03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مریض کی نماز کا حکم(حواس گم کردہ شخص کی نمازکا حکم)
86610نماز کا بیانمریض کی نماز کا بیان

سوال

میرے والد صاحب کی عمر 72  برس ہو چکی ہے ، اب وہ  ایک مرض میں مبتلا ہیں، جس کا نام"Dementia" (عتاہت) ہے۔ والد صاحب فی الحال کیا کہہ رہے ہیں،  کیاکر رہے ہیں ،کیاکھا رہے ہیں ، ان کے ذہن میں پوری طرح واضح نہیں ہوتا ۔ اسی طرح  وہ ابھی کہاں ہیں؟ ابھی کون سا وقت ہے   ؟ یہ بھی ان  سے مشتبہ ہو جاتا ہے۔    اگر کچھ بول رہے ہوں تو ایک بات  کرتے کرتے دوسری بات کرنے لگتے ہیں، پھر دوسری  بات ابھی مکمل نہیں ہوتی  کہ کسی تیسرے موضوع پر بات کرنے لگتے ہیں، گویا ان کے ذہن میں پہلے کے مختلف واقعات گھومتے رہتے ہیں ،جس کے نتیجے میں کبھی  کچھ کبھی کچھ بولتے رہتے ہیں۔ ابھی کون سی نماز پڑھ رہے ہیں یہ بھی مشتبہ ہو جاتا ہے ۔ دورانِ نماز    یہ بھی یاد نہیں رکھ سکتے کہ کتنی رکعتیں پڑھ چکے ہیں ؟ ایک ہی وقت میں دو تین مرتبہ نماز پڑھتے رہتے ہیں پھر ان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ  کون سی نماز پڑھی ہے، اگر پوچھا جائے ابھی کون سی نماز پڑھی ہے تو کوئی بھی  جواب دے دیتے ہیں۔ اگر روزہ رکھیں تو انہیں یاد نہیں ہوتا کہ وہ روزہ دار ہیں یا نہیں؟ لیکن ہم اولاد کو اور قریبی رشتہ داروں کو تو  پہچانتے ہیں، تاہم دوسرے لوگوں کو کبھی پہچان لیتے  ہیں کبھی نہیں، نیز والد صاحب جسمانی طور پر صحیح تندرست ہیں۔ اب جاننا یہ ہے کہ ایسی حالت میں ان کی نماز ،روزہ اور دیگر فرض و واجب عبادتوں کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

      سوال میں مذکور تفصیلات کے مطابق آپ کے والدصاحب  پر نماز ،روزہ اور دیگر عبادات واجب نہیں ،تاہم اگر  گھر  کا کوئی فرد نماز کی ادائیگی میں  مریض کی رہنمائی کر دے  کہ اب رکوع کریں ، اب سجدہ کریں ،تو ان کی نماز ادا ہو جائے گی۔

حوالہ جات

رد المحتار ط الحلبي» (3/ 243):

قوله من العته) بالتحريك من باب تعب مصباح (قوله وهو اختلال في العقل) هذا ذكره في البحر تعريفا للجنون وقال ويدخل فيه المعتوه. وأحسن الأقوال في الفرق بينهما أن المعتوه هو القليل الفهم المختلط الكلام الفاسد التدبير، ‌لكن ‌لا ‌يضرب ‌ولا ‌يشتم ‌بخلاف ‌المجنون اهـ وصرح الأصوليون بأن حكمه كالصبي إلا أن الدبوسي قال تجب عليه العبادات احتياطا. ورده صدر الإسلام بأن العته نوع جنون فيمنع وجوب أداء الحقوق جميعا كما بسطه في شرح التحرير»

وفيه ايضاً  (2/ 100):

(‌ولو ‌اشتبه ‌على ‌مريض ‌أعداد ‌الركعات والسجدات لنعاس يلحقه لا يلزمه الأداء) ولو أداها بتلقين غيره ينبغي أن يجزيه كذا في القنية۔

(قوله ولو اشتبه على مريض إلخ) أي بأن وصل إلى حال لا يمكنه ضبط ذلك، وليس المراد مجرد الشك والاشتباه لأن ذلك يحصل للصحيح (قوله ينبغي أن يجزيه) قد يقال إنه تعليم وتعلم وهو مفسد كما إذا قرأ من المصحف أو علمه إنسان القراءة وهو في الصلاة ط.

قلت: وقد يقال إنه ليس بتعليم وتعلم بل هو تذكير أو إعلام فهو كإعلام المبلغ بانتقالات الإمام فتأمل.

وفيه ايضاً (4/ 224):

 قوله ومعتوه) عزاه في النهر إلى السراج، وهو الناقص العقل وقيل المدهوش من غير جنون كذا في المغرب، وفي إحكامات الأشباه أن حكمه حكم الصبي العاقل فتصح العبادات منه ولا تجب

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

22/رجب  1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب