03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
منگنی کےبعدنکاح سےانکارکرنا
86512نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

 سوال: السلام علیکم ورحمد الله وبرکاتہ!

محترم علمائے کرام، میرا نام منصور ہے، عمر 30 سال ہے اور غیر شادی شدہ ہوں ،میں آپ سے اپنی منگنی کے حوالے سے راہنمائی چاہتا ہوں، جو میرے لیے گزشتہ ڈیڑھ مہینوں سے شدید ذہنی پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔

دو سال پہلے میری پہلی منگنی ختم ہوگئی، کیونکہ لڑکی کے خاندان نے میری نوکری پر اعتراض کیا،اس کے بعد سے میرے والدین چاہتے تھے کہ میں جلد از جلد شادی کر لوں، کیونکہ میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں، ایک دن جب میری والدہ میری شادی میں تاخیر پر پریشان تھیں، تو ان کی خواہش کی خاطر میں نے ان کا فون چیک کیا اور رشتہ کروانے والی خاتون کے میسجز چیک کیے، جو میری والدہ کو رشتے بھیجتی  رہتی تھیں۔ ایک لڑکی جو مجھے تصویر میں اچھی لگی ، تفصیلات معلوم کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ وہ یونیورسٹی  پڑھی ہوئی ہیں، جو میرے لیے ایک اہم بات تھی، اس  لیے میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ وہ اس لڑکی کے بارے میں مزید معلوم کریں۔ میری والدہ نے اس لڑکی کے گھر جا کر اسے پسند کیا اور انہوں نے بھی ہمارے گھر آکر مجھے پسند کیا۔ دونوں خاندانوں میں رشتے کے لیے پسندیدگی ہوئی اور رشتہ کی بات مزید بڑھانا طے پائی، رشتہ طے کرنے کے لیے میں نے شرط رکھی کہ ایک بار میں اس لڑکی کو دیکھ کر حتمی فیصلہ کروں گا، جس کا ذکر میں نے اپنی والدہ سے صاف صاف کیا، لڑکی والوں کی طرف جانے سے پہلے میرے والد نے مجھ سے پوچھا کہ کیاآپ اس رشتے کے لیے تیار ہیں اور آپ کوئی مسئلہ تو نہیں کھڑا کریں گے ؟ میں نے کہا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، جبکہ میری نیت یہ تھی کہ میں لڑکی کو دیکھ کر فیصلہ کروں گا، جسے میں اپنی والدہ سے کہہ چکا تھا،کیونکہ میں نے حدیث میں پڑھا تھا کہ شادی کے ارادے سے ایک بار لڑکی کو دیکھنا چاہیے،جب ہم لڑکی سے ملے تو میں نے محسوس کیا کہ تصویر اور حقیقت میں فرق ہے ، میں اس میں کوئی کشش محسوس نہیں کر رہا تھا، اس کے باوجود میرے والد نے میری رائے لیے بغیر اور قبل از وقت مطلع کیے بغیر لڑکی کو مالی  رقم دی، جو اس بات کی علامت تھی کہ انہوں نے شادی کے لیے رضامندی ظاہرکردی ہے،اگلے دن جب میرے والدین نے میری رضامندی  کاپوچھاتو میں نے انہیں بتایا کہ میں اس رشتے کے لیے مطمئن نہیں ہوں، لیکن انہوں نے زور دیا کہ وہ ایک اچھے خاندان کی ہے ،اس کا کردار بھی اچھا ہے ،جبکہ میری طرف سے وجہ اعتراض اس کی خوبصورتی  تھی کہ وہ مجھے بیوی کے طور پر پسند نہیں آئی ، میری والدہ نے کہا کہ جب آپ کے والد نے تحفہ دے دیا تو یہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا اور انہوں نے میری باتوں کو نظر اندا کیا۔

خاندان کے دباؤ اور ذہنی الجھن کے باعث میں نے ہچکچاتے ہوئے منگنی کے لیے ہاں کر دی، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید وقت کے ساتھ میرے جذبات بدل جائیں، لیکن منگنی کے بعد سے میں شدید ذہنی پریشانی، بے خوابی اور روحانی بے سکونی کا شکار ہوں،جبکہ رشتہ کی بات طے ہونے سے لیکر آج تک میں مسلسل نماز، تہجداور اذکارکر رہا ہوں اور اللہ  سے راہنمائی مانگ رہا ہوں، لیکن ابھی تک سکون حاصل نہیں ہوا،منگنی کے فنکشن سے لیکر آج تک ہماری چار ملاقاتیں  ہوچکی ہیں،(فیمیلی کی موجودگی میں ،تنہائی میں بالکل نہیں) میری منگیتر نے خود مجھ سے رابطہ  کیا، فیملی والوں نے سمجھایا کہ جلد تمہاری اس میں دلچسپی پیدا ہوگی، لیکن یہ سب بے سود ثابت رہا ، نکاح ایک دینی ذمہ داری ہے، میں زوجین کے حقوق کے بارے میں بخوبی علم رکھتا ہوں، لہذا نہ اپنے آپ کو اور نہ ہی اسے دھو کے میں رکھنا چاہتا ہوں۔

