03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے لئے پیڈ فالوورز لینا
86487خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

فیس بک فالورزکی خرید و فروخت کا شرعی حکم کیا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوشل میڈیا اکاؤنٹس اورپیجز کے لیے پیسے ادا کر کے فالوورز لینے کا مقصد لوگوں کو یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے اس اکاؤنٹ، پیج یا چینل کو لوگوں کی کثیر تعداد دیکھتی اور پڑھتی ہے اور لوگ اس پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اس کے عموماً آگے دو استعمال ہوتے ہیں:

1۔یہ پیج یا چینل کسی اور کو فروخت کرنا جو اسے کاروباری یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہو۔ وہ فالوورز کی تعداد دیکھ کر خریدتا ہے۔

2۔مارکیٹنگ کمپنیوں کو اشتہار لگانے پر راغب کرنا کہ ان کا اشتہار اتنے لوگوں تک پہنچے گا۔

چونکہ اس اکاؤنٹ، پیج یا چینل پر موجود فالوورز پیسے دے کر لیے گئے ہوتے ہیں اور ایسے فالوورز خریداری نہیں کرتے، نہ ہی انہیں اس اکاؤنٹ کی چیز پڑھنے اور دیکھنے سے دلچسپی ہوتی ہے، لہذا یہ کام دھوکہ دہی اور جعل سازی کے تحت آتا ہے اور شرعاً ناجائز ہے۔

)ماخوذ از تبویب 80649)

حوالہ جات

سنن الترمذي،( 2/597، دار الغرب الاسلامی):

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: يا صاحب الطعام، ما هذا؟، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، ثم قال: من غش فليس منا.

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

19/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب