| 86644 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
1۔ہمارے والد صاحب کا 1995ء میں انتقال ہوا، انہوں نے ترکہ میں ایک چھپائی کا کارخانہ اور کچھ دیگرسامان چھوڑا، کارخانے میں اللہ نے خوب ترقی دی، ہم سب نے اس سے شادیاں کیں، پراپرٹیاں بھی خریدیں، بڑا بھائی پراپرٹی خرید کر اپنے نام کرواتا گیا، اب وہ کہتا ہے کہ یہ سب پراپرٹیاں میری ہیں، بہن بھائیوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ سب میری اور میری بیوی کی محنت سے بنی ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا یہ کارخانہ وراثت شمار ہو گا؟ جب کہ ابھی تک والد کی وراثت تقسیم نہیں کی گئی اور کاروبار بھی اسی گھر میں جاری تھا، جس میں ہماری رہائش تھی اور سب اکٹھےرہتے تھے اور اکٹھے کام کرتے تھے۔
2۔ مرحوم کےورثاء میں ایک بیوہ، چار بیٹے اور چھ بیٹیاں شامل ہیں، سوال یہ ہے کہ ان کا ترکہ ان ورثاء میں کس طرح تقسیم ہو گا؟
وضاحت: سائل کے دوسرے بھائی معین الدین سے رابطہ ہوا، اس نے بتایا کہ میں نے والدکاکاروبار علیحدہ تھا، میں نے ان کی اجازت سے ان کی زندگی میں اپنا علیحدہ کام شروع کیا تھا، اس میں والد اور کسی بہن بھائی کا کوئی سرمایہ نہیں لگا، میں نے اپنی رقم سے یہ کاروبار شروع کیا تھا، باقی بھائی میرے پاس بطور ملازم کام کرتے تھے،اس میں نے یہ سب پراپرٹیاں اپنے کاروبار سےخریدی ہیں، میں اس پر حلفیہ بیان دینے کو تیار ہوں۔ آپ دوسرے بھائیوں کو بلا لیں، میں ان کے سامنے بھی اس بات کو ثابت کروں گا اور میں بعض مفتیان کرام سے فتوی بھی لے چکا ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ فریقین کے بیانات میں واضح طور پر تعارض پایا جا رہا ہے، ایک کا دعوی ہے کہ یہ والدکے بعد سب بھائیوں کا مشترکہ کاروبار تھا اور اسی سے پراپرٹی خریدی گئی، جبکہ دوسرے کا دعوی ہے کہ یہ میرا ذاتی کاروبار تھا، اس لیے ہر فریق کا مختلف مفتیان کرام سے اپنے بیان کے مطابق فتوی لے لینا مسئلہ کا حل نہیں ہے، بلکہ اس طرزِ عمل سے فریقین کے درمیان مزید اختلاف بڑھنے کا اندیشہ ہے،لہذا فریقین کے لیے بہتر یہ ہے کہ کسی معتبر اورسمجھدارایک یا دو افرادکو ثالث بنا کر ان کے ذریعہ سے اپنا مسئلہ حل کروا لیں یا کم سے کم دونوں فریق ایک مشترکہ سوال نامہ بنا کر کسی دارالافتاء میں بھیج کر فتوی لے لیں اور اس کے مطابق عمل کر لیں،نیزہرفریق اپنا پورا پورا حق لینے کی بجائے صلح کے اصولوں کو اپنانے کی کوشش کرے اور جو فریق اپنے بھائی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کچھ حصہ چھوڑے گا وہ اس کے عوض آخرت میں بڑے اجر کا مستحق ہو گا۔ اس طرح ان شاء اللہ معاملہ حل ہو جائے گا اور فریقین کے درمیان تعلقات بھی اچھے رہیں گے۔
باقی والد کا کاروبار جس پر فریقین کا اتفاق ہے اور وہ ابھی تک تقسیم نہیں ہوا تووہ کاروبار ترکہ شمار ہو گا، جس کی تفصیل دوسرے سوال کے جواب میں آ رہی ہے۔
القرآن الكريم[الحجرات: 10]:
{ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ}
2۔ آپ کے والدمرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب الادء ہو، يہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ تبرع ادا کر دیے ہوں تو پھر یہ ترکہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں، اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور پھرترکہ کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک مرحوم کی طرف سے کی گئی جائز وصیت پر عمل کیا جائے گا، اس کے بعد جو تركہ باقی بچے اس میں آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوہ کو دینے کے بعد باقی مال کو ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کر دیا جائے کہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ ملے۔ تقسیمِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
وارث |
عددی حصہ |
فيصدی حصہ |
|
1 |
بیوی |
14 |
12.5% |
|
2 |
بیٹا |
14 |
12.5% |
|
3 |
بیٹا |
14 |
12.5% |
|
4 |
بیٹا |
14 |
12.5% |
|
5 |
بیٹا |
14 |
12.5% |
|
6 |
بیٹی |
7 |
6.25% |
|
7 |
بیٹی |
7 |
6.25% |
|
8 |
بیٹی |
7 |
6.25% |
|
9 |
بیٹی |
7 |
6.25% |
|
10 |
بیٹی |
7 |
6.25% |
|
11 |
بیٹی |
7 |
6.25% |
|
مجموعہ |
12 |
112 |
100 |
حوالہ جات
القرآن الکریم: [النساء: 11]:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}
القرآن الکریم: [النساء: 12]:
{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ }
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
24/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


