03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرکۃ الأعمال (Services partnership) میں نقصان کا حکم
86671شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

میں اوور سیز ایمپلائمنٹ  پروموٹر کا لائنس ہولڈر ہوں، جس کا کام لوگوں کو نوکری کے لیے بیرون ملک بھیجنا ہے۔ اسی سلسلے میں میں نے ایک شخص رانا خان محمد سے 2019 میں  اس طرح شراکت کی کہ لائنس میرا تھا، آفس رینٹ پر تھا، آفس کے فرنیچر کا انتظام اور تجدید خان محمد نے کی۔ میں یہاں کے معاملات دیکھتا تھا اور رانا محمد خان ملائیشیا کے معاملات دیکھتا تھا، گویا دونوں کے ذمے آدھا آدھا کام تھا، نفع بھی آدھا آدھا طے ہوا تھا۔

اب ہم شراکت داری ختم کر رہے ہیں؛ کیونکہ خان محمد نے نقصان پر نقصان کر کے کاروبار کو ڈبو دیا ہے، ہم نے لوگوں کا تقریبا ً 4,500,000/- روپے دینا ہے، جو میرے مطابق خان محمد کو دینا چاہیے؛ کیونکہ:-

  1. وہ ملائشیاء میں اکیلے ڈیل کرتا تھا یا اپنے رشتے داروں کے ساتھ مل کر ویزے لیتا تھا، پھر یہاں مجھ سے پیسے اکٹھے کروا کر لوگوں کو فلائی کرتا تھا۔ میں آج تک وہاں نہیں گیا، نہ مجھے وہاں کے معاملات اور پارٹیز کا پتا ہے۔
  2. خان محمد کہتا ہے کہ مجھ سے وہاں بہت نقصان ہوئے،  جبکہ ہم نے کئی بار اُس کی چوری پکڑی جب اُس نے لوگوں کے پیسے اپنے ذاتی خرچ کے لئے استعمال کئے اور ملائشیا میں بھی  مجھ سے زائد رقم منگو کر اپنے خر چ کے لئے استعمال کی۔  
  3. اُس نے  2019 سے 2024 کے دوران مجھ سے کہیں زیادہ منافع لیا، اس کا لیا ہوا نفع تقریباً پچاس  لاکھ اور میرا تقریباً تئیس لاکھ بنتا ہے۔
  4. اب 4,500,000/- ان لوگوں کا دینا ہے جن کے ویزے نہیں نکلے۔ خان محمد نہ ان کو پیسے واپس کرتا ہے  جو میں نے ان سب لوگوں سے اکٹھے کر کے ملائشیا خان محمد کو بھیجے تھے اور نہ ہی ان کو ویزے دیتا ہے۔ پہلے ان سے جھوٹے وعدے کرتا رہا، اب آخر میں کہتا ہے کہ میرا سارا پیسہ ڈوب گیا ہے اور مجھ سے کہتا ہے کہ ہم دونوں  اس نقصان میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔
  5. نقصانات میں سر فہرست اُس آفس کا کرایہ بھی ہے جس میں ہم کام کرتے تھے ۔ پچھلے آٹھ مہینے سے کرایہ ادا نہیں ہوا۔
  6. 2019 سے 2024 تک میں نے لوگوں سے تقریبا سوا دو کروڑ روپے اکٹھا کر کے  خان محمد کو ملائیشا بھیجے، جبکہ ویزوں کی رقم کم بنتی تھی، لیکن خان محمد  نے مجھے دھوکہ دیا اور زائد پیسے منگوائے۔  
  7. ابتداء میں جس کا ویزہ نہیں لگتا تھا، خان محمد اس کے پیسے واپس کر دیتا تھا، اب پچھلے کچھ عرصے سے لوگوں کو پیسے واپس نہیں کرتا۔ یہیں سے ہمارے نقصانات  کی ابتداء ہوئی اور لوگوں کا ہم سے اعتبار ٹوٹ گیا۔ اب لوگ اپنے پیسے واپس مانگتے ہیں اور خان محمد مجھ سے کہتا ہے کہ تم بھی لوگوں کو واپس کرنے کے ذمہ دار ہو، جبکہ میں نے کسی کا پیسہ اپنے ذاتی خرچ میں استعمال نہیں کیا اور جو بھی پیسہ اکٹھا کیا، خان محمد کو بھیجا۔

 کیا اس صورت میں میرے اوپر بھی کچھ دینا لازم ہے یا میرے اوپر کچھ لازم نہیں؟ میں ان شاء اللہ دل سے شریعت پر عمل کروں گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ کاروبار شرکۃ الأعمال/شرکۃ الصنائع(Services partnership) ہے، شرکۃ الصنائع میں اگر:

  1. نقصان کسی شریک کی تعدی (زیادتی) یا تقصیر (کوتاہی) سے ہو تو اس کا ذمہ دار صرف وہ ہوتا ہے۔
  2. لیکن اگر نقصان میں کسی شریک کی کوئی زیادتی یا کوتاہی نہ ہو تو پھر اولاً اس کو نفع سے پورا کیا جائے گا، اگر نقصان کے وقت کوئی نفع موجود نہ ہو، بلکہ فریقین وقتا فوقتا نفع تقسیم کرتے رہے ہوں تو وہ دونوں سارا نفع واپس کریں گے اور پہلے اس سے نقصان پورا کریں گے، پھر اگر کچھ بچ جائے تو اس کو  طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کریں گے۔ اور اگر نفع بالکل نہ ہوا ہو، یا ہوا ہو، لیکن کم ہو اور اس سے نقصان پورا نہ ہو تو پھر دونوں شریک اس نقصان کو کام کی ذمہ داری کے مطابق برداشت کریں گے، یعنی اگر (مثلاً) کام آدھا آدھا طے ہوا ہو تو نقصان بھی آدھا آدھا برداشت کریں گے، اور اگر ایک کے ذمے دو حصے کام ہو اور دوسرے کے ذمے ایک حصہ تو نقصان بھی اسی تناسب سے برداشت کریں گے۔اس صورت میں دونوں شرکاء پر نقصان کی ذمہ داری اس لیے آئے گی کہ شرکت کے کاروبار میں ہر شریک دوسرے کا وکیل ہوتا ہے، کاروبار سے متعلقہ تمام امور میں ہر شریک کا تصرف دونوں شرکاء کی طرف سے شمار ہوتا ہے۔   

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں:

  1. آپ صرف اس وجہ سے نقصان برداشت کرنے سے انکار نہیں کرسکتے کہ ملائیشا کے معاملات کو رانا محمد خان دیکھتا تھا۔
  2.  البتہ اگر نمبر: 2، 6 اور 7 میں بیان کردہ باتیں درست ہیں اور آپ ان باتوں کو گواہوں یا دیگر معتبر ثبوتوں سے ثابت کرلیں تو ان وجوہات کی وجہ سے جو نقصان ہوا ہوگا، وہ صرف رانا محمد خان پر آئے گا۔ اگر آپ کے پاس گواہ یا کوئی اور معتبر ثبوت نہ ہو تو پھر رانا محمد خان سے قسم کا مطالبہ ہوگا کہ وہ قسم اٹھالے کہ یہ نقصان میری زیادتی یا غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے نہیں ہوا ہے، اگر وہ قسم اٹھانے سے انکار کرے تو اس صورت میں بھی سارا نقصان اسی پر آئے گا، لیکن اگر وہ قسم اٹھالے تو پھر آپ دونوں نے اب تک جتنا نفع لیا ہے، وہ سارا کا سارا واپس کریں گےاور اس سے نقصانات کی ادائیگی کریں گے، اس کے بعد باقی بچ جانے والا نفع آپس میں طے شدہ تناسب کے مطابق  (آدھا، آدھا) تقسیم کریں گے۔

اس تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ رانا محمد خان نے نفع کے طے شدہ تناسب سے جتنی زیادہ رقم لی ہے، وہ واپس کرنا بھی اس کے ذمے لازم ہے۔  

حوالہ جات

المجلة (ص: 256):

 مادة 1336: بيان تقسيم الربح بين الشركاء شرط، فإذا بقي مبهما ومجهولا فتكون الشركة فاسدة.

المجلة (ص: 267):

مادة 1385: شركة الأعمال عبارة عن عقد شركة على تقبل الأعمال فالأجيران المشتركان يعقدان الشركة على تعهد والتزام العمل الذي يطلب ويكلف من طرف المستأجرين سواء كانا متساويين أو متفاضلين في ضمان العمل يعني سواء عقدا الشركة على تعهد العمل وضمانه متساويا أو شرطا ثلث العمل مثلا لأحدهما والثلثان للآخر .

 مادة 1386: يجوز لكل واحد من الشريكين تقبل العمل وتعهده، ويجوز أيضا أن يتقبل واحد وآخر يعمل، ويجوز أيضا للخياطين المشتركين شركة صنائع أن يتقبل أحدهما المتاع ويقصه والآخر يخيطه.

مادة 1387: كل واحد من الشريكين وكيل الآخر في تقبل العمل، فالعمل الذي تقبله أحدهما يكون إيفاؤه لازما عليه وعلى شريكه أيضا فعنان شركة الأعمال في حكم المفاوضة في ضمان العمل حيث أن العمل الذي تقبله أحد الشريكين يطلب المستأجر إيفاءه من أيهما أراد وكل واحد من الشريكين يكون مجبورا على إيفاء العمل فليس لأحدهما أن يقول هذا العمل تقبله شريكي فأنا لا أخالطه.

مادة 1388: عنان شركة الأعمال في حكم المفاوضة في اقتضاء البدل أيضا يعني أنه يجوز لكل واحد من الشريكين مطالبة المستأجر بتمام الأجر وإذا دفعه المستأجر أيضا إلى أي منهما بريء.

مادة 1390: يقسم الشركاء الربح بينهم على الوجه الذي شرطوه، يعني إن شرطوا تقسيمه متساويا يقسموه متساويا وإن شرطوا تقسيمه متفاضلا كالثلث والثلثين مثلا يقسم حصتين وحصة.

مادة 1393: إذا تلف أو تعيب المستأجر فيه بصنع أحد الشريكين فيكون ضامنا بالإشتراك مع الشريك الآخر، والمستأجر يضمن ماله أيا شاء منهما، ويقسم هذا الخسار بين الشريكين على مقدار الضمان، مثلا إذا عقدا الشركة على تقبل الأعمال وتعهدها مناصفة، فيقسم الخسار أيضا مناصفة، وإذا عقدا الشركة على تقبل الأعمال وتعهدها ثلثين وثلثا، يقسم الخسار أيضا حصتين وحصة.

الهداية (3/ 209):

قال: وما هلك من مال المضاربة فهو من الربح دون رأس المال؛ لأن الربح تابع وصرف الهلاك إلى ما هو التبع أولى كما يصرف الهلاك إلى العفو في الزكاة، فإن زاد الهالك على الربح فلا ضمان على المضارب لأنه أمين، وإن كانا يقتسمان الربح والمضاربة بحالها ثم هلك المال بعضه أو كله ترادا الربح حتى يستوفى رب المال رأس المال؛ لأن قسمة الربح لاتصح قبل استيفاء رأس المال؛ لأنه هو الأصل، وهذا بناء عليه وتبع له، فإذا هلك ما في يد المضارب أمانة تبين أن ما استوفياه من رأس المال، فيضمن المضارب ما استوفاه؛ لأنه أخذه لنفسه، وما أخذه رب المال محسوب من رأس ماله، وإذا استوفى رأس المال، فإن فضل شيء كان بينهما؛ لأنه ربح، وإن نقص فلا ضمان على المضارب لما بينا.

 المعاییر الشرعیة (331):

 3/1/5/10 :  لایجوز توزیع الأرباح بشکل نهائی علی أساس الربح المتوقع، بل علی أساس الربح المتحقق حسب التنضیض الحقیقی أوالحکمی.

3/1/5/11 : یجوز توزیع مبالغ تحت الحساب،قبل التنضیض الحقیقی أوالحکمی،علی أن تتم التسویة لاحقاً مع الالتزام برد الزیادة عن المقدار المستحق فعلاً بعد التنضیض الحقیقی أو الحکمی.

 وفی صفحة:358:

مستند جواز توزیع مبالغ تحت الحساب قبل التنضیض علی أن تتم التسویة لاحقاً مع الالتزام برد الزیادة: أنه لا ضرر فی ذلك علی أحد الشرکاء ما دام هذا المبلغ قابلاً للتسویة.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

      24/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب