03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹے کو اگر ماں کی طرف شہوت ہو جاے تو والدین کا نکاح ٹوٹ جاءے گا
86613نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

میں پندرہ برس کی عمر میں بالغ ہو چکا  تھا ، اس وقت میں  نے اپنی والد ہ کے سینے پر شہوت سے ہاتھ رکھا تھا ،  اور مجھے  انزال ہو گیا  تھا ، اس بات کو پانچ برس گزر چکے ہیں ،  کیا میرے اس عمل  سے والدین کا نکاح ٹوٹ گیا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جس طرح کسی عورت سے زناکی وجہ سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے، اسی طرح عورت کوبلا حائل  شہوت کے ساتھ  چھونے سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے، بشرطیکہ عورت کو چھوتے ہوئے انزال نہ ہو ۔

صورت مسئولہ میں سائل کی جانب سے  اپنی والدہ کو شہوت سے    چھونےکے  ساتھ انزال بھی ہو گیا تھا ،لہذا  حرمتِ مصاہرت تو  ثابت نہیں ہوئی اور اس کے والدین کا نکاح بھی  برقرار ہے ،تاہم  سائل کا  یہ عمل انتہائی قبیح، گھناؤنا اور شرمناک ہے، جو  نہ صرف شریعت   بلکہ انسانی اور  اخلاقی  اصولوں کے بھی منافی  ہے،  جس  کی مذمت کے لئے سخت  سے سخت الفاظ بھی  ناکافی ہیں ۔سائل پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس قبیح عمل پر   سچے دل سے بارگاہ ِ الٰہی میں توبہ و استغفار کرے اور ہمیشہ کے لئے   ایسی تمام شیطانی حرکات سے مکمل اجتناب کرے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 274):

‌كما ‌تثبت ‌هذه ‌الحرمة ‌بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة، كذا في الذخيرة۔۔۔‌ووجود ‌الشهوة ‌من ‌أحدهما ‌يكفي وشرطه أن لا ينزل حتى لو أنزل عند اللمس أو النظر لم يثبت به حرمة المصاهرة؛ لأنه ليس بمفض إلى الوطء لانقضاء الشهوة۔

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

22/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب