| 86694 | خرید و فروخت کے احکام | دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت |
سوال
بندہ ایمازون پرٹی شرٹس (t.shirts) وغیرہ بھی بیچتاہے اور اس کی صورت کچھ اس طرح ہے کہ پہلے بندہ اپنا ڈیزائن بنا کر ایمازون پر بیچنے کے لیے ڈال دیتا ہے ،جب آرڈر آتا ہے تو اپنےجی میلGmail)) اکاؤنٹ کے ذریعہ پرنٹیفائی (printyfy) نام کی ویب سائٹ کو بھیج دیتاہے، یہ ویب سائٹ ٹی شرٹ (t.shirt) بنا کراس کو پرنٹ کر کے کسٹمر کو بھیج دیتی ہے اور اس آرڈر پر یہ ویب سائٹ اپنا نام وغیرہ کچھ نہیں دیتی، اس لیے کسٹمر کو یہ لگتا ہے کہ آرڈر سیل مین نے خود بھیجا ہے۔ اس میں دوسری صورت یہ ہے کہ اگر ہم پر نٹیفائی کو ایمازون سے کنیکٹ (conect) کر لیں گے تو جب ہمارے پاس آرڈر آئے گا تو ڈائریکٹ پر نٹیفائی کی طرف چلا جائے گا اور وہ چیز بنا کرکسٹمر کو بھیج دیں گے ، اس میں درمیان کا جو پرافٹ ہے وہ ہمیں مل جائے گا۔ان دونوں صورتوں میں بندے کے لئے کون سی صورت جائز ہے؟ یا اگر جائز نہیں ہے تو کسی اور جائز صورت کی رہنمائی فرما دیجیے۔
وضاحت: سائل نے بتایا کہ جب میں ٹی شرٹس (t.shirts) کا آرڈرایمازون کے ساتھ کنیکٹ (conect) کردیتا ہوں تو اس کی وجہ سےآرڈرخود بخود پر نٹیفائی (printyfy) کو چلا جاتا ہے، پھرمیرے اکاؤنٹ میں پیسے آنے پر ایمازون اپنا کمیشن، پرنٹیفائی کا کمیشن اورشرٹ کی قیمت نکال کر بقیہ پرافٹ مجھے دیتا ہے اور بہر دو صورت میرا قبضہ نہیں ہوتا، بلکہ قبضہ کے بغیر ہی پر نٹیفائی (printyfy) والے شرٹ بنوا کر کسٹمر کو چیز بھیج دیتے ہیں اور راستے کا ضمان اوررسک بھی پر نٹیفائی کے ذمہ ہوتا ہے، نیز صانع کا انتخاب میں خود کرتا ہوں، کیونکہ پرنٹیفائی ویب سائٹ پر مختلف صانعین ہوتے ہیں اور ہر صانع کا ریٹ بھی ویب سائٹ پر چسپاں ہوتا ہے، میں کسی ایک صانع کو متعین کر کے پرنٹیفائی (printyfy) کو اس کے بنوانے کا آرڈر دیتا ہوں۔
سائل نے یہ بھی بتایا کہ میں نے اپنے اکاؤنٹ پر یہ نہیں لکھا کہ یہ میں جیکٹس اور شرٹس وغیرہ بنوا کر بیچتا ہوں، بلکہ مطلقا لکھا ہے کہ یہ چیزیں آپ خرید سکتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق آپ کسٹمر سے استصناع کا معاملہ کیے بغیر عام خریدوفروخت کا معاملہ کرتے ہیں، جبکہ عام خریدوفروخت میں چیز کا بیچنے والے کی ملکیت اور قبضہ میں ہونا ضروری ہے، اس لیے یہ معاملہ بھی ناجائز ہے، اس كی جائز صورت یہی ہے کہ آپ اپنے پیج پر لکھ دیں کہ یہ ٹی شرٹس آرڈر پر تیار کر کے دی جاتی ہیں، اس کے بعد آرڈر آنے پر آپ خودپرنٹیفائی(printyfy) والوں کو یہ آرڈر بھیج دیں یا اس کو ایمازون کے ساتھ کنیکٹ کر دیں اور پھر پرنٹیفائی (printyfy) والوں کو آرڈر پہنچنے پر وہ آپ کے متعین کردہ صانع سے ٹی شرٹ بنوا دے گا، ٹی شرٹ (t.shirt) تیار ہونے پر آپ خود یا اپنے وکیل (مذکورہ صورت میں پرنٹیفائی والے چونکہ آپ کے کمیشن ایجنٹ ہیں، اس لیے آپ کی طرف سے ان کا قبضہ بھی کافی ہے)کے ذریعہ اس پر قبضہ (قبضہ کرنے کے لیے آپ کورئیر والے کو بھی وکیل بنا سکتے ہیں) کر کے کسٹمر کو روانہ کر دیں اور راستے کا رسک اور ضمان بھی آپ کے ذمہ ہو گا تو یہ معاملہ جائز ہو جائے گا، دراصل اس صورت میں تین معاملے ہوں گے: ایک کسٹمر اور آپ کے درمیان استصناع کا معاملہ، دوسرا آپ اور پرنٹیفائی (printyfy) والوں کے درمیان اجارہ یعنی کمیشن ایجنٹ ہونے کا معاملہ اور تیسرا پرنٹیفائی (printyfy) اور صانع کے درمیان استصناع کا معاملہ ہو گا اور ہرمعاملہ میں مستصنع (آرڈر پر چیز بنوانے والے) کا چیز پر قبضہ کرنا ضروری ہے، البتہ پرنٹیفائی (printyfy) والے چونکہ آپ کے وکیل یعنی کمیشن ایجنٹ کی حیثیت سے ٹی شرٹ پر قبضہ کر کے جب آگے بھیجیں گےتو یہ آپ کا قبضہ شمار ہو گا، کیونکہ وکیل کا قبضہ شرعاً موکل کا قبضہ ہوتا ہے، البتہ اس میں راستے کا ضمان آپ کو برداشت کرنا ہو گا، وہ پرنٹیفائی (printyfy) والوں کے ذمہ نہیں ہوگا، کیونکہ وکیل شرعاً امین ہوتا ہے، نہ کہ ضامن۔
حوالہ جات
تحفة الفقهاء (3/ 235) دار الكتب العلمية، بيروت:
فكل ما لا يحتاج فيه إلى إضافة العقد إلى الموكل ويكتفي فيه بالإضافة إلى نفسه كالبياعات والأشربة والإجارات والصلح عن إقرار ونحوها فإن الحقوق ترجع إلى الوكيل حتى يجب عليه تسليم المبيع وقبض الثمن ويخاصم المشتري الوكيل في العيب ويجب عليه الضمان عند الاستحقاق.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 130) دار الكتب العلمية، بيروت:
والوكيل أمين فيما في يده بحكم الوكالة، فإن صرفها فهلكت الدراهم في يده قبل أن يأخذ منها هلكت من مال الدافع أيضا؛ لأنه وكيل بالصرف، فالقبض بحكم العقد يقع للآمر أولا وتصير الدراهم أمانة في يده.
المعايير الشرعية: (ص:150):
الاستصناع الموازي: 1/7: يجوز أن تبرم المؤسسة بصفتها مستصنعاً عقد استصناع مع الصانع للحصول على مصنوعات منضبطة بالوصف المزيل للجهالة وتدفع ثمنها نقداً عند توقيع العقد، لتوفير السيولة للصانع، وتبيع لطرف آخر بعقد استصناع مواز مصنوعات تلتزم بصنعها بنفس مواصفات ما اشترته، وإلى أجل بعد أجل الاستصناع الأول وهذا بشرط عدم الربط بين العقدين، (انظر البند 4/13 ).
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
25/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


