03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وہمی کے طلاق کاحکم
86736طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

بندہ وہم میں آکر سمجھ رہا ہو کہ جیسے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہوں۔ اور اس وہم میں آکر بیوی کو تین چار دن کا ٹائم دیا ہو کہ تم حلالہ کے لیے سوچو اور ہم حلالہ کر کے پھر دوبارہ نکاح کریں گے اور چار دن بعد بیوی سے پوچھا ہو کہ تمہیں حلالہ کرنا ہے یا نہیں اور بیوی کہے کہ مجھے حلالہ نہیں کرنا اور پھر وہ بندہ اپنی بیوی کو کہے کہ یہ بات تمہیں سمجھ میں آتی ہے ٹھیک ورنہ خلی ولی اور خلی ولی خلی ولی کا مطلب یہ ہو کہ طلاق، تو کیونکہ یہ شرط حرام ہے تو ایسے میں نکاح ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا  کہ میرا یہ کہنا کہ تمہیں یہ بات سمجھ آتی ہے کا مطلب یہ تھا کہ تمہیں حلالہ والی  بات سمجھ آتی ہےاور خلی ولی کے الفاظ کہنے سے مقصد نکاح ختم کرنا تھا اور اس لیے کہ اگر پہلے سے حلالہ کی صورت نہ بھی بن رہی ہو تو اب کے بعد حلالہ والی صورت بن جائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صرف وہم سے طلاق واقع نہیں ہوتی،جب تک کہ طلاق کے الفاظ نہ ادا کیے جائیں،تاہم  بیوی کو یہ کہنا کہ اگر تمہیں حلالہ والی بات سمجھ میں آتی ہے تو ٹھیک ورنہ خلی ولی، تواس صورت میں اگر شوہر کی نیت تین طلاق کی تھی اور عورت نےانکار بھی کیا تو پھر اس صورت میں تین  طلاق واقع ہوچکی ہیں۔

حوالہ جات

قال العلامۃ المرغیناني رحمہ اللہ:وبقية الكنايات إذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بائنة وإن نوى ثلاثا كانت بثلاث وإن نوى ثنتين كانت واحدة بائنة وهذا مثل قوله أنت بائن وبتة وبتلة وحرام وحبلك على غلوبك ،الحقي بأهلك وخلية وبرية ووهبتك لأهلك وسرحتك وفارقتك وأمرك بيدك واختاري وأنت حرة وتقنعي وتخمري واستتري واغربي واخرجي واذهبي وقومي وابتغي الأزواج ؛لأنها تحتمل الطلاق وغيره فلا بد من النية. ) الهداية:1/ 235)

وقال ابن مودود الموصلی رحمہ اللہ:وكنايات الطلاق لا يقع بها إلا بنية أو بدلالة الحال، ويقع بائنا إلا اعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة فيقع بها واحدة رجعية وألفاظ البائن قوله: أنت بائن، بتة، بتلة، حرام، حبلك على غاربك، خلية، برية، الحقي بأهلك، وهبتك لأهلك، سرحتك، فارقتك، أمرك بيدك، تقنعي، استتري، أنت حرة، اغربي، اخرجي، ابتغي الأزواج. ويصح فيها نية الواحدة والثلاث.

( الاختيار لتعليل المختار:3/ 132)

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (فـ) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.

( رد المحتار :3/ 296)

محمدشوکت

دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

28/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدشوکت بن محمدوہاب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب