| 86679 | ایمان وعقائد | ایمان و عقائد کے متفرق مسائل |
سوال
قبر ميں سوالات و جوابات کے لئے عربی آنا ضروری ہے ،یا اردو میں بھی ہم جواب دے سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قبر میں سوال و جواب کس زبان میں ہوگا ؟اس بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی صراحت نہیں ملتی، جس کو بنیاد بنا کر یہ یقینی طور پر یہ کہا جاسکےکہ سوال وجواب خاص اس زبان میں ہی ہوگا۔بہتر یہی ہے کہ ایسی چیزوں کی کھوج لگانے کے بجائے توقف اختیار کیا جائےکہ قبر میں سوال وجواب کون سی زبان میں ہوگا؟ یہ معاملہ اللہ جل شانہ کے سپرد کیا جائےکہ اللہ رب العزت قادر مطلق ہے، وہ سوال جواب کے لیے کسی بھی زبان کا انتخاب کر سکتا ہے ۔
اصولی جواب کے بعد یہ واضح رہے کہ اس بارے میں اہل علم حضرات مختلف آراء رکھتے ہیں:
۱۔بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ مردے سے قبر میں سوال وجواب اس کی مادری زبان میں ہوگا۔
۲۔دوسرے اہل علم کی رائے یہ ہے کہ قبر میں باز پرس عربی زبان میں ہوگی اور اللہ تعالی عربی کا فہم اور اس پر تکلم کی قدرت مردے کو عطا کردے گا۔
بہتر یہی ہے کہ جن چیزوں کی صراحت قرآن وحدیث میں نہیں ان کے بارے میں توقف اختیار کیا جائے اور ان کا معاملہ اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ کے سپرد کیا جائے۔
حوالہ جات
شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور (ص147):
الثالثة عشرة: وقع في فتاوى شيخنا شيخ الإسلام علم الدين البلقيني أن الميت يجيب السؤال في القبر بالسريانية، ولم أقف لذلك على مستند، وسئل الحافظ إبن حجر عن ذلك، فقال: ظاهر الحديث أنه بالعربي، قال: ويحتمل مع ذلك أن يكون خطاب كل أحد بلسانه.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
28/ رجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


