03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ کی خود کشی کی دھمکی کی وجہ سے طلاق نامہ پر دستخط کرنا
86685طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

شوہر کا بیان:

میں سلیمان اقبال ولد عمر اقبال حلفاً یہ بیان دیتا ہوں کہ میرے بھائی نے میری والدہ کے ساتھ مل کر جان بوجھ کر مسلسل چار گھنٹے تک مجھ پر ذہنی دباؤ ڈالا،مجھ سے گالم گلوچ کی،حد درجہ بد تمیزی کی،چیزیں توڑی گئیں،میری والدہ مجھے مرنے کی دھمکی دیتی رہی،میری پوزیشن میرے گھر میں مضبوط نہیں ہے،میری کوئی بھی بات نہیں سنی جاتی۔

میری شادی اپنی پسند کی ہے،پانچ سال سے میں نے اپنی بیوی کو گھر سے باہر رکھا ہوا ہے،پچھلے دو سال سے میری اپنے بھائی سے بات چل رہی تھی کہ عزت سے میری بیوی کو گھر لایا جائے،میرے گھر والے بہت مالدار خاندان میں میری شادی کرنا چاہتے تھے،وہ اس شادی کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے،وہ مجھے پہلے بھی مجبور کرتے تھے کہ میں اس بیوی کو چھوڑدوں۔

میں نے انہیں اپنی بیوی کے گھر اس لئے بھیجا تھا کہ وہ اس کو گھر لے آئیں گے،لیکن وہاں جا کر انہوں نے میری بیوی کے گھر والوں کو برا بھلا کہا اور مزید وقت مانگا کہ جب تک اس کے بھائی کی شادی نہیں ہوجاتی آپ کو انتظار کرناہوگا،جس پر دونوں خاندانوں میں بحث ہوئی،میرا بھائی 45 سال کا ہے اور 10 سال سے اس کے رشتے دیکھے جارہے ہیں،اس نے 25 ستمبر کو میرے علم میں لائے بغیر کاغذات تیار کروائے اور تمام تاریخیں غلط ڈالی گئیں کہ واپسی کی گنجائش نہ رہے اور یہ تمام کاغذات زبردستی مجھ سے جھگڑا کرکے اور مجھے والدہ کے مرنے کی دھمکی دےکر دستخط کروائے گئے،تمام تاریخیں غلط تھی،میں اللہ کو حاضر جان کر حلفا یہ بیان دیتا ہوں کہ میں نے دستخط صرف اور صرف ذہنی دباؤ اور اپنی والدہ کے مرنے کی دھمکی میں آکرکئے،نہ میری طلاق دینے کی نیت تھی اور نہ میں نے زبان سے طلاق کے الفاظ بولے۔

میں گواہی دیتا ہوں آج تک نہ کبھی تنہائی میں اور نہ کسی کی موجودگی میں ایسی نیت اور ارادہ کیا،25 ستمبر کو کاغذات میری اجازت اور رضامندی کے خلاف بنوائے گئے اور پورا پلان تیار کرکے 10 جنوری 2025 کو زبردستی دستخط لئے گئے،جس پر میں نے اپنے وکیل سے فوراً رجوع کیا اور اپنی بیوی کی طرف واپسی کی جو کہ 24 گھنٹے سے بھی پہلے تھی۔

بیوی کا بیان:

میں اقصیٰ سکندر ولد سکندر بخت بیان حلفی دیتی ہوں کہ میرا اور میرے شوہر کا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے، طلاق نامے کے نوٹس جو مجھے بھیجے گئے وہ تمام غلط تاریخوں کے غلط اوقات میں اور قانونی لحاظ سے بھی غلط طریقے سے بھیجے گئے،تاکہ ان کی واپسی کی کوئی گنجائش نہ رہے،جنوری کی 10 تاریخ کو تینوں کا غذات مجھے اکھٹے موصول ہوئے اور چوبیس گھنٹے کا دورانیہ مکمل ہونے سے پہلے میرے شوہر نے مجھ سے رجوع کرلیا اور مجھ کو بتا دیا تھا کہ تمام کا غذات زبردستی دستخط کروائے گئے ہیں،میری رضا مندی شامل نہیں تھی،وکلاء کی موجودگی میں ہم ملاقات کر چکے تھے، میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر بیان دیتی ہوں کہ میرے شوہر نے زبان سے نہ میرے سامنے اور نہ ہی کسی کی موجودگی میں ایسے الفاظ اختیار کئے جو ان سب چیزوں کا سبب بنے۔

تنقیح: سائلہ نے وضاحت کی ہے کہ والدہ کے مرنے کی دھمکی سے مراد یہ ہے کہ والدہ اسے دھمکی دے رہی تھی کہ اگر تم دستخط نہیں کروگے تو میں خود کو جان سے ماردوں گی اور والدہ جذباتی قسم کی ہیں،ان سے اس کا اقدام بعید بھی نہیں تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ کو اس بات یقین یا غالب گمان تھا کہ اگر آپ طلاق نامے پر دستخط نہ کرتے تو آپ کی والدہ خود کشی کا اقدام کرلیتی تو پھر مذکورہ صورت میں زبان سے طلاق کے الفاظ کہے بغیر مجبوراً محض طلاق نامے پر دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،کیونکہ جبراً دلوائی گئی تحریری طلاق شرعاً واقع نہیں ہوتی۔

لیکن اگر آپ کی والدہ نے محض آپ پر دباؤ ڈالنے کے لئے خود کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی اور آپ کو اس بات کا یقین یا ظن غالب تھا کہ اگر آپ طلاق نامے پر دستخط نہ کرتے تو آپ کی والدہ عملی طور پر خود کشی کا اقدام نہیں کرتیں تو پھر مذکورہ صورت میں تین طلاق پر مشتمل طلاق نامے پر دستخط کرنے سے تین طلاقیں واقع ہوگئی تھیں،جس کے بعد بیوی سے رجوع نہیں ہوسکتا،بلکہ موجودہ حالت میں دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" (1/ 379):

"رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان".

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "(7/ 175):

"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".

"الدر المختار " (6/ 129):

"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى ".

"البحر الرائق " (3/ 264):

"وقيدنا بكونه على النطق لأنه لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع اهـ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

27/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب