| 86664 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ جب کوئی عورت شادی کر لیتی ہے تو کیا وہ اپنی زندگی کے تمام فیصلوں پر اختیار کھو بیٹھتی ہے اور مکمل کنٹرول شوہر کے پاس چلا جاتا ہے؟ یعنی وہ اپنی زندگی کے بارے میں چھوٹے چھوٹے فیصلے جیسے کوئی نیا ہنر سیکھنا، اپنے شوق کو آگے بڑھانا، یا زندگی کی وہ عام چیزیں جنہیں کرنے کے لیے تمام انسان آزاد ہوتے ہیں۔ کیا ایک شادی شدہ عورت یہ سب کچھ نہیں کر سکتی؟کیا شوہر کی پہلی ترجیح بیوی کی خوشی نہیں ہونی چاہیے؟ اگر بیوی کوئی ایسا کام کرنا چاہتی ہے جو نہ تو مکروہ ہے اور نہ حرام، اور وہ اپنی ذمہ داریاں بھی بخوبی نبھا رہی ہے، تو کیا شوہر کا اسے وجہ بتائے بغیر روکنا اور یہ کہنا کہ تمہیں مجھ سے سوال کرنے کا حق نہیں، میں شوہر ہوں اور تمہیں میری بات ماننی ہوگی"کیا یہ درست ہےاور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے؟ کیااسلام میں شوہر کو صرف ایک نگران سمجھا جاتا ہے، یا وہ بیوی پر حکمرانی کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے؟ کیا شوہر کے رویے کی کوئی حدود نہیں ہیں؟
تنقیح :بنیادی طور پر سائلہ گاڑی چلانا اور جم میں ورزش کرنا چاہتی ہے ،جبکہ شوہر اجازت نہیں دے رہا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا"وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌحَكِيمٌ " ترجمہ: اور ان عورتوں کو معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے مردوں کو ان پر حاصل ہیں،ہاں مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ’’ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ ‘‘یعنی مردعورتوں کے نگران ہیں ۔قوام، قیام، قیم عربی زبان میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی کام یا نظام کا ذمہ دار اور چلانے والا ہو، یعنی جس طرح ہر اجتماعی نظام کے لئے عقلاً اور عرفاً یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کوئی سربراہ اور حاکم ہو کہ اختلاف کے وقت اس کے فیصلہ سے کام چل سکے، جس طرح ملک و سلطنت اور ریاست کے لئے اس کی ضرورت سب کے نزدیک مسلم ہے، اسی طرح قبائلی نظام میں بھی اس کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی گئی اور کسی ایک شخص کو قبیلہ کا سردار اور حاکم مانا گیا ہے، اسی طرح اسی عائلی نظام میں جس کو خانہ داری کہا جاتا ہے اس میں بھی ایک امیر اور سربراہ کی ضرورت ہے، عورتوں اور بچوں کے مقابل اس کام کے لئے حق تعالیٰ نے مردوں کو منتخب فرمایا کہ ان کی علمی اور عملی قوتیں بہ نسبت عورتوں، بچوں کے زیادہ ہیں اور یہ ایسا بدیہی معاملہ ہے کہ کوئی سمجھدار عورت یا مرد اس کا انکار نہیں کر سکتا۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان آیات میں اللہ نے بتلا دیا کہ اگرچہ عورتوں کے حقوق مردوں پر ایسے ہی لازم ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر ہیں اور دونوں کے حقوق باہم مماثل ہیں، لیکن ایک چیز میں مردوں کو امتیاز حاصل ہے کہ وہ حاکم ہیں اور قرآن کریم کی دوسری آیات میں یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ یہ حکومت جو مردوں کی عورتوں پر ہے محض آمریت اور استبداد کی حکومت نہیں، بلکہ حاکم یعنی مرد بھی قانون شرع اور مشورہ کا پابند ہے، محض اپنی طبیعت کے تقاضہ سے کوئی کام نہیں کر سکتا، اس کو حکم دیا گیا ہے کہ ’’عاشروھن بالمعروف‘‘ (5:91) یعنی عورتوں کے ساتھ معروف طریقہ پر اچھا سلوک کرو ۔اسی طرح دوسری آیت میں’’عن تراض منھما وتشاور‘‘ (2:332) کی تعلیم ہے جس میں اس کی ہدایت کی گئی ہے کہ امور خانہ داری میں بیوی کے مشورہ سے کام کریں، اس تفصیل کے بعد مرد کی حاکمیت عورت کے لئے کسی رنج کا سبب نہیں ہو سکتی۔(معارف القرآن بتغییر )
ان آیات میں میاں بیوی کے تعلقات کا ایسا جامع دستور پیش کیا گیا ہے جس سے بہتر کوئی دستور نہیں ہو سکتا اور اگر اس جامع ہدایت کی روشنی میں ازدواجی زندگی گزاری جائے تو اس رشتہ میں کبھی بھی تلخی اور اختلاف پیدا نہ ہو،کیونکہ میاں بیوی کا رشتہ ایک انتہائی حساس اور نازک ترین رشتہ ہے،پرسکون ازدواجی زندگی کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب میاں بیوی میں سے ہر ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت رکھے،اس کے بغیر ازدواجی زندگی پرسکون نہیں ہوسکتی،عورت اگر یہ چاہے کہ میں شوہر کو گھر کا سربراہ اور اپنا بڑا تسلیم نہ کروں،اس کے مقام و مرتبے کا لحاظ نہ رکھوں،لیکن شوہر میرے حقوق میں ذرا بھی غفلت نہ برتے تو یہ شوہر کی حق تلفی ہے،اسی طرح اگر شوہر خود بیوی کے حقوق کی کوئی پرواہ نہ کرے،لیکن چاہے کہ بیوی مکمل طور پر میری مطیع و فرماں بردار بن کر رہے تو یہ بھی سراسر نا انصافی اور ظلم ہے،کیونکہ وہ اس کی بیوی ہے،زر خرید لونڈی نہیں۔
اسی طرح میاں بیوی کو چاہئے کہ ایک دوسرے کو خوش رکھنے کی حتی الامکان کوشش کریں ،ایک دوسرے کے ساتھ دلجوئی کیا کریں ،کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کی دلجوئی بھی فرماتے تھے، ان کے ساتھ مزاح بھی فرماتے تھے، حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دوڑ لگانا بھی ثابت ہے، جس جگہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پانی پیتی تھیں وہیں سے منہ لگا کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانی نوش فرماتے، اپنے وصال کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چبائی ہوئی مسواک کی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں ہی ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا۔ نیز ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنا صدقہ کے برابر اجر رکھتا ہے۔ یہ سب چیزیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو تعلیم دینے اور بیویوں کو خوش رکھنے کے لیے فرمائی تھیں، اس لیے شوہر کو چاہیے کہ ان مبارک سنتوں پر عمل کرکے بیوی کو خوش رکھنے اور اس کا دل جیتنے کی کوشش کرے۔
باقی عورت کسی بھی دینی یا دنیوی ضرورت کے لیے مکمل پردہ کی حالت میں شوہر کی اجازت سے گھر سے باہر جاسکتی ہے، بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔اگر کوئی عورت شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلی تو وہ شوہر کی نافرمانی کی وجہ سے سخت گناہ کا مرتکب ہو گی۔احادیث مبارکہ میں ایسی عورت کے بارے میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں شوہر کی اجازت سے خاتون کا ڈرائیونگ سیکھنا بشرطیکہ اس کی تربیت کے لیے غیرمحارم سے واسطہ نہ پڑتاہو اورشہر کے اندر گاڑی چلانا جائز ہے ،تاہم سفر شرعی کی مسافت یا اس سے زیادہ سفر ہو تو ساتھ میں محرم کا ہونا لازم ہے۔اسی اسی طرح ورزش نہ کرنے کی وجہ سے مردوں کی طرح خواتین بھی خطرناک بیماریوں جیسے ہارٹ اٹیک، شوگر اور بلڈ پریشر وغیرہ کا شکار ہوجاتی ہیں ،اس لئے شوہر کی اجازت کے ساتھ پردہ کی حالت میں ایسے لیڈیز فٹنس سینٹر جہاں نہ میوزک ہو ، اور نہ کوئی اور خلاف شرع کام ،وہاں جانے کی گنجائش ہے، البتہ ورزش کے لیے عورتوں کو اپنے گھرو ں میں ہی وزن کم کرنے کی تدبیریں اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے ۔تاہم شوہر کی اجازت کے بغیرگاڑی سیکھنے جانا، گاڑی چلانا یا فٹنس سینٹرجانا جائز نہیں ۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (2/ 1091):
عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر، فإذا شهد أمرا فليتكلم بخير أو ليسكت، واستوصوا بالنساء، فإن المرأة خلقت من ضلع، وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه، إن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته لم يزل أعوج، استوصوا بالنساء خيرا.
