03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی،تین بیٹوں اور نو بیٹیوں میں تقسیم میراث
86513میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مرحوم نے اپنے ورثاء میں بیوی، 3 بیٹے اور 9 بیٹیاں چھوڑی ہیں،مرحوم نے اپنی زندگی میں 3سال پہلے مال اولاد میں تقسیم کیا تھا ،جسکی کل مالیت 45 لاکھ تھی،جس میں سے 20 لاکھ کے 4 پلاٹ خریدے اور ایک گھر جسکی مالیت 20 لاکھ تھی جس میں آدھا گھرمرحوم نے اپنے لئے اور بیوی کیلئے اور آدھا بڑے بیٹے کیلئے تقسیم کیا اور اسی اپنے آدھے گھر کی وصیت بھی کی کہ میری زندگی میں  میرا ہے اور میرے بعد میری 9 بیٹیوں کا ہوگا (سائل کی وضاحت کے مطابق یہ 120گز کاگھر تین کمروں پر مشتمل ہے،تقسم کرنے سے دوالگ الگ فیملیوں کی رہائش کے قابل نہیں رہے گا،یعنی ناقابل تقسیم ہے)اور ایک پلاٹ بھی دیا تھا بیٹیوں کو اسکی مالیت 5 لاکھ تھی۔ اور بقیہ 3 پلاٹ دو بیٹوں کو دیےتھے۔ ڈھائی  ڈھائی لاکھ دونوں بیٹوں کو نقد دیے تھے یعنی دونوں کو 5 لاکھ نقددیے۔

 نوٹ : مرحوم اپنی زندگی میں تقسیم کو واپس لینے کا ارادہ رکھتے تھے،لیکن اس سے پہلے حادثاتی طور پر انتقال فرما گئے . آیا اب مرحوم کا مال جائیداد کی تقسیم پر ہو گی جو اپنی زندگی میں کیا تھا مرحوم نے ؟ یا پھر وراثت  کی تقسیم پر ہوگا؟اور ہر فرد کا کیا حصہ ہوگا؟ اور کتنا ہوگا؟ جائیداد اور وراثت دونوں صورتوں میں مطلع فرمادیں اور مزید یہ کہ گوروکفن کا ذمہ کس پر ہوگا اور کتنا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 زندگی میں  اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا  جائز ہے،اور اس میں اولاد کے درمیان برابری کرنی چاہیے،شرعا یہ ہبہ کے حکم میں  ہے،اور ہبہ میں قبضہ ضروری ہے،اس لیے  اگر والد نے قبضہ دیا ہے اس طور پر  کہ اس جائیداد سےاپنے تصرفات ختم کرکے ، اس کے تمام حقوق اور سارے متعلقہ امور سے دستبردار ہوکراولاد کے حوالے کردیا ہو توجائیداد اولاد کی ملکیت میں آگئی ہے،اگر اس طرح قبضہ نہ دیا ہوتو پھر یہ جائیداد والد کے فوت

ہونے کے بعد میراث کا حصہ بن کر تمام ورثہ میں تقسیم ہوگی۔

1۔صورت مسئولہ میں بڑے بیٹے کو آدھا گھر دیا تھا،گھر کی جو کیفیت سائل نے بتائی ہے اس کے مطابق یہ ناقابل تقسیم ہے،لہذا والد نے بیٹے کو اس کے حصے کا قبضہ بھی دیا ہوجیساکہ اوپر گذر چکا ہے تو وہ آدھا حصہ اس کی ملکیت میں آگیا ہے،یہ اسی کا ہے،میراث میں تقسیم نہیں ہوگا۔

2۔بقیہ آدھے گھر کے بارے میں یہ کہا کہ والد کی زندگی میں والد کی ملکیت ہے،اور فوت ہونے کے بعد بیٹیوں کی ملکیت میں ہوگا،اس بات سے یہ مکان بیٹیوں کو ہبہ نہیں ہوا ہے،بلکہ یہ میراث کاحصہ بن کر تمام ورثہ میں تقسیم ہوگا،البتہ اگر دیگر ورثہ ،بیٹیوں کو دینے پر راضی ہیں تو گنجائش ہے،دے سکتے ہیں۔

3۔ایک پلاٹ بیٹیوں کو اور دو پلاٹ بیٹوں کو دیے ہیں ، ان میں بھی اگر قبضہ دیا تھا تو وہ بیٹیوں اور بیٹوں کی ملکیت بن گئے ہیں۔

4۔جو نقد رقم بیٹوں کے حوالے کی ہے وہ بیٹوں کی ہوگئی ہے،وہ تقسیم نہیں ہوگی۔

2۔     جیساکہ اوپر گذر  چکا ہے کہ اگر والد نے جائیداد ہبہ کرنےکے ساتھ قبضہ بھی دیا ہو تو وہ اولاد کی ملکیت بن چکی ہے،لہذا اپنی زندگی میں اگر واپس نہیں لی ہے، تو پھر بدستور اولاد کی ملکیت ہے ،وہ میراث کا حصہ بن کر تقسیم نہیں ہوگی۔

3۔     مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے:۔

میراث کے 120حصے بنائے جائیں گے،جن میں سے15حصے بیوی کے ہوں گے،جبکہ 14 حصے ہر بیٹے کو اور7حصے ہر بیٹی کو ملیں گے.

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوی

15

12.5

2

بیٹا

14

11.666

3

بیٹا

14

11.666

4

بیٹا

14

11.666

5

بیٹی

7

5.833

6

بیٹی

7

5.833

7

بیٹی

7

5.833

8

بیٹی

7

5.833

9

بیٹی

7

5.833

10

بیٹی

7

5.833

11

بیٹی

7

5.833

12

بیٹی

7

5.833

13

بیٹی

7

5.833

 

 

 

 

 

حوالہ جات

وفی الدر(5/ 690):

(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك  الواهب لا مشغولا به (في) متعلق بتتم (محوز) مفرغ (مقسوم ومشاع لا) يبقى منتفعا به بعد أن (يقسم) كبيت وحمام صغيرين لأنها (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب وفي الصيرفية عن العتابي وقيل: يجوز لشريكه، وهو المختار (فإن قسمه وسلمه صح) لزوال المانع

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

22/ رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب