03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مورث کا  زندگی میں وارث کوکچھ  حصہ دینے کا وعدہ کرنا
86520میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے والد صا حب  کا انتقال ہوگیا ہے۔ان کی ملکیت میں ایک مکان ساڑھے پانچ مرلے کا ہے ،جو کہ چھ پورشنوں پر مشتمل ہے ۔جن میں سے چار پورشن والد صاحب نے چار بھائیوں کو بمع قبضہ دے دیے ہیں ،جبکہ آخری دو پورشنوں میں سے ایک پورشن کرایہ پر لگا ہوا ہے،جس کی آمدن والد صاحب ذاتی طور پر استعمال کرتےتھے۔ دوسرا پورشن مشترکہ طور پر ساری فیملی استعمال کرتی ہےاور ان آخری دو پورشنوں کی تعمیرمیں مشترکہ کمائی بشمول والد صاحب کے شامل ہے جس کی مکمل تفصیل موجود نہیں ہے ،البتہ بڑے بھائی (اکرام الحق) کے زیادہ پیسے لگےہیں جس کی کچھ تفصیل والد صاحب اور بڑے بھائی (اکرام الحق) کےپاس موجود ہے۔والد صاحب نے بڑے بھائی سے  آخری کے دو پورشنوں کی تعمیر کے وقت کہا تھا کہ تم اس پر پیسے لگاؤ تو یہ پورشن  تمہارے ہوں گے،لیکن زندگی میں قبضہ نہیں دیا تھا۔اب سوال یہ ہے  کہ والد صاحب کے ترکہ میں موجود اس مکان کے آخری دو پورشنوں کی تقسیم کس  طرح سے ہوگی اور اس پر بڑے بھائی نے جو پیسہ لگایا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں درست رہنمائی فرما دیں۔

تنقیح:سائل کی طرف سے تنقیح کے یہ بعد  یہ معلوم ہوا کہ بڑے  بھائی نے ان دو پورشنوں پر جو اخراجات کیے ہیں وہ اپنی  ذاتی ملکیت کی بنیاد پر کیے ہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مکان کا جو حصہ والد صاحب نے اپنی زندگی میںاپنی اولاد کو دے دیا اس میں تو وراثت جاری نہ ہوگی۔باقی دو پورشنوں کی تعمیرپر  بڑے بھائی نے اخراجات والد صاحب کی اجازت اور اس بات  کی وجہ سے کیے تھے کہ یہ بڑے بھائی کی ملکیت ہوگی،لہذا  تعمیر   کے دوران ہی وہ ان کا مملوک ہوچکا تھا ،  وہ والد صاحب  کی ملک نہیں رہا تھا۔ ان پورشنوں کی تعمیر میں دیگر ورثہ    نےجو  اخراجات کیے ہیں وہ والد صاحب کو ہدیہ ہوگا،لیکن اگر ورثہ قرض کا دعویٰ کریں اور ثابت ہوجائے توجتنا  خرچہ انہوں نے کیا ہے وہ ان کو والد صاحب کے ترکہ میں سے  واپس ادا کیا جائے گا۔

حوالہ جات

إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر. درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:3/ 315)

  1. فيما إذا بنى زيد قصرا بماله لنفسه في دار مشتركة بينه وبين إخوته بدون إذنهم فهل يكون البناء ملكا له؟(الجواب) : نعم وإذا بنى في الأرض المشتركة بغير إذن الشريك له أن ينقض بناءه ذكره في التتارخانية من متفرقات القسمة. (العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:1/ 98)

(التبویب،فتویٰ نمبر:74105)

محمد علی بن محمد عبداللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

19/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب