03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
PMEX پرفاریکس ٹریڈنگ کا حکم
86665خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

فاریکس ٹریڈنگ کے بارے میں پوچھنا تھا کہ اس میں ٹریڈ کرنا حلال ہے یا حرام؟ اصل میں فاریکس ٹریڈنگ میں دو کرنسیوں کو خریدا اور بیچا جاتا ہے۔ یہ اس طرح ہے جیسے پاکستان میں ہم پیسے ایکسچینج کرتے ہیں۔ جب ہم خریدتے ہیں تو وہ ہمیں ایک یا دو روپے زیادہ پر فروخت کرتے ہیں، اور جب ہم بیچتے ہیں تو وہ مارکیٹ ریٹ سے دو یا تین روپے کم پر خریدتے ہیں،اسی طرح فاریکس ٹریڈنگ میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔جہاں تک قبضہ کی بات ہےتو پاکستان میں ایک ادارہ PMEX کے نام سے موجود ہے، جس میں اپنا اکاؤنٹ کھلوا کر فزیکل ٹریڈ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی سطح پر بھی ایسے ادارے ہیں جہاں اکاؤنٹ کھولے جاتے ہیں، اور وہ کسی نہ کسی طرح فزیکل طور پر موجود ہوتے ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ مفتیان کرام اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آن لائن فاریکس ٹریڈنگ  کا اصولی جواب یہ ہے کہ  کمیوڈیٹز اور کرنسیز میں آن لائن فاریکس ٹریڈنگ درج ذیل شرائط کےساتھ جائز ہے :

-1فاریکس ٹریڈنگ کی کمپنی متعلقہ ملک کے مجاز اور نگران ادارے کےپاس رجسٹرڈ ہو ۔واضح رہے کہ یہ بات اس ملک میں شرط ہوگی ،جس میں اس کا رجسٹرڈہونا قانونا لازمی ہو، بصورت دیگر فراڈ سے بچنے کےلیے اس کا اہتمام کرنا چاہیے، لازمی نہیں۔

-2اس کی لین دین حقیقی ہو ، صرف اکاونٹ میں ظاہر نہ کی جاتی ہو ۔

3اسے بیچنے والا اس کا حقیقتا مالک   ہو اور بیچنے سے پہلے اس پر قبضہ بھی کیا ہو ۔

-4ایک ملک کی کرنسیز اور سونے کا لین دین کرنے میں یہ بھی شرط ہےکہ عقد کی مجلس میں ہی کسی ایک کرنسی پر حقیقتا یا حکما قبضہ کر لیا جائے۔

-5بیع فوری ہو ، فیوچر یا فارورڈسیل نہ ہو۔

 ہماری معلومات کےمطابق فاریکس ٹریڈنگ کےموجودہ ماڈل میں ان شرائط  کا عملا خیال نہیں رکھا جاتا ،اس لیے  اس سے احتراز لازم اور اس پر کام کرنا ناجائز  ہے ۔(تبویب 84197)

پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج میں سونے کی چند اقسام کے علاوہ باقی تمام چیزوں میں ہونے والی ٹریڈ میں خریدی جانے والی

چیز پر نہ تو قبضہ لیا اور دیا جاتا ہے اور نہ ہی قبضہ مقصود ہوتا ہے۔ اس میں مقصود قیمتوں کے فرق کو برابر کرنا ہوتا  ہے جسے کیش سیٹلمنٹ (Settlement) کہا جاتا ہے۔ مثلاًاگر زید نے آج تیل کی خریداری کی ہے (جسے اصطلاح میں لانگ کرنا کہتے ہیں)  تو اس کا مقصد تیل خریدنا نہیں ہوتا بلکہ مستقبل میں اس کی قیمت کی بنیاد پر نفع یا نقصان حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اب اگر کل تیل کی قیمت بڑھ گئی تو زید کو نفع ہو جائے گا اور اگر کم ہو گئی تو نقصان ہو جائے گا۔   شرعاً بیع (خرید و فروخت) کا مقصد کسی چیز کی ملکیت حاصل کرنا ہوتا ہے  جو کہ یہاں پایا نہیں جاتا، لہذا یہ عمل سٹہ بازی یعنی قمار (جوے) کے تحت آتا ہے ۔ چنانچہ ٹریڈ کی یہ قسم حرام ہے اور اس سے حاصل شدہ آمدن بھی حرام اور واجب التصدق ہے۔(تبویب80975 (

حوالہ جات

القرآن الکریم (النساء :(59:

یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505):

 وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.

الدر المختار (5/ 179):

( باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز ) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 256):

(وما لا تصح) إضافته (إلى المستقبل) عشرة (البيع، وإجازته، وفسخه، والقسمة والشركة والهبة والنكاح والرجعة والصلح عن مال والإبراء عن الدين) لأنها تمليكات للحال فلا تضاف للاستقبال كما لا تعلق بالشرط لما فيه من القمار.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 561):

ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

25/رجب /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب