03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسافر وطن سکونت میں سفرکی نیت کرنے کے بعد قصر کرے گا
86692نماز کا بیانمسافر کی نماز کابیان

سوال

اگر میں شرعی مسافت طے کر کے کسی علاقے میں جاؤں(جہاں نماز قصر کا حکم ہو ) اور ابتدائی دنوں میں میرا ارادہ 15 دن سے زائد رہنے کا ہو اور میں ان دنوں میں پوری نماز پڑھوں ،لیکن کچھ دن(دو یا تین دن ) گزر جانے کے بعد  میرا ارادہ تبدیل ہو جائے کہ میں نے 15 دن سے پہلے ہی واپس جانا ہے ،اب ارادہ تبدیل ہونے کی صورت میں اس مقام پر پوری نماز پڑھوں گایا قصر کی نماز ادا کروں گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت ِ مسئولہ میں جب آپ نےشرعی مسافت طے کرکے کسی جگہ پندرہ دن سے زیادہ گزارنے کی نیت کی تو آپ وہاں مقیم ہوگئے ،اب آپ اس جگہ پوری نماز ادا کریں گے۔ چند دن گزرنے کے بعد آپ نے جب سفر کی نیت کی  تو صرف نیت کرنے سے آپ مسافر نہیں ہوں گے، بلکہ سفر کی نیت کے ساتھ شرعی سفر شروع    کرنا بھی ضروری ہے، اس کے بعد   آپ اس جگہ نماز قصر ادا کرسکتے ہیں۔چونکہ آپ جس شہر میں داخل ہوگئے اور اقامت کی نیت کی ،اب اقامت  کی نیت کا اعتبار ہوگا، مقیم ہونے کی وجہ سے آپ پوری نماز ادا کریں گے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 93):

[فصل بيان ما يصير به المقيم مسافرا]

وأما بيان ما يصير به المقيم مسافرا: فالذي يصير المقيم به مسافرا نية مدة السفر والخروج من عمران المصر فلا بد من اعتبار ثلاثة أشياء: أحدها: مدة السفر، والثاني: نية مدة السفر، والثالث: الخروج من عمران المصر.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 97):

الثالث: الخروج من عمران المصر فلا يصير مسافرا بمجرد نية السفر ما لم يخرج من عمران المصر وأصله ما روي عن علي رضي الله عنه أنه لما خرج من البصرة يريد الكوفة صلى الظهر أربعا ثم نظر إلى خص أمامه وقال: لو جاوزنا الخص صلينا ركعتين ولأن النية إنما تعتبر إذا كانت مقارنة للفعل؛ لأن مجرد العزم عفو، وفعل السفر لا يتحقق إلا بعد الخروج من المصر فما لم يخرج لا يتحقق قران النية بالفعل فلا يصيرمسافرا.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

28/رجب /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب