03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تقسیم میراث
86783میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

 سوال: میرے پھوپااورپھوپی کی کوئی اولاد نہیں تھی، میرے پھوپاکے نام ایک مکان ہے ،جس کی تقسیم وراثت ابھی تک نہیں ہوئی ، میرے پھوپا کا انتقال ٫1989 میں ہوا تھا، ان کےورثہ میں ایک بیوہ (جو میری سگی پھوپی تھیں) اور تین بھائی تھے۔

پھوپاکے والدین کا انتقال ان سے پہلے ہو چکا تھا۔

پھرپھوپاکے ایک بھائی افتخار الدین صدیقی کا انتقال 1990 ٫میں ہوا، ان کے ورثہ میں بیوہ، ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں۔

پھر میری پھوپی کا انتقال 2009 ٫میں ہوا ، پھوپی کے ورثہ  میں دو بھتیجے اور دو بھتیجیاں ہیں ،پھوپی کے والدین اور بھائی جواکلوتے بھائی تھے (سائل کے والد) کا انتقال پھوپی  سے پہلے ہوا تھا، 1998 ٫میں ۔

پھرپھوپاکے بھائی ناصر الدین صدیقی کا انتقال 2011 ٫میں ہوا ، جن کے ورثہ میں ایک بیوہ تین بیٹےاورایک بیٹی ہے۔

پھر پھوپا کےدوسرے بھائی ذوالفقار الدین صدیقی کاانتقال  2024 ٫میں ہوا ، جن کے ورثہ میں بیوہ اور ایک بیٹا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس مکان کی تقسیم کیسے ہوگی؟ اور ہرایک وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں چونکہ پھوپاکےانتقال کےبعدسےمکان کومیراث کےطورپرتقسیم نہیں کیاگیاتھا،لہذاپھوپاکےانتقال کےوقت سےہی میراث کی تقسیم کی جائےگی۔

پھوپا مرحوم   کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو (اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کاقرضہ اداکیاجائےگا،پھر  اگرمرحوم   نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائزوصیت کی ہےتوترکہ کےایک تہائی تک اس کواداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائے،اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ (بیوہ اورتین بھائیوں)میں تقسیم کیاجائےگا۔

تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ مکان کی مارکیٹ ویلیو لگوائی جائے،جس وقت مکان کومیراث کےطورپر تقسیم کرنےکاارادہ ہے، اس وقت جو قیمت بنتی ہے،ورثہ کےشرعی حصوں کےمطابق تقسیم کیاجائےگا۔

مثال کےطورپر مکان کی فرضی قیمت ایک کروڑ ہوتواس کودرج ذیل طریقےسےتقسیم کیاجائےگا۔

۱۔ سب سےپہلےپھوپا کی میراث تقسیم کی جائےگی۔پھوپاکی وفات کےوقت موجودورثہ (ایک بیوہ،تین بھائیوں )میں میراث تقسیم ہوگی۔مکان کی جتنی قیمت بنتی ہے،اس کوچارحصوں میں تقسیم کیاجائےگا،ایک حصہ (چوتھائی )بیوہ کا ہوگا۔باقی تینوں بھائیوں کو بھی ایک ایک حصہ دیاجائےگا۔

فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوکل میراث  میں سے25%فیصدبیوہ (آپ کی پھوپی)کاہوگا،باقی مرحوم کےہربھائی کو،25,25% فیصدحصہ ملےگا۔

فرضی قیمت کےمطابق  بیوہ  کاحصہ 25 لاکھ،اسی طرح ہر بھائی کاحصہ بھی 25لاکھ ہوگا۔

۲۔پھوپامرحوم کےانتقال  کےبعدان کےبھائی افتخارالدین کاانتقال ہواتوان کی میراث(مرحوم بھائی سےملنےوالاحصہ یعنی 25لاکھ ) وفات کےوقت موجود ورثہ (بیوہ،ایک بیٹااورچاربیٹیوں )میں تقسیم کی جائےگی۔

بیوہ کوآٹھواں حصہ ملےگااورباقی میراث ایک بیٹےاورچاربیٹیوں میں تقسیم ہوگی،بیٹےکو دوحصےاور ہربیٹی کو ایک ایک حصہ دیاجائےگا ۔

فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوبیوہ کو 3.125%حصہ دیاجائےگا،بیٹےکو 7.2916%فیصدملےگااورہربیٹی کو 3.6458%فیصدحصہ دیاجائےگا۔

فرضی قیمت کےمطابق  بیوہ کوآٹھواں حصہ (312500روپے)ملیں گے،باقی میراث 2187500روپےایک بیٹےاورچاربیٹیوں میں تقسیم ہونگے،بیٹےکودوحصے(729166.7روپے)دیےجائیں گے۔اور ہربیٹی کو ایک ایک حصہ(364583.3روپے) ملیں گے۔

۳۔پھوپامرحوم کےبھائی کےانتقال کےبعدآپ کی پھوپی مرحومہ کاانتقال ہوا،توان کی میراث (شوہرسےملنےوالاحصہ25لاکھ  )وفات کےوقت موجود ورثہ (دوبھتیجوں) میں  تقسیم کی جائےگی۔

 مرحومہ کےاورکوئی ورثہ نہ ہوں تو اس کی میراث  صرف بھتیجوں کوملےگی،بھتیجیوں کوحصہ نہیں ملےگا۔

