| 86719 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک لڑکے کی ایک لڑکی سے فیس بک پر دوستی ہوئی، دوستی پیار میں بدل گئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کیا اور شادی کے لیے راضی ہوگئے۔ لڑکی طلاق یافتہ ہے اور پہلے شوہر سے ایک بچے کی ماں ہے۔ لڑکا بچے کو اپنے ساتھ رکھنے پر راضی ہے، لیکن دونوں طرف کے والدین نکاح کے لیے راضی نہیں ہیں، والدین کی عدمِ رضا کے باوجود لڑکے اور لڑکی نے بغیر گواہوں کے، باقاعدہ حق مہر رکھ کر آپس میں واٹسپ پر کال کے ذریعے ایجاب و قبول کر لیا۔ کیا یہ نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اگر نکاح نہیں ہوا تو نکاح کرنے کی کیا صورت ہے؟ جبکہ لڑکی دوسرے ملک میں ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ایسے دو گواہوں کا ہونا شرط ہے جو بیک وقت دونوں کا ایجاب و قبول براہ راست سن سکیں، لہٰذا مسئولہ صورت میں، گواہوں کی عدم موجودگی میں کیا گیا نکاح صحیح نہیں۔ دونوں پر واجب ہے کہ ایک دوسرے سے دور رہیں، اور اگر آپس میں نکاح کرنا ہی چاہتے ہیں تو نکاحِ صحیح کریں۔
لڑکی دوسرے ملک میں ہو تو نکاح کاصحیح اورآسان طریقہ یہ ہے کہ لڑکی اولیاء کو اعتماد میں لے کر ٹیلیفون پر لڑکے کی جانب کسی کو اپنے نکاح کا وکیل بنادے، اور پھر وہ وکیل لڑکے اور گواہوں کی موجودگی میں اس کا نکاح اس لڑکے کے ساتھ کردے۔
حوالہ جات
وفی الھندیة:
و منہا الشہادۃ قال عامۃ العلماء انہا شرط جواز النکاح هکذا فی البدائع ( المگیری مصری کتاب النکاح ص ۲۵ ج ۱ط۔ ماجدیہ ج۱ص۲۶۷)
وفی الترمذی:
عن ابن عباس ؓ ان النبی ﷺ قال البغایا اللاتی ینکحن انفسہن بغیر بینۃ والا صح انہ موقوف علی ابن عباس ؓ رواہ الترمذی ۔ اقول والموقوف فی مثل ہذا لہ حکم المرفوع کما تقرر فی الاصول (ترمذی مع حاشیہ ص ۱۳۰ ج ۱ و ص ۱۳۱ ج ۱ ظفیر)
عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما قولہ: لا نکاح إلا ببینۃ۔ (سنن الترمذي ۱؍۱۴۰ وصححہ)
فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 313)
النكاح الفاسد ليس نكاحا؛ لأنه لا يفيد حكمه وهو الملك.
مؤطا امام محمد(421/1) :
عن أبي الزبير أن عمررضي الله عنه اتى برجل في نكاح لم يشهد عليه الا رجل وامرأة، فقال عمر: هذا نكاح السر ولانجيزه، ولو كنت تقدمت فيه لرجمت.
وفی سننِ الدارقطنی(342/4) :
عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا نكاح إلا بولي وشاهدي عدل.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 94)
(قوله: عند حرين أو حر وحرتين عاقلين بالغين مسلمين، ولو فاسقين أو محدودين أو أعميين أو ابني العاقدين) متعلق بينعقد بيان للشرط الخاص به، وهو الإشهاد فلم يصح بغير شهود لحديث الترمذي «البغايا اللاتي ينكحن أنفسهن من غير بينة» ولما رواه محمد بن الحسن مرفوعا «لا نكاح إلا بشهود» فكان شرطا ولذا قال: في مآل الفتاوى لو تزوج بغير شهود ثم أخبر الشهود على وجه الخبر لا يجوز إلا أن يجدد عقدا بحضرتهم. اهـ.
المبسوط للسرخسي (5/ 158)
النكاح الفاسد أصله غير منعقد فالسبب الفاسد لا يثبت إلا الملك الحرام، وموجب النكاح ملك الحل، وبين الحل والحرمة منافاة، فإذا انعدم إثبات الملك الحلال بالسبب الفاسد والملك الحرام بالنكاح لا يكون خلا السبب عن الحكم، والأسباب الشرعية إنما تعتبر لأحكامها فكل سبب خلا عن الحكم كان لغوا
امرأة وكلت رجلا بأن يزوجها من نفسه فقال: زوجت فلانة من نفسي يجوز، وإن لم تقل: قبلت كذا في الخلاصة.
ویصح التوکیل بالنکاح۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۶۹)
وفي الفتح: ویجوز للواحد أن ینفرد بعقد النکاح عند الشہود علی اثنین إذا کان ولیا لہما، أو وکیلاً عنہما۔ (فتح القدیر ۳؍۲۹۹) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۵؍۲؍۱۴۲۹ھ
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
29/7/1446ھ
بغیرگواہوں کےایجاب وقبول کرکےنکاح کرلیاتودوبارہ نکاح صحیح کاکیاطریقہ ہوگا؟
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