سنن الترمذي ت بشار (2/ 457):
عن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيما امرأة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة. هذا حديث حسن غريب.
صحيح مسلم (1/ 245):
عن المقدام بن شريح، عن أبيه، عن عائشة قالت: «كنت أشرب وأنا حائض، ثم أناوله النبي صلى الله عليه وسلم فيضع فاه على موضع في، فيشرب، وأتعرق العرق وأنا حائض،ثم أناوله النبي صلى الله عليه وسلم فيضع فاه على موضع في.
(التفسير المنير للزحيلي (2/ 328):
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلِلرِّجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ: ليس الزواج في الإسلام عقد استرقاق وتمليك، وإنما هو عقد يوجب حقوقا مشتركة ومتساوية بحسب المصلحة العامة للزوجين، فهو يوجب على الزوج حقوقا للمرأة، كما يوجب على المرأة حقوقا للزوج. وفي هذا التعبير الموجز ثلاثة أحكام:الأول- للنساء من حقوق الزوجية على الرجال مثل ما للرجال عليهن، مثل حسن الصحبة والمعاشرة بالمعروف، وترك المضارّة، واتقاء كل منهما الله في الآخرة، وطاعة الزوجة لزوجها، وتزين كل منهما للآخر....الثالث- للرجال درجة (أي منزلة) على النساء: وهي درجة القوامة والولاية، وتسيير شؤون الأسرة، كما قال الله تعالى: الرِّجالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّساءِ بِما فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلى بَعْضٍ، وَبِما أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوالِهِمْ
والخلاصة: الزواج شركة بين اثنين، وعلى كل شريك أن يؤدي للآخر حقوقه، ويقوم بما يجب عليه له بالمعروف، كماثبت في صحيح مسلم عن جابر: أن رسول الله صلّى الله عليه وسلّم قال في خطبته في حجة الوداع: «فاتقوا الله في النساء، فإنكم أخذتموهن بأمانة الله، واستحللتم فروجهن بكلمة الله، ولكم عليهن أن لا يوطئن فرشكم أحدا تكرهونه، فإن فعلن ذلك، فاضربوهن ضربا غير مبرح، ولهن رزقهن وكسوتهن بالمعروف۔
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 145):
فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها... وأما عدا ذلك من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة لا يأذن لها ولا تخرج ....وليس عدم التزيين خاصا بالحمام لما قاله الكمال. وحيث أبحنا لها الخروج فبشرط عدم الزينة في الكل، وتغيير الهيئة إلى ما لا يكون داعية إلى نظر الرجال واستمالتهم.
(تفسير السعدي تحت قوله تعالي وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ):
{مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ} أي: كل ما تقدرون عليه من القوة العقلية والبدنية وأنواع الأسلحة ونحو ذلك مما يعين على قتالهم، فدخل في ذلك أنواع الصناعات التي تعمل فيها أصناف الأسلحة والآلات من المدافع والرشاشات، والبنادق، والطيارات الجوية، والمراكب البرية والبحرية، والحصون والقلاع والخنادق، وآلات الدفاع، والرأْي: والسياسة التي بها يتقدم المسلمون ويندفع عنهم به شر أعدائهم، وتَعَلُّم الرَّمْيِ، والشجاعة والتدبير.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی
22/رجب /6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


