03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ناپاک دھول کا حکم
86555پاکی کے مسائلنجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان

سوال

السلام علیکم! کیا ناپاک قالین یا کپڑوں سے نکلی ہوئی دھول پاک ہوتی ہے؟ اگر وہ دھول اُڑ کر پاک کپڑوں یا فرنیچر پر لگ جائے تو کیا اسے دھونا یا جھاڑنا ضروری ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مٹی خشک ہونے پر پاک شمار ہوتی ہے۔ لہذا اگر نجاست کے اثرات موجود نہ ہوں تو اسے پاک شمار کریں گے۔ تاہم اگر دھول میں نجاست کا رنگ یا بوغالب ہو تو وہ ناپاک شمار ہو گی۔ جب یہ دھول کسی فرنیچر یا کپڑے پر لگے گی تو خشک ہونے کی وجہ سے اسے ناپاک نہیں کرے گی۔ تاہم جھاڑ کر یا دھو کر اسے الگ کر لینا چاہیے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ: تطهر الأرض المتنجسة بالجفاف إذا ذهب أثر النجاسة.

 (البحر الرائق :1/ 237)

وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: وما يصيب الثوب من بخارات النجاسة، قيل ينجسه، وقيل لا وهو الصحيح.( رد المحتار :1/ 325)

وقال جمع من العلماء رحمھم اللہ: التراب النجس إذا هبت الريح فأصاب ثوبا لا يتنجس ما لم ير فيه أثر النجاسة.(الفتاوى الهندية:1/ 47)

سعد امین   بن میر محمد اکبر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

22/رجب  المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سعد امین بن میر محمد اکبر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب