03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسمائے حسنی یا قرآنی آیات لکھے ہوئےسونے کو پہننے کا حکم
86628جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

عورت کے لیے ایسے زیور کے پہننے کا کیا حکم ہے جس پر اسمائے حسنی یا قرآنی آیات لکھی ہوئی ہوں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عورت کو ایسا زیور پہننا جائز ہے جس پر قرآنی آیات یا اسمائے حسنی لکھے ہوئے ہوں ۔ انگوٹھی یا لاکٹ وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کا نام مبارک یا دعائیہ کلمات نقش کرواکر پہننا جائز ہے، البتہ  جس انگوٹھی یا لاکٹ وغیرہ  پر ایسے نقش موجود ہوں اور وہ ظاہر ہوں ،  اسے پہن کر بیت الخلاء وغیرہ  میں جانا مکروہ ہے ۔

حوالہ جات

قال الامام الترمذی رحمہ اللہ فی سنن الترمذی  )رقم الحدیث : 1746): عن أنس رضی اللہ عنہ  قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌إذا ‌دخل ‌الخلاء ‌نزع ‌خاتمه .

قال الامام الطحطاوي :قوله: ويكره الدخول للخلاء ومعه شيء مكتوب الخ، لما روى أبو داود والترمذي عن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل الخلاء نزع خاتمه: أي؛ لأن نقشه محمد رسول الله. ( حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح :ص: 54)

حماد الرحمن بن سیف الرحمن

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۲۲  رجب۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الرحمن بن سیف الرحمن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب