وعلى هذا مشايخ بلخ وفي المنية وعليه الفتوى۔
وأما حكمه فعندهما زوال العين عن ملكه إلى الله تعالى وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - حكمه صيرورة العين محبوسة على ملكه بحيث لا تقبل النقل عن ملك إلى ملك والتصدق بالغلة المعدومة متى صح الوقف بأن قال: جعلت أرضي هذه صدقة موقوفة مؤبدة أو أوصيت بها بعد موتي فإنه يصح حتى لا يملك بيعه ولا يورث عنه لكن ينظر إن خرج من الثلث والوقف فيه بقدر الثلث كذا في محيط السرخسي۔
رد المحتار ط الحلبي (6/ 692):
(الدر المختار) أما الوصية بالغلة فلا تقسم على الظاهر (وتهايآ العبد فيخدمهم أثلاثا) هذا إذا لم يكن له مال غير العبد والدار وإلا فخدمة العبد وقسمة الدار بقدر ثلث جميع المال كما أفاده صدر الشريعة (وليس للورثة بيع ما في أيديهم من ثلثها) على الظاهر لثبوت حقه في سكنى كلها بظهور مال آخر أو بخراب ما في يده فحينئذ يزاحمهم في باقيها والبيع ينافيه فمنعوا عنه، وعن أبي يوسف لهم ذلك۔
(رد المحتار) (قوله فلا تقسم) أي الدار نفسها، أما الغلة فتقسم۔قال الأتقاني: إذا أوصى بغلة عبده أو داره سنة ولا مال له غيره فله ثلث غلة تلك السنة لأنها عين مال يحتمل القسمة اهـ۔ فلو قاسمهم البستان فغل أحد النصيبين فقط اشتركوا فيها لبطلان القسمة سائحاني عن المبسوط (قوله على الظاهر) أي ظاهر الرواية إذ حقه في الغلة لا في عين الدار، وفي رواية عن الثاني تقسم ليستغل ثلثها شرنبلالية عن الكافي۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
19/رجب /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


