03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مبیع پر قبضہ سے پہلے بیع ختم کرنا
86805خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کو ختم کرنے کے مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! بعد از سلام مؤدبانہ گزارش ہے کہ میں نے تقریباً 3 سال پہلے ضلع نوشہرہ کے ایک ٹاؤن میں ایک پانچ مرلہ پلاٹ خریدا تھا، پلاٹ کی قیمت اس وقت 6 لاکھ روپے تھی۔ پلاٹ کی قیمت کی ادائیگی کے لیے میں نے پراپرٹی ڈیلر کو تین لاکھ روپے نقد دیے تھے اور تین لاکھ روپے کی عوض تین تولے سونا دیا تھا، اس وقت فی تولہ سونے کی قیمت 1 لاکھ 13 ہزار روپے تھی اور پراپرٹی ڈیلر نے مجھ سے سونا فی تولہ 1 لاکھ 5 ہزار روپے میں لے لیا۔ تین لاکھ روپے نقد اور تین تولے سونا دینے کے باوجود بھی تقریباً تین سال گزرنے کے بعد بھی پراپرٹی ڈیلر نے میرے بار بار مطالبے  پر بھی مجھے پلاٹ کا قبضہ نہ دیا اور ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ بناتا رہا، پھر میں نے پراپرٹی ڈیلر کو کہا کہ مجھے اب پلاٹ نہیں چاہیے اور مجھے میرے تین لاکھ روپے اور تین تولہ سونا واپس دے دو، لیکن پراپرٹی ڈیلر نے کہا کہ میں نے آپ کا دیا ہوا سونا بیچ دیا ہے اور میں آپ کو صرف 6 لاکھ روپے دوں گا۔میں نے مطالبہ کیا کہ آپ نے میرے پیسوں پر تین سال کاروبار کیا ہے اور میرے ساتھ دھوکہ بھی کیا ہے ،لہذا مجھے میرے پیسوں پر منافع دے دو یا مجھے تین لاکھ روپے اور تین تولہ سونا واپس کرو۔

کیا شرعی لحاظ سے مجھے پراپرٹی ڈیلر سے میرے پیسے اور سونا واپس لینا چاہیے یا مارکیٹ کے حساب سے مجھے منافع لینا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بیع میں ایجاب اور قبول کرنے کے بعد بیع تام ہوجاتی ہے ،اس سےخریدار پر لازم ہوتا  ہے کہ وہ ثمن ادا کرے اور بیچنے والے پرخریدی ہوئی چیز خریدار کے حوالے کرنا  لازم ہوتا ہے ۔ صورت مذکورہ میں آپ نے پہلے قیمت ادا کی ہے اب پراپرٹی ڈیلر پر لازم ہے کہ پلاٹ آپ کو حوالہ کرے ،لیکن تین سال عرصہ گزرنے کے باوجود ان کا  ٹال مٹول کرکے پلاٹ آپ کو حوالہ نہ کرناایک  ناجائز  عمل ہے ، البتہ اگر آپ اقالہ یعنی بیع ختم کروانا چاہتے ہیں تو اس صورت میں آپ دونوں کی رضامندی سے بیع کو اپنی قیمت اول پر ختم کرسکتے ہیں اور قیمت اول اس بیع میں   چھ لاکھ پندرہ ہزار متعین کی گئی ہے کیونکہ خریدار نے اس میں سونے کی قیمت متعین کرکے بائع کو دیدی تھی ،لہذا اگر فریقین رضا مندی سے عقد ختم کرتے ہیں تو اس صورت میں پراپرٹی  ڈیلر  پر لازم ہے کہ وہ آپ کو چھ لاکھ پندرہ ہزار روپے واپس کردے۔اور اگر  بیچنے والا خریدار سے بیع تام ہونے کے بعد پیسے لے کر اس سے کچھ کمائے  تو یہ کمائی بیچنے والے کی ملکیت ہے اور نقود متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتے ،اس لیےخریدار کےلیے اس منافع کو واپس لینا جائز نہیں ،کیونکہ بیچنے والے نے اپنی ملک میں تصرف کیا ہے ۔

حوالہ جات

قال العلامة الکاسانی رحمه الله:إذا تقايلا ولم يسميا الثمن الأول أو سميا زيادة على الثمن الأول أو أنقص من الثمن الأول، أو سميا جنسا آخر سوى الجنس الأول قل أو كثر أو أجلا الثمن الأول فالإقالة على الثمن الأول في قول أبي حنيفة رحمه الله: وتسمية الزيادة والنقصان والأجل والجنس الآخر باطلة سواء كانت الإقالة قبل القبض أو بعدها، والمبيع منقول أو غير منقول لأنها فسخ في حق العاقدين، والفسخ رفع العقد، والعقد رفع الثمن الأول فيكون فسخه بالثمن الأول ضرورة؛ لأنه فسخ ذلك العقد، وحكم الفسخ لا يختلف بين ما قبل القبض وبين ما بعده وبين المنقول وغير المنقول، وتبطل تسمية الزيادة والنقصان والجنس الآخر والأجل، وتبقى الإقالة صحيحة؛ لأن إطلاق تسمية هذه الأشياء لا يؤثر في الإقالة؛ لأن الإقالة لا تبطلها الشروط الفاسدة وبخلاف البيع؛ لأن الشرط الفاسد إنما يؤثر في البيع؛ لأنه يمكن الربا فيه.

قال العلامة الکاسانی رحمه الله:ولو تقايلا البيع في المنقول ثم إن البائع باعه من المشتري ثانيا قبل أن يسترده من يده يجوز البيع وهذا يطرد على أصل أبي حنيفة ومحمد وزفر، أما على أصل زفر فلأن الإقالة فسخ مطلق في حق الكل، وعلى أصل أبي حنيفة فسخ في حق العاقدين والمشتري أحد المتعاقدين وعلى أصل محمد فسخ عند عدم المانع من جعله فسخا، ولا مانع ههنا من جعله فسخا بل وجد المانع من جعله بيعا؛ لأن بيع المبيع المنقول قبل القبض لا يجوز فكانت الإقالة فسخا عندهم فلم يكن هذا بيع المبيع المنقول قبل القبض فجاز. (بدائع الصنائع :5/307)

قال العلامة الزیلعی رحمه الله: (وهلاك المبيع يمنع) أي يمنع صحة الإقالة؛ لأن شرط صحة الإقالة قيام العقد؛ لأنها رفع العقد والعقد يقوم به وهو محل له فلا يبقى بعد هلاكه بخلاف هلاك الثمن حيث لا يمنع من صحتها؛ لأن الثمن ليس بمحل للعقد فلا يشترط قيامه وهذا؛ لأنه يثبت له حكم الوجود في الذمة بالعقد فكان حكما للعقد وحكم الشيء يعقبه فلا يكون محلا له؛ لأن المحل شرط والشرط يسبق فكان بينهما تناف، ولهذا يبطل البيع بهلاك المبيع قبل القبض لا بهلاك الثمن.(تبیین الحقائق :4/73)

محمد یونس بن امین اللہ 

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی

28 رجب المرجب ‏، 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد یونس بن امين اللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب