03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مخصوص شرائط کے ساتھ ٹریکٹر فروخت کرنے کا حکم
86814خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں، محمد علی ولد محمد امین، نے راہب خان ولد ارباب خان کو ایک ٹریکٹرجس کی قیمت 14 لاکھ روپے ہے، فروخت کیا۔ معاہدہ اس طرح طے ہوا کہ راہب خان یہ رقم دو قسطوں میں ادا کرے گا: پہلی قسط سات لاکھ روپےابھی  بیس جنوری تک اور باقی سات لاکھ روپے آئندہ سال ادا کرے گا۔ معاہدے میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ اگر راہب خان پہلی قسط مقررہ تاریخ تک ادا نہ کر سکا، تو اس کا مکان جو غوث آباد میں واقع ہے، اور ساتھ ہی ٹریکٹر، دونوں محمد علی لیں گے۔ مکان لینا خریدار پر جرمانہ تصور ہوگا کیونکہ اس نے مقررہ وقت پر رقم ادا نہیں کی۔ مزید یہ کہ یہ شرط بھی رکھی گئی کہ اگر محمد علی ٹریکٹر کے کاغذات دوسری قسط کی ادائیگی پر راہب خان کے حوالے نہ کرے تو پہلی قسط، جو سات لاکھ روپے ہے، ٹریکٹر کی حتمی قیمت سمجھی جائے گی، کیونکہ بغیر کاغذات کے ٹریکٹر کی یہی قیمت ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں محمد علی و لد محمد امین نے جو ٹریکٹر راہب خان ولد ارباب خان کو بیچا ہے، وہ مندرجہ ذیل  دو وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے:

۱۔مشتری کی جانب سے  پہلی قسط کی عدم ادائیگی کی صورت میں بائع کا   اس کےمکان پر بطور جرمانہ قبضہ  کرنے کی  شرط  فاسد ہے،  اور اس میں کسی کے مال  کو ناحق کھانا ہے،جو کہ    شرعاً جائز نہیں۔

۲۔  شریعت مطہرہ  میں خریدو فروخت سے متعلق  اصول یہ ہے کہ عقد کے  وقت   مبیع  کی ایک ہی قیمت معلوم اور متعین ہو ، قیمت کو کسی   معاملہ کےساتھ معلق کرکے اس کو مجہول  بنانا ، یا عقد کے وقت  مبیع کے لئے دو قیمتیں متعین کرنا  جائز نہیں ۔ صورت مسئولہ میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر بائع یعنی محمد علی ٹریکٹر کے کاغذات خریدار یعنی راہب خان کو دوسری قسط کی ادائیگی کے وقت حوالہ نہ کرے تو پہلی قسط ،جو کہ  سات لاکھ روپے ہے،  وہ ہی  ٹریکٹر کی قیمت شمار ہوگی۔ لیکن اگر کاغذات حوالہ کیے جائیں، تو ٹریکٹر کی قیمت چودہ لاکھ روپے ہوگی۔اس طرح قیمت کو ان شرائط کے ساتھ مشروط کرنا اور دو مختلف صورتوں میں دو الگ الگ قیمتیں متعین کرنا  جائز نہیں۔

چونکہ مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر یہ عقد فاسد ہے، اس لیے اس کا فسخ کرنا ضروری ہے۔ خریدار (راہب خان) پر لازم ہے کہ وہ ٹریکٹر فروخت کنندہ (محمد علی) کو واپس کرے ۔اس کے بعد چاہے تو باہمی رضامندی سے یوں عقد کیا جاسکتا ہے ،  جس میں ٹریکٹر کی ایک ہی قیمت متعین ہو۔ اور  فروخت کنند ہ اپنے لئے  خیارِ نقد کی شرط رکھ لے، یعنی اگر خریدار وقت پر قیمت ادا نہ کرے تو فروخت کنندہ مبیع (ٹریکٹر) کو خریدار سے واپس لے سکے ۔ وقت پر ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے خریدار سے مالی جرمانہ لینے کی شرط لگانا اور مالی جرمانہ لینا  دونوں ناجائز ہیں اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے ۔

حوالہ جات

سورۃ النسآء(29 )

یا أَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَأْکُلُوا أَمْوالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْباطِلِ إِلاّ أَنْ تَکُونَ تِجارَةً عَنْ تَراض مِنْکُمْ وَ لا تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللّهَ کانَ بِکُمْ رَحیماً

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 240):

أحدهما أن كل ما كان مبادلة مال بمال يفسد بالشرط الفاسد كالبيع  وما لا فلا كالقرض.

«بحوث في قضايا فقهية معاصرة» (ص12):

«أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد…… فلو قال البائع مثلا: إن أديت الثمن بعد شهر، فالبضاعة بعشرة، وإن أديته بعد شهرين، فهو باثني عشر، وإن أديته بعد ثلاثة أشهر، فهو بأربعة عشر، وافترقا على ذلك بدون تعيين أحد هذه الشقوق، زعما من المشتري أنه سوف يختار منها ما يلائمه في المستقبل، فإن هذا البيع حرام بالإجماع. ويجب على العاقدين أن يعقداه من جديد بتعيين أحد الشقوق واضحا.

«مختصر القدوري» (ص84):

«وإذا قبض المشتري المبيع في البيع الفاسد بأمر البائع وفي العقد عوضان كل واحد منهما مال ملك المبيع ولزمته قيمته ‌ولكل ‌واحد ‌من ‌المتعاقدين ‌فسخه فإن باعه المشتري نفذ بيعه»

«البناية شرح الهداية» (8/ 52):

«ولو اشترى على أنه إن لم ينقد الثمن إلى ثلاثة أيام فلا بيع بينهما جاز، وإلى أربعة أيام لا يجوز عند أبي حنيفة وأبي يوسف وقال محمد: يجوز إلى أربعة أيام أو أكثر، فإن نقد في الثلاث جاز في قولهم جميعا .

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (5/ 44):

وأفاد في البزازية ‌أن ‌معنى ‌التعزير ‌بأخذ ‌المال ‌على ‌القول ‌به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

جمیل الرحمن

دار الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی

7 /شعبان  6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمن بن عبدالودود

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب