03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دم شکر کے وجوب کا علم نہ ہونا
86743حج کے احکام ومسائلجنایات حج کا بیان

سوال

دوران حج  مجھے ٹریول ایجنٹ نے کال کرکے بتایا   کہ آپ کی قربانی ہوگئی ہے لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ حج کی قربانی واجب ہوتی ہے، کیااس صورت میں میری قربانی ادا ہوگئی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   کسی  بھی شخص کی جانب سے بطور نائب ،ولی یا وکیل  کے،  دوسرے کی اجازت سے، اس کے  لئے   قربانی کرنا درست ہے ۔

صورت مسئولہ میں سائل کے والد ، سائل کی رضامندی سے، حج کے تمام مالی اخراجات  اپنی جانب سے  تبرعاًادا کر رہے تھے،  جس میں قربانی  بھی شامل تھي،لہذا  سائل کے والد کا بطور نائب  سائل  کے لئے  قربانی کروانے سے،سائل کی  قربانی ادا ہو گئی ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 67):

(ومنها) أنه تجزئ فيها ‌النيابة ‌فيجوز ‌للإنسان ‌أن ‌يضحي بنفسه وبغيره بإذنه؛ لأنها قربة تتعلق بالمال فتجزئ فيها النيابة كأداء الزكاة وصدقة الفطر؛ ولأن كل أحد لا يقدر على مباشرة الذبح بنفسه خصوصا النساء، فلو لم تجز الاستنابة لأدى إلى الحرج۔

وفيه ايضا (2/ 53):

والعبادة لا تتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديا بيد النائب، وإذا، أوصى فقد أناب وإذا لم يوص فلم ينب.

الفتاوى الهندية (5/ 294):

ومنها أنه تجري فيها النيابة فيجوز للإنسان أن يضحي بنفسه أو بغيره بإذنه.

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

26/رجب /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب