| 86672 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم !میری کافی عرصہ سے اپنی بیوی سے ناراضگی تھی۔ ایک روز میں اپنے بھائیوں کے ساتھ چائے کے ہوٹل پر بیٹھا تھااورخاندان کےحوالےسےمختلف موضوعات پرباتیں چل رہی تھی کہ اچانک مجھے میرے موبائل پر میری بیوی کا میسج آیا، جس میں وہ مجھے شادی کی سالگرہ کی مبارک باد دے رہی تھی، مجھ سے سب سے بڑے بھائی نے پوچھا کس کا فون ہے؟ میں نے کہا آج میری شادی کی سالگرہ ہے ،میری بیوی کا میسج آیا ہے،جس پر مجھے کہا گیا جب تم اتنے بدظن ہو اپنی بیوی سے تو اچھا موقع ہے ،میسج میں جواب میں طلاق لکھ کر بھیج دو ،اس پر میں نے کہا کہ یہ بات کہاں سے آگئی ،بھائی مجھ سے بحث کرنے لگے کہ ہو جاتی ہے وغیرہ وغیرہ ،جس پر میں نے جواب میں بحث کرتے ہوئےکہا اس طرح کوئی طلاق نہیں ہوتی، کیاصرف طلاق طلاق طلاق کہنے سےہو جائیگی ؟ نیت،بیوی کا نام لینا یا اس کی طرف مخاطب یا نسبت کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔
اسی دوران میرے دوسرے بھائی کو محسوس ہوا کہ میں شاید فون میں بھی اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ لکھ رہا ہوں،اس پر انھوں نے مجھ سے کہا ارے کیا لکھ کربھیج دی ؟جس پر میں نے انہیں غصے میں جواب دیتے ہوئے کہا، ہاں پھر پوچھا واقعی لکھ کر بھیج دی؟ میں نے کہا ہاں ،جس پر انہوں نےکہا موبائل دکھاؤ اور میں نے موبائل دکھاتے ہوئے کہا دیکھ لیں ،نہ میں نے لکھی نہ بھیجی،صرف ا پ لوگوں کو بتانے کے لئے کہہ رہا تھا کہ صرف طلاق کا الفاظ ادا کرنے سے طلاق نہیں ہوتی، نیت کرنا، نام لینا، نسبت یا مخاطب کرنا بھی ضروری ہوتا ہے،جس پر مجھ سے کہنے لگے کہ بیٹا طلاق تو ہوگئی ہے، تم نے تین دفع طلاق طلاق طلاق کہا ہے۔
یہاں میں آپ لوگوں کو واضح کر دوں کہ دوران بحث میں نے تین بار صرف طلاق طلاق طلاق کہاہے،کیاصرف طلاق کہنےسےطلاق ہو جاتی ہے؟ نہ میری نیت تھی، نہ میں نے اپنی بیوی کا نام لیا، نہ میں نے اسے مخاطب کیا اور نہ ہی نسبت کی،صرف بحث چل رہی تھی۔
تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ طلاق کالفظ لکھانہیں تھا،صرف زبان سےتین مرتبہ کہاہے۔
تنقیح:مفتی عابدشاہ صاحب نے سائل فصیح احمد سےتفصیلات معلوم کی توپوری بات نہیں بتائی ،اس لیےان کے بھائی مدثر احمد سےرابطہ کیا،ان کی طرف سےدرج ذیل تفصیل بتائی گئی:
جب ان کو بڑے بھائی نے طلاق دینے کا کہا یا یہ کہا کہ آپ دیکھ لو! تو اس نے موبائل پر میسیج لکھنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے منہ سے کہا" طلاق ، طلاق ، طلاق " جس پر مدثر بھائی نے پوچھا کہ کیا تم نے لکھ کر بھیج دی ؟تواس نےکہا ،ہاں لکھ کر بھیج دی ،دو مرتبہ یہ تصدیق کی جبکہ حقیقتاً میسج لکھانہیں تھا ، لیکن ظاہر ایسے کیا،جیسےلکھاہو۔
اب سائل کا یہ دعوی ہے کہ چونکہ نسبت کے بغیر طلاق کےالفاظ کہےگئےہیں، اس لئے طلاق نہیں ہوئی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چونکہ گفتگوبیوی سےمتعلق چل رہی تھی اوربھائیوں کی طرف سےآپ سےبیوی کوطلاق دینےکامطالبہ بھی تھا،اسی دوران آپ نےتین دفعہ طلاق کےالفاظ کہےہیں،اوربھائی کےبقول یہ الفاظ کہتےوقت آپ نےبیوی کومیسج لکھنےکی ایکٹنگ بھی کی ہے،جس کی تائیداس سےبھی ہوتی ہےکہ اسی وقت بھائی کےپوچھنےپر آپ نےدودفعہ "ہاں "کہہ کر بیوی کوطلاق بھیجنےکی تصدیق بھی کی ہے،لہذا ان سب قرائن کی بناءپر مذکورہ صورت میں حکمی طورپر بیوی کی طرف نسبت موجودہے،بالخصوص جبکہ عرف بھی یہ ہےکہ اس طرح کےالفاظ بول کرطلاق بیوی ہی کو دی جاتی ہے،اس لیےصورت مسئولہ میں معنوی نسبت پائےجانےکی وجہ سےشرعا تین طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہیں،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اوراسی بیوی سےدوبارہ نکاح بھی نہیں کیاجاسکتا،ا لایہ کہ حلالہ کی صورت پائی جائےتواس کےبعددوبارہ نئےسرےسےنکاح کی گنجائش ہوگی ۔
حوالہ جات
"الدر المختار للحصفكي" 3 / 272:
باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسة (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها لانه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الاضافة إليها (ويقع بها) أي بهذه الالفاظ۔
"حاشية رد المحتار" 3 / 272:
قوله: (لتركه الاضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الاضافة المعنوية، وكذا الاشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق ۔
أقول: وما ذكره الشارح من التعليل أصله لصاحب البحر أخذا من قول البزازية في الايمان: قال لها: لا تخرجي من الدار إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق، فخرجت لا يقع لعدم ذكر حلفه بطلاقها، ويحتمل الحلف بطلاق غيرها فالقول له ۔
ومثله في الخانيةوفي هذا الاخذ نظرفإن مفهوم كلام البزازية أنه لو أراد الحلف بطلاقها يقع، لانه جعل القول له في صرفه إلى طلاق وغيرها، والمفهوم من تعليل الشارح تبعا للبحر عدم الوقوع أصلا لفقد شرط الاضافة، مع أنه لو أراد طلاقها تكون الاضافة موجودة ويكون المعنى: فإني حلفت بالطلاق منك أو بطلاقك، ولا يلزم كون الاضافة صريحة في كلامه لما في البحر لو قال: طالق، فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته ۔
على أنه في القنية قال عازيا إلى البرهان صاحب المحيط: رجل دعته جماعة إلى شرب الخمر فقال إني حلفت بالطلاق أني لا أشرب وكان كاذبا فيه ثم شرب طلقت۔
وقال صاحب التحفة: لا تطلق ديانة۔
قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرۃ 229،223:
الطلاق مرتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان۔۔۔فان طلقہافلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاغیرہ۔
"ھدایۃ " 2 /378:
وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ الخ لاتحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحاصحیحاویدخل بہاثم یطلقہاأویموت عنہا۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
21/رجب 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


