03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ساس کا حق زیادہ ہے یا ماں کا؟
86608جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ہم پانچ بھائی ہیں،میری شادی کو تقریباً سولہ سال ہوگئے ہیں اور میرے پانچ بچے ہیں،میری اہلیہ ڈاکٹر ہے،شادی کے بعد سے میرا اور اہلیہ کا یہ معمول تھا کہ ہم دونوں کام پر جاتے تھے اور چونکہ میری چھٹی دیر سے ہوتی تھی اور ہمارا گھر شہر سے دور ہے(گلشن معمار) تو اہلیہ کام سے واپسی پر اپنے میکے(گلشن اقبال)جاتی تھیں اور جب میں دفتر سے شام/رات کو واپس آتا تو ان کو اپنے ساتھ گھر لے آتا،یہ سلسلہ چلتا رہا اور پہلے بچے کو اسکول میں داخل کرانے کا مرحلہ آ گیا،اس وقت معمار میں کوئی اچھا اسکول نہیں مل سکا تو بچے کو گلشن اقبال کے ایک اسکول میں داخل کروادیا،تین بچوں کی پیدائش کے بعد اہلیہ نے جاب چھوڑدی،لیکن بچوں کے اسکول کی وجہ سے ہمارا روز یہی معمول رہا کہ صبح دفتر جاتے وقت میں اہلیہ اور بچوں کو بچوں کی نانی کے گھر چھوڑ دیتا اور شام کو واپسی پر ان کو لیتا ہوا گھر آجاتا،اسکول کی چھٹیوں کے عرصے میں اہلیہ اور بچے یہیں (معمار) میں رہتے تھے۔

سال 2014 میں میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا اور سال 2018 میں میرے سسر کا بھی انتقال ہوگیا،میری اہلیہ کا کوئی بھائی نہیں ہے اور باقی دو بہنوں کی بھی شادی ہوچکی ہے،(ان میں سے ایک ملک سے باہر ہوتی ہے)اس لئے میری ساس گھر میں اکیلی رہ گئیں،دوسری طرف میری والدہ کے ساتھ میرے دوسرے دو بھائی رہتے تھےتو میں نے دارالافتاء سے مشورہ کیا کہ کیا میں سسرال میں قیام کر سکتا ہوں،تا کہ ساس صاحبہ اکیلی نا رہیں،اس مشورے کے بعد میں ہفتے میں پیر سے جمعے تک(جن دنوں میں اسکول کھلے ہوتے ہیں) اپنے سسرال میں گزارنے لگا اور جمعہ کی رات سے اتوار کی رات یا پیر کی صبح تک اپنے گھر میں رہتا تھا اور اسکول کی چھٹیوں میں ہم معمار میں ہی رہتے تھے۔(یہ عرصہ اس طرح گزرتا ہے کہ ساس کے مکان میں اوپر والا پورشن کسی دور کے رشتہ دار کو کرایہ پر دیا گیا ہے جن کی فیملی میں صرف دو لڑکیاں اور ان کی والدہ ہیں،رات کو ان میں سے کوئی لڑکی ساس کے ساتھ نیچے رہ جاتی ہے،جبکہ گھر کے بالکل برابر میں ساس صاحبہ کی بہن اور بہنوئی رہتے ہیں تو دن کا وقت وہ پڑوس میں اپنی بہن کے ساتھ گزار سکتی ہیں)۔

لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ میرے جو بھائی والدہ کے ساتھ رہتے تھے ان کی بھی شہر اور ملک سے باہر جاب ہو گئی ہے اور اب میری والدہ اکیلی ہورہی ہیں،اب میں بہت زیادہ پریشان ہوں کہ والدہ گھر چھوڑنا نہیں چاہتیں،(یہ گھر میرے والد نے سال 2008 میں بنایا تھا اور 2014 میں ان کا انتقال ہو گیا تھا)جبکہ میرے بھائی ان سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ان کے پاس اسلام آباد یا دبئی جاکر رہیں،لیکن والدہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک آدھ مہینے سے زیادہ کہیں اور نہیں رہیں گی۔

برائے مہربانی آپ اس سلسلے میں راہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں؟ مجھے لگتا ہے کہ جب تک والدہ کے ساتھ دوسرے بھائی تھے اس وقت تک تو ٹھیک تھا کہ میں ہفتے کے پانچ دن سسرال گزار لوں(دارالافتاء سے بھی یہی مشورہ ملا تھا)لیکن اب جبکہ صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ والدہ اکیلی رہ گئی ہیں تو ان کے ساتھ میرا رہنا ضروری ہے کہ والدہ کو ضرورت ہے،ایک موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب میری ساس کو ضرورت تھی تو میں ان کے ساتھ رہا،اب انہیں ضرورت ہے تو میں ان کے ساتھ رہوں،میں اس وقت بہت سخت پریشانی میں ہوں،برائے مہربانی میری مدد اور راہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت حال میں بہتر تو یہ ہے کہ آپ ساس اور والدہ کو اعتماد میں لے کر کوئی ایسی صورت اپنانے کی کوشش کریں جس سے ساس اور والدہ دونوں کی مشکل ختم ہوجائے،مثلا اگر والدہ دوسری جگہ رہائش پر آمادہ نہ ہوں تو ساس کو اپنے قریب منتقل ہونے پر راضی کرلیا جائے،بشرطیکہ سہولت سے انتظام ممکن ہو اور اگر نہ ساس اپنا گھر چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہونے پر آمادہ ہو اور نہ والدہ تو پھرآپ پر والدہ کی بات ماننا لازم ہے،کیونکہ والدہ کا حق ساس سے بڑھ کر ہے،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے کسی صحابی نے پوچھا کہ لوگوں میں سے حسن سلوک کا زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: آپ کی والدہ،تین بار آپ نے والدہ کا ذکر فرمایا،چوتھے نمبر پر والد اور پھر اس کے بعد دیگر قریبی رشتہ داروں کا ذکر فرمایا۔

حوالہ جات

"صحيح مسلم" (4/ 1974):

"عن أبي هريرةرضی اللہ عنہ، قال: قال رجل: يا رسول ﷲ! من أحق الناس بحسن الصحبة؟ قال: «أمك، ثم أمك، ثم أمك، ثم أبوك، ثم أدناك أدناك»".

قال العلامة النووی رحمہ اللہ:" الصحابة هنا بفتح الصاد بمعنى الصحبة وفيه الحث على بر الأقارب وأن الأم أحقهم بذلك ثم بعدها الأب ثم الأقرب فالأقرب.

 قال العلماء: وسبب تقديم الأم كثرة تعبها عليه وشفقتها وخدمتها ومعاناة المشاق في حمله ثم وضعه ثم إرضاعه ثم تربيته وخدمته وتمريضه وغير ذلك ونقل الحارث المحاسبي إجماع العلماء على أن الأم تفضل في البر على الأب وحكى القاضي عياض خلافا في ذلك فقال الجمهور بتفضيلها وقال بعضهم: يكون برهما سواء. قال :ونسب بعضهم هذا إلى مالك والصواب الأول لصريح هذه الأحاديث في المعنى المذكور .وﷲ أعلم، قال القاضي: وأجمعوا على أن الأم والأب آكد حرمة في البر ممن سواهما".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

21/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب