03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چھ بھائی اور چھ بہنوں کے درمیان وراثت کی تقسیم
86515میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا، ہم چھ بھائی اور چھ بہنیں ہیں، ان کی وراثت میں ایک مکان ہے، یہ مکان ہم سب بہن بھائیوں کے درمیان کیسے تقسیم ہو گا؟ یعنی ہر وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحوم  کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الاداء ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سے بالترتیب پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض  ادا کرنےاور ترکہ کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک   مرحوم کی طرف سے کی گئی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو تركہ باقی بچے اس کو (18) حصوں میں برابرتقسیم کرکے  مرحوم کےہر بیٹے کو دو (2) حصے اورہر بیٹی کو  ایک (1) حصہ دے دیا جائے،تقسیمِ میراث کا نقشہ درج ذیل ہے:

نمبر شمار

وارث

    عددی حصہ

     فيصدی حصہ

1

بیٹا

2

11.111%

2

بیٹا

2

11.111%

3

بیٹا

2

11.111%

4

بیٹا

2

11.111%

5

بیٹا

2

11.111%

6

بیٹا

2

11.111%

7

بیٹی

1

5.55%

8

بیٹی

1

5.55%

9

بیٹی

1

5.55%

10

بیٹی

1

5.55%

11

بیٹی

1

5.55%

12

بیٹی

1

5.55%

حوالہ جات

القرآن الکریم: [النساء: 11]:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

21/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب