| 86737 | غصب اورضمان”Liability” کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
میری عمر 21 سال ہے اور میں درجہ رابعہ کا طالب علم ہوں۔ ہمارا گھر پچھلے چار سالوں سے جنات کے لپیٹ میں تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے میرے ابو کا کافی نقصان کیا ،لیکن سوال یہ پوچھنا ہے کے ہم اللہ کی توفیق سے پانچوں وقت کی نماز پڑھتے ہیں ، لیکن 2023 کے نومبر میں میرے اندر جنات داخل ہوگئے پتہ نہیں کیسے ،تو اس سال یعنی 2024 میں انہوں نے میرے ذریعے بہت غلط کام کرائے ، اپنے گھر کا زیور بھی میرے ذریعے بیچ ڈالا اور ایک اور گھر، میرے بھائی کے سسرال والوں کا گھر، اُدھر سے بھی میرے ذریعے جنات نے ان کے چھوٹے بیٹے کےاندر داخل ہو کے اس نے سونا مجھے دیا اور میں نے وہ بھی ایک جگہ بیچ دیا جس کی قیمت ملا کر ٹوٹل تقریبا 15 لاکھ سے بیس لاکھ کے درمیان ہے۔ اب جب مسئلہ صحیح ہو گیا اس طرح سےکہ میرے گھر والے بتا تے ہیں کہ تمہارے سر میں پچھلے ایک ہفتہ سے بہت درد تھا ،تم کہتے تھے میرے اندر کوئی چیز پھر رہی ہے ،تو ہم نے ایک عامل سے رابطہ کیا تو اس نے قرآن وغیرہ پڑھا، کافی دیر عمل کرنے کے بعد انہوں نے میرے اندر سے ان جنات سے بات کی۔ میرے ابو بتاتے ہیں کہ تمہاری آوازاس وقت ایسے لڑکیوں والی ہوگئی اور جنات نے بتایا کہ یہ سارا ہم نے اس سے کروایا اور یہ بھی کہ کس کس طرح ہم نے اس سے یہ کام کروایا ۔ اس کے عمل وغیرہ کر کے انہوں نے ان جنات کو ختم کر دیا ،اس کے بعد سوکراٹھنے کے بعدمیری پچھلی ایک سال کی یادداشت چلی گئی تھی اور پچھلے ایک سال میں جو کچھ بھی ہوا مجھے کچھ یاد نہیں رہا، حالانکہ اس سال میرے بھائی کی شادی ہوئی تھی اور ہم نے گھر بھی تبدیل کیاتھا، مجھے شادی بھی بھول گئی، گھر تک بھول گیا، مجھے یہ بھی بھول گیا کہ میں درجہ رابعہ میں پڑھتا ہوں ۔ یہ سب مجھے میرے والدین نے بتایا مجھے ابھی بھی کچھ یاد نہیں ۔ توچونکہ میں خود اس دینی تعلیم میں ہوتو میرا سوال یہ ہے کہ میں نےجو اتنا نقصان کیا ہے اس کی وجہ سے میرے اوپر کوئی حد یا کوئی ضمان لازم آتی ہے یا نہیں ؟ یہ واقعہ 3 دسمبر 2024 کا ہے اور پچھلے سال نومبر سے لےکر ابھی 3 دسمبر تک سب کچھ بھول گیا ،مجھے یہ عامل والی بات بھی مجھے گھر والوں نے بتائی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں اگر آپ خود ان کاموں کا اقرار کرتے ہیں یا یہ کہ آپ کے ان افعال پر گواہ موجود ہیں تو اس صورت میں آپ نے جو نقصان کیا ہے اس کا ضمان آپ پر لازم ہے، تاہم اگرنہ گواہ موجود ہیں اور نہ خود آپ اقرار کرتے ہیں تو صرف اس بات سے کہ عامل نےآپ کے منہ سے جنات کے نام پر یہ باتیں نکلوائی ہیں ،اس کی وجہ سے آپ پر ضمان نہیں آئے گا۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ:وأما بيان ما تظهر به السرقة عند القاضي فنقول: السرقة الموجبة للقطع عند القاضي تظهر بأحد أمرين: أحدهما: البينة، والثاني: الإقرار. (بدائع الصنائع:7/ 81)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:وأخرج الصبي والمجنون؛ لأن القطع عقوبة وهما ليسا من أهلها، لكنهما يضمنان المال كما في البحر.(رد المحتار :4/ 83)
قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ:فخرج بالتكليف الصبي والمجنون؛ لأن القطع عقوبة وهما ليسا من أهلها فهما مخصوصان من آية السرقة لكنهما يضمنان المال وإن كان يجن ويفيق، فإن سرق في حال جنونه لم يقطع وإن كان في حال الإفاقة قطع. (البحر الرائق :5/ 54)
ولا يشترط كون الجاني على المال مكلفا، فيضمن الصبي ما أتلفه من مال على الآخرين، ولا عدم اضطراره، والمضطر في المخمصة ضامن، لأن الاضطرار لا يبطل حق الغير . (الموسوعة الفقهية الكويتية:(28/ 227)
محمدشوکت
دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
28/رجب المرجب1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدشوکت بن محمدوہاب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


