| 86526 | جائز و ناجائزامور کا بیان | علاج کابیان |
سوال
جانوروں کے خون سے حاصل کردہ ہیمو گلوبن پر مشتمل دوا کو علاج کے طور پر استعمال کرنے کا کیا حکم ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہیموگلوبن خون میں موجود ایک خاص پروٹین ہے جو خون کے سرخ خلیات میں پائی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی کام جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچانا اور وہاں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ واپس پھیپھڑوں تک لانا ہے تاکہ یہ خارج ہو سکے۔
خون نجس اور ناپاک ہے،اور ناپاک اشیاء پر مشتمل دوا کا داخلی و خارجی استعمال جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی ایسی لاعلاج بیماری ہو جس کا علاج کسی پاک حلال دوا میں نہ ہو، اور دین دار ماہر طبیب یقین سے کہے کہ اس ناپاک چیز میں شفا ہے تو استعمال کی گنجائش ہوتی ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر ایسی بیماری ہو جس کے بارے میں دین دار ماہر طبیب / ڈاکٹر یہ کہے کہ ہیموگلوبن پر مشتمل دواء ہی اس کا علاج ہے تو اس صورت میں اجازت ہوگی۔ عام حالات میں اس کی اجازت نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
قال العلامة الحصكفي رحمه الله :اختلف في التداوي بالمحرم، وظاهر المذهب: المنع كما في رضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل :يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص الخمر للعطشان، وعليه الفتوى.(الدر المختار:34)
قال العلامة ابن نجيم رحمه الله :ففي النهاية عن الذخيرة :الاستشفاء بالحرام يجوز إذا علم أن فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر .وفي فتاوى قاضي خان: معزيا إلى نصر بن سلام معنى قوله عليه السلام «إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم» إنما قال ذلك في الأشياء التي لا يكون فيها شفاء فأما إذا كان فيها شفاء فلا بأس به ألا ترى أن العطشان يحل له شرب الخمر للضرورة .(البحر الرائق :122/1)
محمد فیاض بن عطاءالرحمن
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۰ رجب المرجب ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فیاض بن عطاءالرحمن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


