| 86386 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
مفتی صاحب میرے دادا بہت امیر شخص تھے، انہوں نے دو شادیاں کر رکھی تھیں، پہلی بیوی سے چار بیٹے، دو بیٹیاں اور دوسری بیوی سے بھی چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، پہلی بیوی بہت سادہ اور خاموش طبع تھیں اور دوسری بیوی ذرا مختلف تھیں، انہوں نے اپنے بچوں کو انگلستان سیٹل کروا دیا تھا، میرے والد شہر سے باہر رہتے تھے،ان کی دو دکانیں تھیں،وہ باہر ہوتے تھے، ہم بہن بھائی ایک کمرے میں رہتے تھے، ہماری دادی (دادا کی پہلی بیوی)نے ہماری ماں کو کہا کہ بچے لے کر سامنے والے گھر میں شفٹ ہو جاؤ جو کہ میرے دادا کا تھا اور اس وقت خالی تھا اور اس وقت میرے دادا بھی زندہ تھے،میری ماں کو نہ چاہتے ہوئے بھی شفٹ ہونا پڑا جو کہ دوسری دادی کو بہت برا لگا انہوں نےبہت کوشش کی ہمیں گھر سے نکالنے کی، پھرمیری ماں نے جنرل ضیاءالحق صاحب کو درخواست دی اور کیس ہمارے حق میں ہو گیا،اس وقت میرے والد بہت بیمار تھے تو عدالت کا سارا خرچہ میرے بھائی (جو کہ ہم سب میں بڑے ہیں)نے دیا اور تمام کیس بھی انہوں نے میرے والد کے ساتھ فالو کیا اور گھر میرے والد کے نام ہو گیا،والد بیمار تھے اور وہ دکانیں اور گھر میرے بھائی کو نہیں دینا چاہتے تھے،کچھ عرصہ بعد ہمارے والد کا انتقال ہو گیا اور ہمیں پتہ چلا کہ دکان اور مکان بھائی کے نام ہو گئے ہیں، میری ماں نے بہت شور کیا مگر کچھ نہ ہوا ۔
دکان بیچ دی گئی اور گھرکو دو دفعہ توڑ کر بنایا اور پھر بھائی نے ایک اور گھر بنایا جو کہ اب بھی موجود ہے اور پرانہ گھر کرایہ پر دیا اور بعدازاں بیچ دیا،اب بھائی نے جو نیا گھر بنایا تھا وہ گھر اپنی بیٹی کو ٹرانسفر کردیا ،کسی بھی بہن کو نہ دکان سے اور نہ ہی مکان سے کچھ ملا ،ہم بہنوں نے اب جب بات کی تو وہ کہتے ہیں کہ بہنوں کا تو کچھ نہیں بنتا، ہم سات بہنیں اور ایک بھائی ہیں کیا ہمارا کچھ حصہ بھائی کی طرف بنتا ہے یا نہیں؟
تنقیح:سائلہ نے بتایاہے کہ داداکا یہ گھر بعدمیں ترکہ میں مرحوم والدکے حصہ میں آگیاتھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم والدکی میراث میں تمام بیٹیوں کا بھی حصہ ہے،بھائی کابہنوں کوحصہ نہ دیناان کے حق کوغصب کرنا ہے اوریہ بہت سخت گناہ ہے،اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء،آیت نمبر13،14 میں میراث کے احکام بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ’’تلک حدود اﷲ ‘‘یعنی یہ میراث کے احکام اللہ تعالی کی بیان کردہ حدود ہیں ،جو اللہ اور اس کے رسول کی اس(میراث ) کے حوالے سے اطاعت کرے گا، اللہ تعالیٰ اُسے ایسی جنت میں داخل فرمائیں گے جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اوروہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اوریہ بہت بڑی کامیابی ہے اورجو اس میراث کے حوالے سے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے اور اس کے بیان کردہ حدود سے تجاوز کرتاہے، اللہ اس کو آگ میں داخل کردیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گااور اس کے لئے ذلت آمیز عذاب ہو گا، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جو شخص اللہ تعالی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقرر کردہ حصہ میراث سے کسی وارث کو محروم کر ے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت سے محروم کردیتے ہیں۔
بھائی اللہ کے عذاب کوسوچیں،اس حقیرسی دنیاکے لئے بہنوں کے حق کوغصب کرکے ظالم نہ بنے،جس کاجتناحصہ بنتاہے فوری طورپراس کووہ حصہ دے،باقی بھائی نے اس مکان پرجوعدالتی اخراجات کئے ہیں تووہ سب ورثہ میں ان کے حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوں گے،یعنی جس کاحصہ زیادہ ہے تو خرچہ بھی اس کے حصہ میں زیادہ آئے گااورجس کاحصہ کم ہے توخرچہ کاتناسب بھی اس پرکم ہوگا۔
حوالہ جات
فی شعب الإيمان لأبو بكر البيهقي (ج 6 / ص 224):
قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قطع ميراثا فرضه الله و رسوله قطع الله به ميراثا من الجنة۔
فی رد المحتار (ج 4 / ص 527):
سئل في عقار لا يقبل القسمة كالطاحون والحمام، إذا احتاج إلى مرمة وأنفق أحد الشريكين من ماله، أجاب: لا يكون متبرعا ويرجع بقيمة البناء بقدر حصته كما حققه في جامع الفصولين، وجعل الفتوى عليه في الولوالجية، قال في جامع الفصولين معزيا إلى فتاوى الفضلي: طاحونة لهما أنفق أحدهما في مرمتها بلا إذن الآخر لم يكن متبرعا، إذ لا يتوصل إلى الانتفاع بنصيبه إلا به۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲۲/رجب ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