فیصدی اعتبارسےہربھتیجےکو12.5%ملےگا۔

فرضی قیمت کےمطابق    دونوں بھتیجوں میں سےہربھتیجےکو 1250000روپےملیں گے۔

۴۔اس کےبعد پھوپامرحوم کےدوسرےبھائی ناصرالدین صدیقی کاانتقال ہواتوان کی میراث(مرحوم بھائی سےملنےوالاحصہ25لاکھ) وفات کےوقت موجودورثہ (بیوہ،تین بیٹےاورایک بیٹی )میں تقسیم کی جائےگی۔

فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتو میراث کاآٹھواں حصہ3.125%فیصدبیوہ کاہوگا،باقی میراث میں سےہربیٹےکو 6. 25%فیصدحصہ ملےگا،اوربیٹی کو 3.125%فیصدحصہ دیاجائےگا۔

فرضی قیمت کےمطابق  بیوہ کوآٹھواں حصہ (312500روپے)ملیں گے،باقی میراث 2187500روپےتین بیٹےاورایک بیٹی میں تقسیم ہوگی ،ہربیٹےکودودوحصےیعنی (625000روپے)دیےجائیں گےاوربیٹی کوایک حصہ دیاجائےگایعنی 312500روپے ملیں گے۔

۵۔اس کےبعد پھوپامرحوم کےتیسرےبھائی ذوالفقارالدین صدیقی کاانتقال ہواتوان کی میراث(مرحوم بھائی سےملنےوالاحصہ) وفات کےوقت موجودورثہ (بیوہ اورایک بیٹے )میں تقسیم کی جائےگی۔

فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتومیراث کاآٹھواں حصہ3.125%فیصدبیوہ کاہوگا،باقی میراث 21.875%بیٹےکی ہوگی۔

فرضی قیمت کےمطابق بیوہ کوآٹھواں حصہ(312500روپے)ملیں گے،باقی میراث 2187500روپےبیٹےکوملیں گے۔

۱۔۔۔پھوپامرحوم کی میراث :

فرضی قیمت 1کروڑ

فیصدی حصہ

ورثہ

نمبرشمار

2500000

25%

بیوہ (ربع)

  1.  

2500000

25%

بھائی افتخارالدین (عصبہ)

  1.  

2500000

25%

بھائی  ناصرالدین (عصبہ)

  1.  

2500000

25%

بھائی ذوالفقارالدین (عصبہ)

  1.  

10000000

100%

مجموعہ

 

۲۔اس کےبعدپھوپامرحوم کےبھائی افتخارالدین صدیقی صاحب کاانتقال ہواتومکان میں سےان کاحصہ درج ذیل طریقے سےتقسیم ہوگا:

فرضی قیمت 25لاکھ

فیصدی حصہ25%

ورثہ

نمبرشمار

312500

3.125%

بیوہ (ثمن )

  1.  

729166.7

7.2916%

بیٹا (عصبہ)

  1.  

364583.3

3.6458%

بیٹی (عصبہ)

  1.  

364583.3

3.6458%

بیٹی  (عصبہ)

  1.  

364583.3

3.6458%

بیٹی (عصبہ)

  1.  

364583.3

3.6458%

بیٹی (عصبہ)

  1.  

2500000

25%

مجموعہ

 

۳۔اس کےبعدآپ کی پھوپی کاانتقال ہواتومکان میں سےان کاحصہان کواپنےشوہرسےملنےوالی میراث (25لاکھ روپے) درج ذیل طریقےسےتقسیم  کی جائےگی۔

فرضی قیمت 25لاکھ

فیصدی حصہ25%

ورثہ

نمبرشمار

1250000

12.5%

بھتیجا(عصبہ)

  1.  

1250000

12.5%

بھتیجا(عصبہ)

  1.  

م

م

بھتیجی محروم

  1.  

م

م

بھتیجی محروم

  1.  

2500000

25%

مجموعہ

 

۴۔اس کےبعدپھوپامرحوم کےدوسرےبھائی ناصرالدین صدیقی کاانتقال ہواتومکان میں سےان کاحصہ(ان کواپنےبھائی سےملنےوالی میراث (25لاکھ روپے)درج ذیل طریقےسےتقسیم کیےجائیں گے۔

فرضی قیمت 25لاکھ

فیصدی حصہ25%

ورثہ

نمبرشمار

312500

3.125%

بیوہ (ثمن آٹھواں حصہ)

  1.  

625000

6. 25%

بیٹا (عصبہ)

  1.  

625000

6. 25%

بیٹا (عصبہ)

  1.  

625000

6. 25%

بیٹا (عصبہ)

  1.  

312500

3.1 25%

بیٹی (عصبہ)

  1.  

2500000

25%

مجموعہ

 

5۔اس کےبعدپھوپامرحوم کےتیسرےبھائی ذوالفقارالدین صدیقی کاانتقال ہواتو مکان میں سےان کاحصہ (ان کواپنےبھائی سےملنےوالی میراث (25لاکھ روپے) درج ذیل طریقےسےتقسیم کیےجائیں گے۔

 

فرضی قیمت 25لاکھ

فیصدی حصہ25%

ورثہ

نمبرشمار

312500

3.125%

بیوہ (ثمن آٹھواں حصہ)

  1.  

2187500

21.875%

بیٹا (عصبہ)

  1.  

2500000

25%

مجموعہ

 

حوالہ جات

"السراجی فی المیراث "5،6 : الحقوق المتعلقہ بترکۃ المیت :قال علماؤنارحمہم اللہ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأبتکفینہ وتجہیزہ من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقصی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذوصایاہ من ثلث مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ ۔

قال اللہ تعالی فی سورۃ النساء:یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔

"سورۃ النساء" آیت 12:وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

29/رجب1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب