| 86620 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
مجھے وہم کا مسئلہ ہے، اور اس کی وجہ سے اکثر چیزیں ناپاک لگتی تھیں۔ اب میری حالت کافی بہتر ہے، لیکن بہت سی ایسی چیزیں جنہیں میں پہلے ناپاک سمجھتا رہا، اب یاد نہیں کہ وہ واقعی ناپاک تھیں یا میرا وہم تھا۔ کیا میں ان چیزوں کو پاک تصور کر سکتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب تک کسی چیز کے بارے میں یقین نہ ہوجائے کہ وہ ناپاک ہے یا اس پر ناپاکی لگی ہے ،اس وقت تک وہ پاک ہی سمجھی جائے گی۔محض امکانات اور احتمالات کی بنیاد پر کسی چیز پر ناپاکی کا حکم نہیں لگتا ،یہ حرج ہے اور دین کے احکام میں حرج نہیں ہوتا۔لہٰذا محض گمان اور شک کے بنیاد پرآپ ان چیزیں کو ناپاک سمجھنا ترک کردیں ،بلکہ ان کو پاک ہی خیال کریں ۔
حوالہ جات
أصول السرخسي = تمهيد الفصول في الأصول - ت الأفغاني (2/ 203):
وأما الترك لأجل الضرورة فنحو الحكم بطهارة الآبار والحياض بعدما نجست والحكم بطهارة الثوب النجس إذا غسل في الإجانات فإن القياس يأبى جوازه لأن ما يرد عليه النجاسة يتنجس بملاقاته تركناه للضرورة المحوجة إلى ذلك لعامة الناس فإن الحرج مدفوع بالنص وفي موضع الضرورة يتحقق معنى الحرج۔
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 151):
(قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن، وكذا الآبار والحياض والجباب الموضوعة في الطرقات ويستقي منها الصغار والكبار والمسلمون والكفار؛ وكذا ما يتخذه أهل الشرك أو الجهلة من المسلمين كالسمن والخبز والأطعمة والثياب اهـ ملخصا.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی
22/رجب 6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