میں آپ سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ مندرجہ ذیل معاملات پر میری رہنمائی فرمائیں:

۱۔کیا میری منگنی اسلامی تعلیمات کے مطابق درست ہے؟ جبکہ میری رضا مندی مکمل اور آزادانہ نہیں تھی۔

۲۔کیا اپنے والد سے گھر جانے سے پہلے کی گئی بات میری حتمی رضامندی شمار ہوگی؟یا یہ اس شرط پر تھی کہ میں لڑکی کو دیکھ کر فیصلہ کروں گا؟

۳۔اگر میں اسی حالت میں رہتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ میں اس شادی کو جاری نہیں رکھ سکتا، تو کیا منگنی ختم کرنا والدین کی نافرمانی یا ان کی  بے عزتی میں شمار ہوگا؟

۴۔میں اپنے والدین کی اطاعت اور ان کے حقوق، جذبات اور ذہنی سکون کو اسلامی نقطہ نظر سے کیسے متوازن رکھ سکتا ہوں ؟ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱،۲،۳۔صورت مسئولہ میں اگرپہلےصرف منگنی ہوئی تھی،باقاعدہ نکاح (جس میں باقاعدہ مہر متعین کرکےدوگواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کیاجاتاہے)نہیں ہواتھا،بعدمیں آپ کی طرف سےاس رشتہ سےانکارکیاجاتاہےاورسوال کی وضاحت کےمطابق آپ اپنی والدہ کوپہلےسےبتابھی چکےہیں،اس لیےشرعی اعتبارسےانکارکی وجہ بھی بظاہرمعقول ہے،لہذاموجودہ صورت میں منگنی کوتوڑاجاسکتاہے،والدین کوچاہیےکہ آپ کی پسندکےمطابق مزیدرشتے تلاش کرکےنکاح کریں،تاکہ نکاح کےجوبنیادی مقاصدہیں،وہ اچھی طرح حاصل ہوسکیں۔

واضح رہےکہ منگنی کی حیثیت  شرعاوعدہ کی  ہے،اس لیےحتی الامکان اس کوپوراکرناچاہیےاور کوشش کرنی چاہیےکہ وعدہ خلافی نہ ہو،بغیرکسی معتبروجہ کےوعدہ خلافی کرنا شرعاجائزبھی نہیں  اورایسی صورت میں گناہ بھی ہوگا،اس پر توبہ واستغفاربھی ضروری ہوگا،اس لیےآپ کوچاہیےکہ حتی الامکان والدین کی رضامندی اور پسند کاخیال رکھیں اوروالدین پر اعتمادکرکےاسی جگہ نکاح کرلیں،والدین کی بات ماننےپرامیدہےکہ اللہ تعالی کوئی بہتر صورت نکال لیں گےاور بعدمیں ممکن ہےوہ مسائل حل ہو جائیں،اورآپس میں مناسبت بھی پیداہوجائے۔

ہاں اگرحددرجہ کوشش کےباوجود اس طرف میلان نہیں ہورہاتومذکورہ بالاتفصیل کےمطابق انکارکی بھی گنجائش ہےاوراس انکارکی صورت میں نہ وعدہ خلافی کاگناہ ہوگا،نہ والدین کی نافرمانی کا۔

۴۔ہاں ظاہری طورپرجووالدین کی نافرمانی کی صورت بن رہی ہے،اوروالدکی طرف سےبات پکی ہونےکی وجہ سےبظاہروالدکی عزت کامسئلہ ہورہاہے،اس حوالےسےحکمت ومصلحت کےساتھ والدین کی ذہن سازی کی جائےتوامید ہے والدصاحب کی ناراضگی ختم ہوجائےگی۔

حوالہ جات

"حاشية رد المحتار"3 /  12: قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال: أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد وإن كان للعقد فنكاح ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

21/رجب1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب