| 86248 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! کچھ لوگ پاکستان میں رہتے ہیں، وہ غیر اسلامی ممالک میں غیر مسلم کا اکاؤنٹ ہیک کرکے اس کی رقم اپنے یا کسی اور کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرتےہیں، ان کا کہنا ہےکہ یہ تو کافر کا مال ہے، جوغیرذمی کافرہے اوراگروہ مرجائے تو اس کا کوئی وارث نہیں ہوتا، وہ رقم ایسے ہی اکاؤنٹ میں پڑی رہتی ہےتوکیاان کااس طرح غیرمسلم کی رقم اس کےاکاؤنٹ سےاپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرناجائزہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دورانِ جہادحاصل ہونےوالےمالِ غنیمت کےعلاوہ عام حالت میں ذمی یامعاہدکفار(جن کےملک کےساتھ ہمارےملک کاامن کامعاہدہ ہو)کےاموال پرکسی بھی طریقےسےقبضہ کرنایااسےغصب کرناجائز نہیں، لہذاصورت مذکورہ میں کسی غیرمسلم کااکاؤنٹ ہیک کرکےاس سےرقم لیناغصب شمارہوتاہے، جس سےبچنا ضروی ہے۔
حوالہ جات
قال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى: قال أبو حنيفة وأبو يوسف رضي الله عنهما: هو إزالة يد المالك عن ماله المتقوم على سبيل المجاهرة والمغالبة بفعل في المال. (بدائع الصنائع: 7/ 143)
وقال العلامةأبو محمد غانم البغدادي رحمه الله تعالى: إذا دخل مسلم دار الحرب بأمان فقتل واحدا منهم أو استهلك مالا أو غصب متاعا لا يلزمه غرمه ويصير ملكا، ويكره له ذلك، وفي الغصب يرد عليهم.(مجمع الضمانات، ص: 393)
وأخرج الإمام أحمدرحمه الله في "مسنده" من حديث أنس بن مالك رضي الله عنه قال: ما خطبنا نبي الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: " لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له ". ( 19/ 376: 12383)
راز محمد بن اخترمحمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
7رجب الخیر1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


