| 86573 | نان نفقہ کے مسائل | نان نفقہ کے متفرق مسائل |
سوال
محترم میرا سوال یہ ہے کہ میری بیوی اور میرے درمیان اچھی خاصی لڑائی ہوئی اور وہ ایک سال سے اپنے ماں باپ کے گھر رہنے لگی ہے،اسی دوران میرا بیٹا بھی پیدا ہوا، میں نے اس کو منانے کی بہت کوشش کی، وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے، لیکن اس کی طرف سےشرط یہ ہےکہ میں اپنا گھر ،والدین اور گاؤں چھوڑ کر کراچی میں رہوں،جبکہ ہماری لڑائی کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ اس کی میری فیملی کےساتھ نہیں بنتی اور میری اس کی فیملی کی ساتھ نہیں بنتی، جس کی وجہ سے لڑائی زیادہ ہو گئی اور وہ اپنی شرط پر ثابت قدم ہو گئی، جبکہ میرے والدین بیمار ہیں اور میں انہیں چھوڑ کر اتنی دور نہیں جاسکتا ، اس لڑائی میں میں نے اسے ایک طلاق دیدی کہ شاید اس ڈر سے رابطہ کرلے،اور واپس آ جائے، لیکن اب مجھے آپ سےیہ مشورہ چاہیے کہ کیا میرا کرنا صحیح ہے یا غلط؟
کیونکہ میں اس کو نہیں چھوڑ نا چاہتا،میرے والدین بھی اس کو اب رکھنےکےلیے تیار نہیں، اس صورت میں کیا بیوی کی شرط مان لینی چاہیے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں پہلی بات تویہ ہےکہ بیوی کو مزیدسمجھایاجائےکہ وہ آپ کی فیملی کےساتھ ہی رہنےپرراضی ہواور ساتھ رہنےکی کوشش کرے،کیونکہ شوہرپربیوی کو رہائش دینالازم ہے،لیکن یہ لازم نہیں کہ والدین سےالگ رہائش دے،اس طرح کامطالبہ شرعادرست نہیں ،ا س طرح کےمطالبہ کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
اس کےبعدوالدین کو راضی کیاجائےکہ وہ آپ کی بیوی کو ساتھ رکھنےپرآمادہ ہوجائیں تاکہ مزیدلڑائی جھگڑےاور طلاق کی نوبت ہی نہ آئے۔
ہاں اگرحددرجہ کوشش کےباوجودآپ کی بیوی اور والدین کاساتھ رہنامشکل ہو،اوروالدین بھی آپ کی بیوی کو ساتھ رکھنےپرتیارنہ ہوں تومجبوری کی صورت میں بیوی کےلیےالگ گھرکابندوبست کرلیاجائے،لیکن حکمت ومصلحت کےساتھ والدین کوراضی رکھنابھی ضروری ہوگا،والدین کی رضامندی اورمشاورت سےہی بیوی کےلیےالگ رہائش کابندوبست کیاجائے۔
ایک طلاق رجعی دی ہے،اس کےبعداگرعدت باقی ہےتورجوع کیاجاسکتاہے،عدت ختم ہوگئی ہوتودوبارہ نئےسرےسےنئےمہرکےساتھ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرکے نکاح کیاجاسکتاہے۔
موجودہ صورت میں ایسی درمیانی صورت نکالی جائےکہ والدین کی خدمت بھی ہوتی رہےاور بیوی بھی ساتھ رہے،مثلا والدین کےقریب کسی جگہ کرایہ پرمکان لےکربیوی کو رہائش دیدی جائے،توبیوی بھی راضی ہوگی اور والدین کی خدمت بھی ہوتی رہےگی۔
حوالہ جات
"الهداية"1 / 254:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض لقوله تعالى : { فأمسكوهن بمعروف } [ البقرة : 231 ] من غير فصل ۔
والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
20/رجب 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


