| 86691 | نماز کا بیان | مسافر کی نماز کابیان |
سوال
میرا تعلق کوہستان سے ہے اور رہائش ایبٹ آباد میں ہے، کوہستان میں ہماری زمینیں وغیرہ بھی ہیں جوابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہیں ، ہم ایبٹ آباد میں سرکاری مکان میں رہتے ہیں ،جبکہ میں پشاور کی ایک یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں اورایک ہاسٹل میں رہتا ہوں ،ہاسٹل کی ایک سال کی فیس میں نے جمع کروا دی ہے ۔اب جب میں اپنےگھر ایبٹ آباد سے پشاور جاؤں تو اگر میرا ارادہ 15 دن سے کم کا ہو تو پوری نماز ادا کروں گا یا قصر نماز پڑھوں گا؟
نوٹ : میں ایک دفعہ 15 دن سے زائد پشاور میں رہ چکا ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں جب آپ پشاور جائیں تو آپ قصر کے بجائے پوری نماز ادا کریں ،اگرچہ آپ کا ارادہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ہو،کیونکہ پشاور میں جب آپ نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اورہاسٹل کی سال بھر کی فیس بھی جمع کرادی اور ایک بار پندرہ دن مسلسل وہاں رہ بھی چکے ہیں ،تو ہاسٹل کا علاقہ آپ کا وطنِ اقامت بن گیا، اور جب تک تعلیم کےسلسلے میں وہاں آنا جانا رہے گا او رآپ کا سامان وہاں موجود ہوگا اس وقت تک آپ وہاں پوری نماز پڑھیں گے، چاہے تین یا چار دن کا قیام ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 97):
فالمسافر يصير مقيما بوجود الإقامة، والإقامة تثبت بأربعة أشياء: أحدها: صريح نية الإقامة وهو أن ينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مكان واحد صالح للإقامة فلا بد من أربعة أشياء: نية الإقامة ونية مدة الإقامة، واتحاد المكان، وصلاحيته للإقامة.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 104):
إنما يصير الوطن وطن إقامة بشرطين: أحدهما أن يتقدمه سفر والثاني: أن يكون بين وطنه الأصلي وبين هذا الموضع الذي توطن فيه بنية الإقامة مسيرة ثلاثة أيام فصاعدا.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 147):
"كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر ... وأما وطن الإقامة فهو الوطن الذي يقصد المسافر الإقامة فيه، وهو صالح لها نصف شهر".
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
28/رجب /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


