03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بل ڈسکاؤنٹنگ کاحکم
86474خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

 ایکسپورٹ کے کاروبار میں یہاں تقریبا عمومی رواج ہے کہ بیرون ملک میں موجود کسٹمر (buyer) پاکستانی ایکسپورٹر(seller)سے 120 دن کی کمٹمنٹ پر مال خریدتا ہے اور پھر(buyer) پاکستانی ایکسپورٹر(seller) کو یہ سہولت دیتا ہے کہ اگر وہ (seller)مال بھیجنے کے بعد بجائے 120 دن کے جلد پیمنٹ چاہتا ہے تو متعلقہ بینک سے اپنی مکمل پیمنٹ کا 2 فیصدکٹوتی کرواکر باقی پیمنٹ حاصل کرسکتا ہےیعنی پھر 100 روپے کی بجائے 98 روپے پیمنٹ ہوگی، ایکسپورٹر(seller)کو پیمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے ،لہذا وہ یہ آسان سہولت کو اختیار کرلیتا ہے،البتہ وہ اپنے (buyer)سے سودا بجائے 100 روپے کے 98 روپے میں ہی طے کرلیتا ہےاور سودے کو شروع سے ہی دو آپشن پر معلق نہیں رکھتا اور اس پورے معاملے میں بینک سے ایکسپوٹر کا بذات خود کوئی معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ buyer اور بینک کا معاملہ ہوتا ہے،بعد میں پیمنٹ کا معاملہ buyer اور بینک کے مابین رہ جاتا ہے،براہ کرم اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

ایک بات اور واضح کردوں کہ بینک ہر مرتبہ 2 فیصد کٹوتی نہیں کرتا، بلکہ وہ ڈاکومنٹس کے پراسس کو دیکھتا ہے کہ وہ کتنے روز میں بینک کو موصول ہوتے ہیں، اس حساب سے کبھی 2 فیصد کبھی 1 فیصد، مطلب 2 فیصد آخری حد ہے اس میں کمی  بیشی ہوتی رہتی ہے،اس کا شرعی حکم کیا ہے؟کیا یہ معاملہ سودی تو نہیں ہے ؟ اور اگر خدانخواستہ سودی معاملہ ہے تو کس کے مابین سودی معاملہ ہوا؟خریدار اور بینک کے درمیان یا اس میں ایکسپورٹر بھی ذمہ دار کہلائے گا ؟ اور نیز ایکسپورٹر کو جو بینک سے اپنی پیمنٹ وصول ہوگئی ہے اس کے استعمال کا شرعی حکم کیا ہے ؟ حالانکہ ایکسپورٹر کو تو کوئی اضافی رقم نہیں ملی، بلکہ وہ تو 100 میں سے 98 روپے ہی لے رہا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عمومی طورپرسودی بینک سےبل ڈسکاؤنٹ کی درج ذیل دوصورتیں ہوتی ہیں:

1۔ ایکسپوٹر اپنے سودی بینک سے بل ڈسکاؤنٹ کروائے۔

2. ایکسپورٹر امپورٹر کے بینک سے بل ڈسکاؤنٹ کروائے۔

یہ دونوں صورتیں سودی لین دین پرمشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں،پہلی صورت میں یہ سودی معاملہ ایکسپورٹر اورایکسپورٹرکےبینک  کےاتفاق سے وجود میں آتاہے،جبکہ دوسری صورت میں ایکسپورٹر اورامپورٹر کے بینک کے اتفاق سے یہ سودی معاملہ وجود میں آتاہے،یعنی دونوں صورتوںمیں ایکسپورٹر کابینک سے تعلق ہوتاہے،امپورٹرکانہیں،اس لئے اس سودی معاملہ کاگناہ ایکسپورٹر کوہوگا۔

3.ایکسپورٹر براہ راست معاملہ امپورٹر سے کرے اورامپورٹرخود اپنے لئے بل ڈسکاؤنٹ کرواکرایکسپورٹر کوپیسے اداکرے،یہ تیسری صورت ہماری معلومات کے مطابق رائج نہیں،اگرواقعی یہ صورت بھی پائی جاتی ہے تواس صورت میں قرض پراضافی رقم دینے کامعاملہ امپورٹراوراس کے بینک کے درمیان ہواہے تواس لئے اس کاگناہ امپورٹر کوہوگا، ایکسپورٹر کونہیں،کیونکہ سودی قرض امپورٹر نے لیاہے،ایکسپورٹر نےنہیں لیا،باقی چونکہ اصل معاملہ کم قیمت پرہواہے یعنی 98 روپے پر،لیکن کاغذات میں 100 روپےظاہرکیاگیاہے،اس غلط بیانی کاگناہ دونوں (ایکسپورٹراورامپورٹر) کوہوگا۔

بل ڈسکاؤنٹنگ کے جواز کی درج ذیل دوصورتیں  ہوسکتی ہیں:

1. ایکسپورٹر اس بل کو فروخت کرنے کے بجائے بینک کو اپنا قرض وصول کرنے کا وکیل بنائے اور اسے وکالت کی مقررہ اجرت دیدے ، پھر وہ بینک اس بل پر لکھی ہوئی رقم کے بقدر قرض وصول کر لے ، جبکہ بینک ایکسپورٹر کے وکیل کی حیثیت سے قرضہ کی رقم وصول کرنے کے بعد ادا کردہ قرض کے بدلےاس رقم کو اپنے پاس رکھ لے ، لیکن اس صورت میں وکالت اور قرض دینے کے یہ دونوں معاملے ایک دوسرے سے بلکل الگ اور غیر مشروط ہونا ضروری ہے ، اسی طرح وکالت کی اجرت طے کرتے وقت ادائیگی بل کی مدت کے کم اور زیادہ ہونے کے ساتھ اجرت کی کمی و زیادتی کا کسی قسم کا تعلق نہ ہونا بھی لازم ہے ۔

2.’’ایکسپورٹر‘‘ امپورٹر کو سامان بھیجنے سے پہلے وہ سامان بینک یا کسی مالیاتی ادارے کو ’’ایل سی‘‘ کی قیمت سے کم قیمت پر فروخت کردےاور پھر بینک یا مالیاتی ادارہ ’’امپورٹر‘‘ کو’’ایل سی‘‘ کی قیمت پر فروخت کردے، اور اس طرح دونوں قیمتوں کے درمیان جو فرق ہوگا ، وہ بینک کا نفع ہوگا، مثلاً: ایل سی ایک لاکھ روپےکی  کھولی ہے، تو اب ’’ایکسپورٹر‘‘ بینک کو وہ سامان مثلاً ؛ پچانوے ہزار روپےمیں فروخت کردے، او ربینک ’’امپورٹر‘‘ کو ایک لاکھ روپے میں فروخت کرے، اور پانچ ہزار روپے نفع کے بینک کو حاصل ہوجائیں گے، لیکن یہ دوسری صورت اسی وقت ممکن ہے جب کہ ابھی تک ’’امپورٹر‘‘ کے ساتھ ’’حقیقی بیع‘‘ نہیں ہوئی، بلکہ ابھی تک ’’وعدۂ بیع‘‘ (ایگریمنٹ ٹو سیل) ہوا ہے، لہٰذا اگر ’’امپورٹر‘‘ کے ساتھ حقیقی بیع ہوچکی ہے، تو پھر یہ صورت اختیار کرنا ممکن نہیں۔بہر حال اس طرح سے ایکسپورٹر کو اپنی لگائی ہوئی رقم فوراً وصول ہوجائے گی، اور اس کو مدت آنے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

حوالہ جات

۔۔۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

    ۱۹/رجب ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب