| 86745 | خرید و فروخت کے احکام | بیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان |
سوال
میرا ایک میڈیکل اسٹور ہےجس میں سینکڑوں قسم کی ادویہ ہوتی ہیں، حتیٰ کہ ایک ہی فارمولے کی25،30 مختلف کمپنیوں کی برانڈز بھی موجود ہوتی ہیں۔اب ایک کمپنی کی چند ادویہ جس کا رزلٹ بھی عمدہ ہے میں خریدتا ہوں ،کمپنی ماہوار کچھ پیسے مجھے اس مد میں کمیشن دیتی ہے، کیا یہ جائز ہے؟
(تنقیح) : میرا ایک میڈیکل اسٹور ہےجس میں سینکڑوں قسم کی ادویہ ہوتی ہیں، حتیٰ کہ ایک ہی فارمولے کی 25 سے 30 مختلف کمپنیوں کی برانڈز بھی موجود ہوتی ہیں۔ اب ایک کمپنی کی چند ادویہ جس کا رزلٹ بھی عمدہ ہے میں خریدتا ہوں، تو کمپنی عقدکے وقت ایک مخصوص فیصد کی رعایت(ڈسکاؤنٹ) دیکر عقد کرتی ہے ۔ اس رعایت کے حساب سےجو رقم بنتی ہے اس کا کچھ حصہ کمپنی عقد کے وقت چھوڑتی ہے ، اور باقی رقم قیمت سمیت مجھ سے وصول کرتی ہے، اور مخصوص مدت (ایک ماہ یا دو ماہ ) کے بعد واپس کر دیتی ہے، کیا یہ جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فریقین کے درمیان عقد کے وقت مبیع کی جو رقم متعین ہو جائے، تو مشتری پر صرف وہی رقم ادا کرنا لازم ہے۔ لہٰذا اگر کمپنی کے ساتھ عقد کے وقت ڈسکاؤنٹ کے بعد بقیہ رقم پر عقد ہوا ہو، تو ایسی صورت میں کمپنی کسٹمر سے زائد رقم لینے کا حق نہیں رکھتی۔ اس لیۓ کہ جس قیمت پر عقد معاملہ طے ہوا ہے اس سے زائد کی وصولی دراصل خریدار ی میں کچھ قرض دینے کی شرط ہے،جو بلا جواز ہے جس سے معاملہ فاسد ہوجاتا ہے ۔
اس کی متبادل جائز صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کمپنی اور کسٹمر کے درمیان عقد اصل قیمت پر یا جتنا ڈسکاؤنٹ فوری دینا ہواس کے مطابق ہو ۔ اس کے بعد کمپنی اپنی صوابدید پر کسٹمر کو ڈسکاؤنٹ دے دے، اور یہ رقم کسی بھی وقت باہمی رضامندی سے ادا کرے ۔ اورکمپنی یہ واضح کرے کہ ڈسکاؤنٹ دینے کا فیصلہ صرف کمپنی کی صوابدید پر منحصر ہوگا، کسٹمر کو اس پر کوئی حق حاصل نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
«سنن أبي داود» (3/ 283 ت محيي الدين عبد الحميد):
3504 - حدثنا زهير بن حرب، حدثنا إسماعيل، عن أيوب، حدثني عمرو بن شعيب، حدثني أبي، عن أبيه، حتى ذكر عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم یضمن، ولا بيع ما ليس عندك.
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 240):
أحدهما أن كل ما كان مبادلة مال بمال يفسد بالشرط الفاسد كالبيع وما لا فلا كالقرض.
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (6/ 114):
«وقالوا لو باع باثني عشر، وحط عنه درهمين ثم عقدا بعشرة لا ينفسخ الأول لأنه مثله إذ الحط يلتحق بأصل العقد إلا في اليمين
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (1/ 241):
(المادة 356) حط البائع مقدارا من الثمن المسمى بعد العقد صحيح ومعتبر مثلا لو بيع مال بمائة قرش ثم قال البائع بعد العقد حططت من الثمن عشرين قرشا كان للبائع أن يأخذ مقابل ذلك ثمانين قرشا فقط إن هبة البائع مقدارا من الثمن المسمى للمشتري أو حطه مقدارا منه عنه أو إبراءه من بعضه بعد العقد صحيح ومعتبر سواء أكان المبيع قائما أم هالكا حقيقة أم حكما وسواء أكان البائع قد قبض الثمن أم لم يقبضه ولا يشترط في هذا الحط قبول المشتري لأن الحط إبراء والإبراء لا يتوقف على القبول حسب المادة
جمیل الرحمن
دار الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی
2 /شعبان 6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


