03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایمازون پر (FBM) کے ذریعہ کام کی ایک صورت
86693خرید و فروخت کے احکام دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت

سوال

  بندہ ایمازون پر (FBM) پر کام کرتا ہے جس کا طریقہٴ کار کچھ اس طرح ہے کہ بندہ اپنے ڈیزائنز و غیرہ اے ائی (AI) سے بناکر ان کو ایمازون پر بیچنے کے لیے ڈال دیتا ہے، یہ ڈیزائنز لیدر جیکٹ (leather jacket) کی ہیں،  جب بندہ کے پاس جیکٹ کا آرڈر آتا ہے تو اس کو پاکستان سے بنوا کے بیرون ملک کسٹمر کو شپ کروا  دیتا ہے تو کیا یہ صورت جائز ہو سکتی ہے ؟ جبکہ میں کراچی سے جیکٹ بنوا کر قبضہ کر کے آگے بھیجتا ہوں،  اگر جائزنہیں ہے تو کسی طرح جائز ہو سکتی ہوتو  رہنمائی کیجیے۔

وضاحت: سائل نےبتایا کہ میں نے اپنے پیج پر یہ نہیں لکھا کہ ہم چیز بنوا کر کسٹمرکو دیتے ہیں، بلکہ مطلقاً لکھا ہے کہ کسٹمر یہ چیز خرید سکتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں آپ نے چونکہ اپنے آن لائن پیج (Page) پر یہ نہیں لکھا کہ میں یہ چیز بنوا کر دیتا ہوں، بلکہ جیکٹس کی تصاویر لگا کر خریداری کا آپشن دیا ہے، اس لیے یہ استصناع کی بجائےعام خریدوفروخت کا معاملہ ہے، جس میں شرعی نقطہ ٴ نظر سے چیز کی ملکیت اور قبضہ میں ہونا ضروری ہے، جبکہ مذکورہ صورت میں خریدوفروخت کا معاملہ کرتے وقت وہ چیز آپ کی ملکیت اور قبضہ میں نہیں  ہوتی، اس لیے یہ خریدوفروخت ناجائز ہے۔

اس کی جائز صورت یہ ہے کہ آپ اپنے آن لائن  پیج پر تفصیل(Description)کے آپشن(Option) میں  یہ لکھ دیں کہ یہ چیز آرڈر پر فیکٹری سے بنوا کردی جائے گی، اس کےبعد آرڈر فائنل ہونے کی صورت میں فریقین کے درمیان استصناع (خریدفروخت کی وہ قسم  جس میں آرڈر پر چیزبنواکر دی جاتی ہے، جیسے فرنیچر وغیرہ) کا معاملہ ہو گا اور  استصناع کے معاملے میں چیز کی ملکیت اور قبضہ میں ہونا ضروری نہیں ہے،  کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ استصناع کے معاملے  میں معدوم چیز کی خریدوفروخت ہوتی ہے اوراس کو خلافِ قیاس (خریدوفروخت کے عام اصولوں سے ہٹ کر)جائز قرار دیا گیا ہے۔ لہذا ایسی صورت میں آپ  وہ چیز بنوا  کر  اس پرقبضہ کرنے کےبعد آگے کسٹمر کو روانہ کر سکتے ہیں،  البتہ یہ بات یاد رہے کہ چیز بنوانے کے بعدکسٹمرکوروانہ کرنے سےپہلےآپ کا خود یا اپنے وکیل(قبضہ کرنے کے لیے آپ کورئیر والے کو بھی وکیل بنا سکتے ہیں)کے ذریعہ قبضہ کرنا بھی ضروری ہے، اگر قبضہ کیے بغیر کسٹمر کو روانہ کر دی گئی تو یہ معاملہ ناجائز ہو گا اور حاصل شدہ نفع بھی حلال نہیں ہو گا، بلکہ اس کو صدقہ کرنا واجب ہو گا۔

حوالہ جات

المعجم الأوسط (2/ 154) دار الحرمين – القاهرة:

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سلف وبيع، وعن شرطين في بيع، وعن بيع ما لم يقبض، وربح ما لم يضمن»

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 473) دار الكتب العلمية، بيروت:

جوزنا الاستصناع للتعامل والاستصناع بيع ما ليس عنده وإنه منهي عنه ولكن قيل: تجويز الاستصناع بالتعامل تخصيص منا للنص الذي ورد في النهي عن بيع ما ليس عند الإنسان لا تركا للنص أصلا، لأنا عملنا بالنص في غير الاستصناع.

الفتاوى الهندية (4/ 517) الناشر: دار الفكر،بيروت:

والاستصناع بيع هو الأصح والمستصنع بالخيار إذا رآه ولا خيار للصانع هكذا قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - أولا وعليه الفتوى. كذا في الخلاصة.

  المعايير الشرعية: (ص:149):

8/6 : لا يجوز بيع المصنوع قبل تسلمه من الصانع حقيقة أو حكما .( انظر البند (4/6) ولكن يجوز عقد استصناع آخر على شيء موصوف في الذمة مماثل لما تم شراؤه من الصناع ويسمى هذا الاستصناع الموازي ( انظر البند 7 ).

9/6:  يجوز للمؤسسة المستصنعة أن توكل الصانع ببيع المصنوع بعد التمكن من قبضه إلى عملاء الصانع لصالح المؤسسة، سواء كان التوكيل مجانا، أم بأجر مقطوع، أم بنسبة من ثمن البيع، على أن لا يشترط هذا التوكيل في عقد الاستصناع.

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

25/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب