| 86720 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں نے ایک شاپی فائی کا اسٹور بنایا ہے اور اس اسٹور میں وینڈنگ مشین اور اے ٹی ایم مشین بیچنے کا کام شروع کیا ہے،امریکا میں بہت سارےادارے ہیں جو اے ٹی ایم مشین اور وینڈنگ مشینیں بناتے ہیں،میں نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ میں نے ایک آن لائن اسٹور بنایا ہے، جس پہ میں آپ کی کمپنی کی اے ٹی ایم مشینز اور وینڈنگ مشینز کی تصویر لگانا چاہتا ہوں اور اپنے اسٹور پہ اشتہارات چلاکر کسٹمرز کو وہ بیچنا چاہتا ہوں ،تو اس طرح وہ ادارے مجھے طے شدہ فیصدی عوض دینے پر راضی ہوئے،جیسے ایک دس فیصد دینے پر راضی ہوا کہ جتنے کی مشین بکے گی اس کا دس فیصد مجھے ملے گا،اس طرح کے کاروبار کے حوالے سے میں نے آپ کے ادارے سے فتویٰ لیا، جس کے مطابق یہ کام جائز اور حلال ہے،لیکن اب امریکا میں ایک نئے طریقے کی اے ٹی ایم مشین آئی ہے ،جس کو BTM(Bit coin teller machine) یا بٹ کوائن ATM مشین بھی کہتے ہیں ،اس میں ہوتا یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس کسی بھی قسم کی کرپٹو کرنسی ہے اور اس کو اس کے بدلے کیش(رائج کرنسی) چاہیے تو اس BTM مشین سے اپنے کرپٹو دے کےکیش لے سکتا ہے یعنی کرپٹو بیچ کے،اسی طرح اگر کسی کو کرپٹو خریدنا ہے تو اس مشین کے ذریعے خرید سکتا ہے،میں کرپٹو کا کام تو نہیں کرتا لیکن امریکا،دبئی اور دیگر کئی ملکوں میں کرپٹو کا بڑھتا ہوارجحان ہے ،یہاں تک کہ دبئی میں تو ایسا ہے کہ اگر آپ کو پراپرٹی خریدنی ہے اور کیش نہیں ہے تو کرپٹو کے بدلے بھی پراپرٹی خریدی جاسکتی ہے،سعودی اور دبئی کی فتوی کمیٹی کہتی ہے کرپٹو حلال ہےلہٰذا اب کرپٹو کا رجحان بڑھتا چلا جارہا ہے،جس کے نتیجے میں BTM کی ڈیمانڈ بھی آناشروع ہوگئی ہے تو کیا میں جیسے اے ٹی ایم اور وینڈنگ مشینز کے بیچنےکا کام کر رہاہوں اسی طرح کرپٹو والی اے ٹی ایم مشین یعنی BTM بھی بیچ سکتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جن ممالک میں کرپٹو سے متعلق قانون سازی ہوچکی ہے اور اسے قانونی زریا کرنسی (legal tender) کی حیثیت دی جاچکی ہے،نیزاس کے مفاسد کاسدباب کیا جاچکا ہےتو ان ممالک میں بی ٹی ایم [BTM (Bit coin teller machine)] کی خرید وفروخت جائز ہے۔البتہ فی نفسہ کرپٹو ٹریڈنگ کا شرعی حکم کیا ہے؟اس حوالے سے دارالافتاء جامعۃ الرشید کی ویب سائٹ almuftionline.com پرفتوی نمبر(81020) اور (84734)ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 154)
(قوله وكره بيع السلاح من أهل الفتنة لأنه إعانة على المعصية) ………..
وقد استفيد من كلامهم هنا أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه وما لا فلا ولذا قال الشارح إنه لا يكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة اهـ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 268)
مطلب في كراهة بيع ما تقوم المعصية بعينه (قوله: تحريما) بحث لصاحب البحر حيث قال: وظاهر كلامهم أن الكراهة تحريمية لتعليلهم بالإعانة على المعصية ط (قوله: من أهل الفتنة) شمل البغاة وقطاع الطريق واللصوص بحر (قوله: إن علم) أي إن علم البائع أن المشتري منهم (قوله: لأنه إعانة على المعصية) ؛ لأنه يقاتل بعينه، بخلاف ما لا يقتل به إلا بصنعة تحدث فيه كالحديد، ونظيره كراهة بيع المعازف؛ لأن المعصية تقام بها عينها، ولا يكره بيع الخشب المتخذة هي منه، وعلى هذا بيع الخمر لا يصح ويصح بيع العنب. والفرق في ذلك كله ما ذكرنا فتح ومثله في البحر عن البدائع، وكذا في الزيلعي لكنه قال بعده وكذا لا يكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة؛ لأنه ليس عينها منكرا وإنما المنكر في استعمالها المحظور. اهـ.
قلت: لكن هذه الأشياء تقام المعصية بعينها لكن ليست هي المقصود الأصلي منها، فإن عين الجارية للخدمة مثلا والغناء عارض فلم تكن عين النكر، بخلاف السلاح فإن المقصود الأصلي منه هو المحاربة به فكان عينه منكرا إذا بيع لأهل الفتنة، فصار المراد بما تقام المعصية به ما كان عينه منكرا بلا عمل صنعة فيه، فخرج نحو الجارية المغنية؛ لأنها ليست عين المنكر، ونحو الحديد والعصير؛ لأنه وإن كان يعمل منه عين المنكر لكنه بصنعة تحدث فلم يكن عينه.
الأشباه والنظائر (ص: 187)
القاعدة التاسعة عشرة : إذا اجتمع المباشر و المتسبب أضيف الحكم إلى المباشر.
فلا ضمان على حافر البئر تعديا بما أتلف بإلقاء غيره و لا يضمن من دل سارقا على مال إنسان فسرقه…
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
22/رجب1446ھجری
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


