03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گناہ کی وجہ سے قریبی رشتہ داروں سے تعلق ختم کرنا
86732جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم! کن صورتوں میں سگے بھائی بہن سے قطع تعلق  جائز ہے ؟

 ایک  خاتون ہے  جو شادی شدہ ہےاور بچے بھی جوان ہیں۔ وہ ایک عرصے سے ایک شخص سے تعلق رکھے ہوئے ہے۔ گھر والوں کے بہت سمجھانے کے بعد بھی باز نہیں آ تی ۔جب لوگوں نے حد سے زیادہ اعتراض اور لعن طعن کی تو یہ معلوم ہوا کہ وہ شخص اس خاتون سے نکاح کر چکا ہے ۔اور پہلے جس کے نکاح میں تھی  اس  نے اسے  طلاق دے دی تھی ۔حا لانکہ یہ ابھی بھی اپنے پرانے شوہر(جس نے طلاق دے دی تھی) کے گھر  میں ہی  رہ رہی ہیں ۔ ہر طرح سے سمجھانے کے بعد بھی باز نہیں آ تی تو  کیا ان سے قطعِ تعلق  جائز ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرطلاق کے بعد عدت گزر چکی ہے تو عورت کے لیے سابقہ شوہر کے گھر رہنا جائز نہیں۔عدت کے بعد اسے نئے نکاح کے لیے اولیاء کی مدد سے کوشش کرنا چاہیے تھی۔ تاہم اگر نکاح ہو چکا ہےتو اسے فوری طور پر نئے شوہر کے پاس منتقل ہو جانا چاہیے۔ عورت کے اولیاء اور بھائی بہن کو اس سلسلے میں اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ اگر عورت نے عدت کے دوران نکاح کیا ہو تو یہ منعقد نہیں ہوا، لیکن سابقہ  شوہر کے ساتھ رہنا پھر بھی درست نہیں۔ اگر عورت مسمّی ناجائز کام میں اعلانیہ ملوث ہو اور بائیکاٹ مفید ہو تو اس کی بھی گنجائش ہو گی۔ تاہم سوال میں یہ بات واضح نہیں ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ:قوله: (لا يدخل الجنة قاطع) .....قال سفيان: يعني قاطع رحم. ..... وللمصنف في الأدب المفرد من حديث أبي هريرة رفعه :"إن أعمال بني آدم تعرض كل عشية خميس ليلة جمعة، فلا يقبل عمل قاطع رحم".وللطبراني من حديث ابن مسعود :"إن أبواب السماء مغلقة دون قاطع الرحم" .وللمصنف في الأدب المفرد من حديث ابن أبي أوفى رفعه: "إن الرحمة لا تنزل على قوم فيهم قاطع الرحم". (فتح الباري:10/ 415)

وقال العلامۃ علی القاری رحمہ اللہ: قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، ولا يجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك.........وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه، أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده.

(مرقاة المفاتيح :8/ 3146)

وقال العلامۃ خلیل احمد السھارنفوری رحمہ اللہ: قال السيوطي: والمراد حرمة الهجران إذا كان الباعث عليه وقوع تقصير في حقوق الصحبة، والأخوة، وآداب العشرة، كاغتياب، وترك نصيحة، وأما ما كان من جهة الدين والمذهب فهجران أهل البدع والأهواء واجب إلى وقت ظهور التوبة، ومن خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه الدين، أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته، والبعد عنه، ورب هجر حسن خير من مخالطة مؤذية. (بذل المجهود :13/ 319)

سعد امین بن میر محمد اکبر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

25/رجب  المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سعد امین بن میر محمد اکبر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب