| 86674 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
میرا شوہر سے ایک بات میں اس کے سچا یا جھوٹا ہونے میں جھگڑا تھا، میں نے کہا: قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاؤ کہ سچ بول رہے ہو۔ شوہر نے کہا: میں قرآن پر قسم کھالوں گا، لیکن پہلے تم قرآن پر قسم کھاؤ کہ اگر میرا شوہر قرآن کی قسم کھائے اور وہ سچا نکلا تو مجھے طلاق ہو جائے گی۔اس کے بعد میں قرآن پاک لے کر آگئی لیکن جیسے میرے شوہر نے شرط رکھی تھی کہ پہلے تم قسم کھاؤ وہ میں نے نہیں کھائی، اور میرے شوہر نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کرصرف اتنا کہا کہ تم کو غلط فہمی ہوئی ہے، انھوں نے قسم نہیں کھائی اور نہ میں نے کھائی تھی، اب اس کی روشنی میں اس معاملے کا حکم کیا ہے ؟
نوٹ : 17 سال پہلے ایک طلاق دے کر شوہر اس سے رجوع کر چکا ہے اور یہ معاملہ دوسری طلاق کا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر اس معاملہ کی صورت واقعی یہی تھی جو سوال میں مذکور ہےتو اس میں شوہر نے بیوی کےمطالبہ پر پہلے بیوی سے ہی طلاق کے الفاظ پر مشتمل قسم کھانے کا مطالبہ کیا،مگر بیوی نے اس کے مطابق قسم نہیں کھائی، اور بالفرض اگر وہ قسم کھا بھی لیتی تو چونکہ شوہر نے اپنے مطالبے میں تفویض ِطلاق کے الفاظ استعمال نہیں کیے،اس لیے صورتِ مسئولہ میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اور 17سال پہلے شوہر کے ایک طلاق دے کراس سے رجوع کی صورت میں اسے جومزید دوطلاقیں دینے کا حق تھا وہ باقی ہے،لہٰذا آئندہ ایسی نوبت آنے کے بجائے افہام وتفہیم سے کام لینےاور ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے خوشگوار زندگی گزارنے کی کوشش کریں ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار :3/ 230):
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية .
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 224):
وقال الشافعي رحمه الله:عدد الطلاق معتبر بحال الرجال لقوله عليه الصلاة والسلام :" الطلاق بالرجال والعدة بالنساء " ... وتأويل ما روى أن الإيقاع بالرجال.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
26 /رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


