03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدت کے احکام کیاہیں؟
86503طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

میں سیدغفران احمد نے اپنی بیوی کوتین طلاقیں دی ہیں،وہ ابھی عدت گزاررہی ہے،عدت کے حوالہ سے شرعی احکام کیاہیں؟نیزعدت کے بعدمیرے گھرمیں رہنے کاحکم کیاہے؟عدت کے بعد زبردستی میرے گھرمیں رہنے کی شرعااجازت ہے یانہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عدت کے دورانیہ کانان ونفقہ اورہائش آپ کے ذمہ ہے،واضح رہے کہ تین طلاقوں کے بعد آپ کانکاح ختم ہوچکاہے تواس لئے آپ کےذمہ لازم ہے کہ گھرمیں پردہ کاماحول فراہم کریں تاکہ وہ عدت کے ایام سکون کے ساتھ گزارسکے،باقی عدت کے ایام میں عورت کے لئے زیب  و  زینت اختیار کرنا،  خوش بو  لگانا،سر میں تیل لگانا، سرمہ لگانا، مہندی لگانا، بلاعذرِ شرعی گھر کی چار دیواری سے باہر نکلنا،سفر کرنا، خوشی غمی کے موقع پر گھر سے نکلنا، نکاح یا منگنی کرنا وغیرہ یہ سب امور ناجائز ہیں، البتہ اگر سر درد  ہو یا سر میں جوئیں پڑگئی ہوں تو علاج کے طور پر سر میں تیل لگانے کی اجازت ہے۔نیز دورانِ عدت گھر  میں کسی مخصوص کمرے میں بیٹھنا ضروری نہیں، معتدہ  پورے گھر میں گھوم پھر سکتی ہے اور گھر کی چار دیواری میں رہتے ہوئے  کھلے آسمان تلے بھی جاسکتی ہے،اور بوقتِ ضرورت علاج معالجے کے لیے ڈاکٹر کے پاس بھی جاسکتی ہے، گھریلو کام کاج بھی کرسکتی ہے۔

عدت گزرنے کے بعد یہ عورت آپ کے لئے اجنبی عورت کی طرح ہے،جس طرح اجنبی عورت کواپنے گھرمیں رہائش دینامنع ہے تواس طرح اس عورت کوبھی اپنے ساتھ رکھنا اورایک ہی گھرمیں دونوں کااس طرح رہناکہ کوئی اورنہ ہویہ کسی طرح جائز نہیں۔

حوالہ جات

فی الفتاوى الهندية (ج 11 / ص 418):

 المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا ، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة ، أو لم تكن۔

وفی رد المحتار (ج 12 / ص 457):

( ولا بد من سترة بينهما في البائن ) لئلا يختلي بالأجنبية ، ومفاده أن الحائل يمنع الخلوة المحرمة ( وإن ضاق المنزل عليهما ، أو كان الزوج فاسقا فخروجه أولى ) لأن مكثها واجب لا مكثه ، ومفاده وجوب الحكم به ذكره الكمال ( وحسن أن يجعل القاضي بينهما امرأة ) ثقة .

وفی المحيط البرهاني لمحمود النجاري (ج 4 / ص 88):

المتوفى عنها زوجها يلزمها الحداد في عدتها، ويعتبر الحداد الاجتناب عن الطيب والدهن والكحل ولبس المطيب والمعصفر وما صبع بزعفران، ولبس القصب والخز ولبس الحلي والتزين والامتشاط.وكذلك المبتوتة يلزمها الحداد في عدتها؛ لأن وجوب الحداد على المتوفى عنها زوجها؛ لإظهار التأسف على فوات نعمة النكاح لما فيها من قضاء الشهوة، وحصول الصيانة، وورود النفقة عليها، وهذا المعنى يقتضي وجوب الحداد على المبتوتة، وإنما يلزمها الاجتناب عن هذه الأشياء حالة الاختيار أما في حالة الاضطرار فلا بأس بها بأن اشتكت رأسها أو عينها فصبت عليه الدهن، أو أكتحلت لأجل المعالجة فلا بأس ولكن لا تقصد به الزينة، وكذلك إن اعتادت الدهن، فخافت وجعاً يحل بها لو لم تفعل فلا بأس به إذا كان الغالب هذا الحلول؛ لأن الضرر الذي يلحق غالباً بمنزلة المتحقق فيجب الاحتراز عنه لكن لا تقصد به الزينة۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

  ۲۲/رجب۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب